ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 838
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
جشنِ آزادی کی بدعت کا شرعی حکم ؛ شیخ ابن باز کے فتاویٰ کی روشنی میں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
ایک واضح امر ہے کہ شریعتِ اسلامیہ نے عیدوں کی تعداد دو مقرر فرمائی ہے:
(۱) عید الفطر اور (۲) عید الاضحی۔
سوا ان کے جو کوئی نئی عید، نیا جشن، کوئی قومی دن، یا وطنی یومِ آزادی مقرر کرے اور اس میں اجتماع، تزئین، مبارکباد، ترانے، خوشی و سرود، جھنڈے و آتش بازی وغیرہ بدعتی امور کو رواج دے، تو وہ محض بدعات بلکہ تقلیدِ کفار ہے۔
شیخ ابن باز فرماتے ہیں :
أما اليوم الوطني، والاحتفال بيوم وطني، أو في أي يوم، أو في ليلة الرغائب، كل هذا بدعة، كلها من البدع، ومن التشبه بأعداء الله.
جہاں تک یومِ وطنی اور قومی دن منانے کا تعلق ہے، یا کسی بھی دن کو منانے کا، یا لیلۃ الرغائب کو منانے کا؛ یہ سب بدعتیں ہیں، یہ تمام چیزیں بدعت میں شامل ہیں، اور اللہ کے دشمنوں کی مشابہت میں سے ہیں۔
[فتاوى الجامع الكبير حكم الاحتفال باليوم الوطني والأسابيع الدعوية]
اللہ کے دشمن کفار کے ساتھ ساتھ وہ نام نہاد مسلمان بھی، جو زبان سے کلمہ پڑھ کر عمل میں کفار کی راہ اپنائے ہوئے ہیں، ’’یومِ آزادی‘‘ اور اس قبیل کی وطنی عیدوں (جیسے 14 اگست، 15 اگست اور دیگر ایام) پر مگن رہتے ہیں۔ ان ایام میں یہ لوگ وطن کی حمد و ثناء میں جھوٹے اور فریب بھرے نغمے گاتے ہیں، ایسے الفاظ زبان پر لاتے ہیں جو توحید کے خلاف ہوتے ہیں اور جن میں شرک و قوم پرستی کا تعفن بھرا ہوا ہے، شرکیہ وطنی جھنڈے کو چومتے اور اس کی سلامی دیتے ہیں، آتش بازیاں اور رقص و سرور کی محافل سجاتے ہیں، اور یوں شریعتِ مطہرہ کو پسِ پشت ڈال کر کفار و مشرکین کی عادات اور رسوم میں مشابہت اختیار کرتے ہیں۔
شیخ ابن باز فرماتے ہیں :
الواجب على المسلم أن يستقل بنفسه، وأن يتباعد عن مشابهة أعداء الله، كما أمره الله بذلك، والرسول صلى الله عليه وسلم حذر الأمة من اتباع سنن من كان قبلها، الأمم الكافرة اليهود والنصارى والمجوس أو غيرهم من الكفرة
مسلمان پر لازم ہے کہ وہ اپنے طور پر چلے اور اللہ کے دشمنوں کی مشابہت اختیار کرنے سے دور رہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اس کا حکم دیا ہے۔ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کو اس بات سے خبردار کیا ہے کہ وہ اپنے سے پہلے گزرنے والی امتوں یعنی کافر قوموں یہود، نصاریٰ، مجوس اور ان کے علاوہ دیگر کفار کے طریقوں کی پیروی نہ کرے۔
[فتاوى نور على الدرب لابن باز، ج : ١، ص : ٢٠٠]
پس وطن پرستوں سے پوچھا جائے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی آزادی یا بدر کی فتح کا سالانہ جشن منایا؟ کیا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایران و روم کی فتح پر یومِ آزادی مقرر کیا؟ کیا صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے کھی وطن کی جشن آزادی منائی؟
ہرگز نہیں! تو آج کے کلمہ گو وطن پرست کس دلیل سے یہ اعمال انجام دیتے ہیں؟
جشنِ آزادی بھی کفار کے ایجاد کردہ تہواروں اور شعائر میں سے ہیں، جن کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں۔ اور ’’وطن کی جشن آزادی‘‘ منانے والی بدعت اکثر اوقات بدعتِ مُکَفِّرہ کے درجے تک پہنچتی ہے، کیونکہ اس کے لوازمات میں ایسے صریح شرکیہ افعال پائے جاتے ہیں جو توحیدِ خالصہ کو پامال اور ایمان کے قلعے کو منہدم کر دیتے ہیں مثلا:
❁ وطنیت کے بت کی حمد و ثناء بیان کرنا، اس کی بڑائی و کبریائی کا گیت گانا، گویا وہی معبود ہو۔
❁ وطن کی خاطر ولاء و براء کا اعلان کرنا، یعنی ہم وطن کافر سے محبت اور دوسرے وطن کے مسلمان سے محض وطنیت کی بنا پر بغض و عداوت رکھنا۔
❁ وطن کی خاطر جینے مرنے کا عہد کرنا، نعرے لگانا کہ ’’دل دیا ہے جاں بھی دیں گے اے وطن تیرے لیے‘‘، حالانکہ جان و مال صرف اللہ کے دین کے لیے قربان کرنا مشروع ہے۔
❁ وطنی ترانے کے وقت پرچم کی تعظیم میں کھڑے ہونا، ادب سے ہاتھ باندھ کر گویا نماز پڑھنے کی سی ہیئت اختیار کرنا اسی طرح رفع الیدین کر کے وطنی پرچم کو سلامی دینا۔
یہ تمام اعمال نہ صرف بدعت بلکہ صریح شرک ہیں، جو غیر اللہ کی عبادت، تذلل اور عاجزی کے زمرے میں داخل ہیں۔ اور جب انسان اپنی وفاداری، محبت، نفرت، حتیٰ کہ جان دینے اور جینے کا معیار اللہ اور اس کے دین کے بجائے وطن کو بنا لے، تو یہ شرکِ اکبر کی ایک کھلی صورت ہے۔ اسی سبب یہ وطنی عید اور جشنِ آزادی کی بدعت اکثر و بیشتر بدعتِ مُکَفِّرہ کے اس فلک شگاف درجے تک جا پہنچتی ہے جس کے بعد انسان کی نسبت اسلام سے منقطع ہو جاتی ہے، الا یہ کہ اللہ اس پر توبہ کی توفیق دے۔
والله ولي التوفيق، وهو حسبنا ونعم الوكيل
Last edited: