• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جرح والتعدیل کے متعلق ایک سوال

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
اسلام علیکم،
اگر حافظ ابن حجر، حافظ ذہبی اور دیگر متاخرین محدثین جرح و التعدیل کے معاملے میں کسی راوی پر کویی حکم لگاییں تو کیا اس کی سند اس راوی کے ہمعصر تک پہنچانی لازمی ہے؟ مثلا اگر حافظ ابن حجر اور دوسرے متاخرین کسی راوی کو ثقہ قرار دیتے ہیں، اور ان کے علاوہ، اس راوی کے کسی ہمعصر سے اس کی توثیق یا تضعیف ثابت نہیں تو کیا متاخرین کے حکم کو قابل قبول مانا جاے گا یا نہیں؟ اور کیا اس طرح راوی سے جہالت کا حکم اٹھایا جا سکتا ہے؟ ایک اور مثال دیتا ہوں: فرض کریں اگر متاخرین محدثین، جنہوں نے اُس راوی کو نہیں دیکھا جس پر وہ حکم لگا رہے ہیں، یہ حکم لگایں کہ فلان راوی ثقہ ہے، لیکن اسی راوی کے ہمعصر محدثین سے اس راوی پر جرح ثابت ہو، تو کیا متاخرین کی تعدیل کو رد نہیں کیا جاے گا؟ نیز یہ کہ کیا وہ راوی جس پر حکم لگایا جا رہا ہے، اس کے ہمعصر تک سند پہنچانا لازمی ہے؟
جزاکم اللہ!
 
Top