ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 838
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
جشنِ میلاد کے دلائل کا تنقیدی مطالعہ
بسم اللہ الرحمن الرحیم
دلیل نمبر ۱
قُلْ بِفَضْلِ اللّٰہِ وَبِرَحْمَتِہٖ فَبِذٰلِکَ فَلْیَفْرَحُوْا
(یونس: ۵۸)
مخالفینِ سنت اس آیت کو پکڑ کر جشنِ میلاد کی دلیل بناتے ہیں کہ اللہ نے فرمایا اپنی رحمت پر خوش ہو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑی رحمت کون سی؟ لہٰذا میلاد کے نام پر جشن، جلوس اور رقص و سرود جائز ہیں۔
جواب نمبر ۱
حضرات! پہلے یہ تو بتائیے کہ یہ آیت تم پر نازل ہوئی یا صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر؟!
کیا تم اس آیت کے اولین مخاطب تھے یا سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے اصحابِ کرام رضی اللہ عنہم؟ اگر واقعی اس آیت کا مطلب یہی تھا کہ ہر سال بارہ ربیع الاول کو جھنڈیاں لگاؤ، جلوس نکالو، نعتیں گاؤ، عورتوں کو نچاؤ اور میلاد نہ کرنے والوں کو وہابی، بدمذہب اور گستاخ کہو (معاذ اللہ) تو پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ عمل کیوں نہ کیا؟ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے کیوں نہ کیا؟ تابعین و تبع تابعین نے کیوں نہ کیا؟ اگر وہ اس آیت سے یہ مفہوم نہ سمجھے تو تم کون ہوتے ہو نئی تفسیر گھڑنے والے؟ یہ آیت کے نام پر تحریف ہے، نہ کہ تفسیر۔
جواب نمبر ۲
اللہ تعالیٰ قرآن میں فرماتا ہے:
فَانْقَلَبُوْا بِنِعْمَۃٍ مِّنَ اللّٰہِ وَفَضْلٍ لَّمْ یَمْسَسْہُمْ سُوْءٌ
(آلِ عمران: ۷۴)
یعنی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جہاد سے اللہ کی نعمت و فضل کے ساتھ واپس آئے۔
اب بتائیے! کیا ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس فضل و نعمت کی خوشی منانے کے لیے سالانہ جشن منعقد کیا؟ کیا جلوس نکالے؟ یا ڈھول بجائے؟ اگر تمہارے اصول پر دلیل پکڑی جائے تو اس آیت سے بھی ہر سال جہاد واپسی کا جشن ثابت ہونا چاہیے۔ لیکن ایسا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور نہ ہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ تمہارے استدلال کی جڑ ہی کھوکھلی ہے۔
جواب نمبر ۳
اب ذرا اپنے "صدر الافاضل" مولانا نعیم الدین مراد آبادی کی تفسیر سنو جو تمہارے ہی گھر کی شہادت ہے۔ وہ سورہ یونس کی اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
’’فرح کسی پیاری اور محبوب چیز کے پانے سے دل کو جو لذت حاصل ہوتی ہے اسکو فرح کہتے ہیں معنی یہ ہے کہ ایمان والوں کو اللہ کے فضل و رحمت پر خوش ہونا چاہئے کہ اس نے انہیں مواعظ اور شفاء صدور اور ایمان کے ساتھ دل کی راحت و سکون عطا فرمائے حضرت ابن عباس و حسن و قتادہ نے کہ اللہ کے فضل سے اسلام اور اس کی رحمت سے قرآن مراد ہے ایک قول یہ ہے کہ فضل اللہ سے قرآن اور رحمت سے احادیث مراد ہیں‘‘۔
[خزائن العرفان، ص: ۲۵۶، ناشر: المجدد احمد رضا اکیڈمی]
اب سنو!
اس تفسیر سے پہلی بات یہ نکلی کہ "خوش ہونا" دل کا معاملہ ہے، نہ کہ ڈھول تاشے بجانا، جلوس نکالنا، کیک کاٹنا اور بے ہودہ رسومات۔
دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ اس آیت میں میلاد کا ذکر ہی نہیں بلکہ یہاں تو خوشی ایمان، اسلام، قرآن اور وعظ و نصیحت پر کرنے کا حکم ہے۔
کیا تم نے کبھی ان چیزوں پر خوشی منائی؟ کبھی اسلام پر خوشی کے جلوس نکالے؟ کبھی قرآن کے نزول پر مٹھائیاں بانٹیں؟ نہیں! بلکہ جس چیز کا آیت میں دور دور تک ذکر نہیں، اس کی نام نہاد خوشی کے نام پر پورے ملک میں بدعات اور خرافات پھیلا رکھی ہیں۔
پس معلوم ہوا کہ سورۂ یونس کی آیت کو جشنِ میلاد کی دلیل بنانا قرآن کی تفسیر نہیں بلکہ تحریف ہے۔ قرآن نے جس خوشی کا حکم دیا ہے وہ ایمان، اسلام اور قرآن کی خوشی ہے، نہ کہ بارہ ربیع الاول کے میلاد کے نام پر بدعات، خرافات اور فسادات۔