• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جاہلیتِ قدیم و جدید

شمولیت
نومبر 01، 2022
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
35
بسم اللہ الرحمن الرحیم

جاہلیتِ قدیم و جدید

عہدِ جہالتِ اولیٰ اور قرونِ ضلالتِ حاضرہ میں وہ عجب التباس و امتزاج پایا جاتا ہے کہ فرق و تمییز محال اور امتیازِ محض کارِ صعب نظر آتا ہے۔ موسوم بہ ’’تمدّنِ جدید‘‘ در حقیقت، نقابِ خیرہ‌کنندہ اوڑھے ہوئے جاہلیتِ صریحہ ہے، کہ جس نے قوانینِ الٰہیہ کے معارض و محارب ہو کر اپنی خودساختہ معیشت و معقولات کے بل پر آفاق و انفس میں نزاع کا علم بلند کر رکھا ہے۔

جہاں بھی دیدۂ عبرت‌نگاہ دوڑائیے، ہزارہا فرعونیانِ عصر جلوہ‌گر دکھائی دیتے ہیں؛ ہر ایک اپنے نفسِ مدہوش کا اسیر، اور اپنی عقلِ جزوی کا اس قدر مدّعی کہ گویا شارعِ قوانین اور مُنشئِ نوامیسِ عالم ہے۔ اور پھر فرعونِ اولین کی تقلید میں اپنے اتباعِ غافل کو یہی نعرۂ بیہودہ سناتے ہیں کہ: "ہم ہی راہنما و ہادی ہیں، اور جو ہم تجویز کریں وہی رشد و صلاح کی انتہائے کمال ہے۔"

عہدِ حاضر کی موسوم بہ جمہوریت کا حاصل یہی ہے کہ حکمِ قطعی و فیصلۂ ناطق قوم کے مجمعِ عام (اسمبلی) پر منحصر سمجھا گیا ہے، یہاں تک کہ فرمانِ قدسی کو بھی اپنے خودساختہ فیصلوں کے نیچے روند دیا جاتا ہے۔ افسوس! کہ یہی ضلالت اُن ممالکِ مدعیانِ اسلام میں بھی رائج ہے، جو ظاہر میں شعارِ توحید کا دم بھرتے ہیں مگر باطن میں کافرہ جمہوریت اور مُلحدہ اشتراکیت کے سامنے سجدہ‌ریز ہیں۔ اور ان کے اذکارِ شبانہ‌روزی یہی ہیں کہ "جمہوریت یا اشتراکیت کے بغیر چارۂ کار نہیں"؛ حالانکہ یہ انکارِ صریح اور استخفافِ جلی ہے دینِ خداوندی کا۔

حقیقتِ توحیدِ ربوبیت یہ ہے کہ خالقِ کائنات کو نہ فقط مُبدعِ وجود، بلکہ مقتدرِ مطلق و متفرد فی الامر مانا جائے؛ اُس کے اقتدارِ اعلیٰ کو فوق الفوق تسلیم کیا جائے؛ اور اُس کے قوانین کو جملہ قوانینِ ارضی و سماوی پر مقدم و حاکم قرار دیا جائے۔ حلال وہی جو اوامرِ ربانی سے حلال ہو، اور حرام وہی جو نواہیِ سبحانی سے حرام ٹھہرے۔ پس جو کوئی غیر اللہ کے وضع کردہ قوانین کو جائز و مشروع جانے، وہ در حقیقت عین کفر و شرک کا مرتکب ہے، اور ذاتِ باری کی صفتِ حاکمیت پر دست‌درازی کرتا ہے۔

چنانچہ ربِّ قدیر نے بنی‌ اسرائیل کے احبار و رہبان کی شان میں فرمایا: ﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِّن دُونِ اللَّهِ

یعنی انہوں نے اللہ کے سوا اپنے علماء و رہبان کو ارباب تسلیم کیا۔ یہ ربوبیت نہ بہ معنیِ خالقیت و رازقیت تھی، نہ ہی قبض و بسطِ موت و حیات، بلکہ صرف اس باب میں تھی کہ اُنہیں مُجیز و مُجازِ تشریعِ حلال و حرام مان لیا گیا تھا۔ پس اللہ نے اس فعلِ مذموم کو "اتخاذِ ارباب" قرار دیا۔

اصلِ ایمان اور سرّ توحید یہی ہے کہ اللہ جل جلالہٗ کی حاکمیت کو بلا اشتراک و بلا استثناء تسلیم کیا جائے؛ اُس کے قوانین کو جملہ خودساختہ نوامیس پر فوقیت دی جائے؛ اور اُس کے رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے احکام پر بلا چون و چرا تسلیم و انقیاد اختیار کیا جائے۔ یہی تسلیم و رضا عبودیت کی معراج اور بندگی کا خالص مظہر ہے۔
 
Top