محدث میڈیا
رکن
- شمولیت
- مارچ 02، 2023
- پیغامات
- 1,020
- ری ایکشن اسکور
- 34
- پوائنٹ
- 96
اللہ تعالی نے رمضان کے روزے فرض کیے ہیں، ہر مسلمان، بالغ، عقل مند، تندرست اور مقیم شخص پر رمضان کے روزے رکھنا واجب ہے۔
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 183)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جائو۔‘‘
اور فرمایا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ (البقرة: 185)
’’رمضان کا مہینا وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ہدایت کی اور (حق و باطل میں) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں، تو تم میں سے جو اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ (صحيح البخاري، الإيمان: 8)
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘
اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ بغیر کسی عذر کے، سستی کی وجہ سے، جان بوجھ کر چھوڑ دے، تو اس نے اسلام کا اہم ترین رکن چھوڑ دیا ہے۔ وہ مجرم ہےاس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ رب کے حضور توبہ واستغفار کرے۔
اس پر اس روزے کی قضائی بھی لازم ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مریض اور مسافر پر روزہ چھوڑنے کی صورت میں قضا لازم کی ہے حالانکہ ان کا عذر ہوتا ہے۔ لہٰذا بغیر عذر کے چھوڑنے والے پر قضا کا واجب ہونا بدرجہ اولیٰ ہے۔
والله أعلم بالصواب.
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (البقرة: 183)
’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزہ رکھنا لکھ دیا گیا ہے، جیسے ان لوگوں پر لکھا گیا جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جائو۔‘‘
اور فرمایا:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ وَبَيِّنَاتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقَانِ فَمَنْ شَهِدَ مِنكُمُ الشَّهْرَ فَلْيَصُمْهُ (البقرة: 185)
’’رمضان کا مہینا وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو لوگوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ہدایت کی اور (حق و باطل میں) فرق کرنے کی واضح دلیلیں ہیں، تو تم میں سے جو اس مہینے میں حاضر ہو وہ اس کا روزہ رکھے۔‘‘
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
بُنِيَ الإِسْلاَمُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَإِقَامِ الصَّلاَةِ، وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ، وَالحَجِّ، وَصَوْمِ رَمَضَانَ (صحيح البخاري، الإيمان: 8)
’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے: اس بات کی شہادت کہ اللہ کے سوا کوئی معبود حقیقی نہیں اور یہ کہ حضرت محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں اور نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا اور رمضان کے روزے رکھنا۔‘‘
اگر کوئی شخص رمضان کا روزہ بغیر کسی عذر کے، سستی کی وجہ سے، جان بوجھ کر چھوڑ دے، تو اس نے اسلام کا اہم ترین رکن چھوڑ دیا ہے۔ وہ مجرم ہےاس نے کبیرہ گناہ کا ارتکاب کیا ہے، اس پر لازم ہے کہ وہ رب کے حضور توبہ واستغفار کرے۔
اس پر اس روزے کی قضائی بھی لازم ہے؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مریض اور مسافر پر روزہ چھوڑنے کی صورت میں قضا لازم کی ہے حالانکہ ان کا عذر ہوتا ہے۔ لہٰذا بغیر عذر کے چھوڑنے والے پر قضا کا واجب ہونا بدرجہ اولیٰ ہے۔
والله أعلم بالصواب.