ظفر اقبال
مشہور رکن
- شمولیت
- جنوری 22، 2015
- پیغامات
- 282
- ری ایکشن اسکور
- 22
- پوائنٹ
- 104
ظفر اقبال ظفر)
جشن میلاد اور نظریہ پاکستان:
قارئین کرام! نظریہ پاکستان کو دیکھا جائے تو یہ ایک اسلامی نظریہ ہی نہیں تھا بلکہ یہ ایک عقیدہ اور حقیقت کی عکاسی تھی جو نظریہ کے طور پر سامنے آئی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلمان اور ہندوں دو الگ قومیں ہیں ہر قوم کا ایک آپنا مذہب ہے (ہندووں کا بت پرستی اور مسلمانوں کا توحید خالص)دو الگ عقیدے رکھنے والے لوگوں کا اکٹھا رہنا ناممکن ہے کیونکہ شروع دن سے ہی حق و باطل اور شرک وبدعت کی معرکہ آرائی چلی آ رہی ہے(و قل جآء الحق و زهق الباطل. ان الباطل كان زهوقا/سوره اسراء، آیه 81)
بت پرستی اور توحید خالص ایک ساتھ نہیں چل سکتے اسی لیے الگ رہ کر ہی عقیدہ و نظریہ پاکستان پر عمل کیا جا سکتا ہے جس کی بنیادپر مسلمان ہندووں کی خباثتوں سے بچتے اور آپنا باقی ماندہ ملی و مذہبی تشخص بچانے کے لیے الگ ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے مگر قربانیوں کا لا متناہی سلسلہ جو شروع ہوا آج تک جاری ہے اور آزادی کی قیمت ہم نے لاکھوں قربانیوں کی صورت میں ادا کی ۔
مگر افسوس صد افسوس کہ 68سال سے نظریہ پاکستان کی جو دہجیاں اڑائیں گئیں ان کی مثال نہیں ملتی ۔نظریہ پاکستان کا بنیادی مقصد پاؤں کی تیز دہار ی سے پھول کی پتیوں کی طرح مثل دیا گیا‘بدعات و خرافات اور تحریف و تاویل کا زہر اصل عقیدے ‘منہج ‘اورنظریہ کو دیمک کی طرح آئے روز کھاتا ہوا انجام کار تک پہنچانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑ ا گیا ۔
آج یہ سب کچھ دیکھ کر شرمندگی سے سر جھک جاتا ہے کہ ابتدا ء سے آج تک نظریہ اور عقیدہ کو لے کر جنگ و جدل کا آخرکیا فائدہ تھا اگر انہی روایات کو دوبارہ دہرانہ تھا تو لاکھوں قربانیوں کو کیو ں پیش کیا گیا؟ ان قربانیوں کو آج کیوں خواہشات و خود پسندی کی نظر کیا جا رہا ہے ؟آج کیوں ان قربانیوں پہ سیا ست کو چمکایا گیا ؟آخر کس لیے لاکھوں قربانیوں کا نظرانہ دیا گیا ؟ آخر آزادی کے نام پر بہنوں اور ماؤں کی آبروریزی کیوں داؤں پہ لگائی گئی ؟کیا اس لیے کہ ہم آپنی من مانیاں کرتے رہیں اور مرضی و خواہشات کے بت کی پوجا کی جائے اور لا الہ الاّ اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ملک خدا داد کو حاصل کر کے بت پرستی و بدعات و خرافات اور تقلید شخصی و تحریفات و تاویلات باطلہ کو دین کا نام دے کر جس قدر نظریہ پاکستان اور اسلامی تعلیمات کی ممکن ہو سکے اسی قدر دہجیاں اڑائیں جائیں ۔اگر اسی نظریہ کی بنیاد پر وطن کو حاصل کر کے اسی نظریہ کی شاہ رگ کو کاٹ کر آپنے ہاتھوں قتل کرنا تھا تو دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے نام پہ کیوں آپنی ماؤں ‘بہنوں ‘بیٹیوں ‘کی چھاتیاں کٹوائیں گئیں ؟کس لیے دہلنوں کے سہاگ کو کٹوایاں گیا؟کس لیے بچوں کو یتیم ‘عورتوں کو بیواں کروایاں گیا ؟کس لیے نوجوانوں کی جوانیوں کی تجارت کی گئی ؟کس لیے بڑھاپے میں والدین سے ان کے بڑھاپے کو چھننے دیا؟کس لیے علماء حق کو کالے پانیوں کی سزائیں دیں گئیں؟ کس لیے علماءحق پہ بغاوت کے مقدمات کو برداشت کیا گیا؟کس لیے شہیدین کو بالاکوٹ کی سر زمین پہ شہید ہونا پڑا؟خداراہ ذرا سوچیں کیا اس لیےوطن عزیز کو حاصل کیاتھا ؟کیا یہ نظریہ پاکستان تھا‘ کہ عیاشی و خود گرزی اور من مانی کر کے آزادی کے نام پہ دینے والی قربانیوں کو خاک میں ملاتے ہوئے‘ نظریہ پاکستان کے اساس کو کھوکھلا کیا جائے اور اغیار کی خوشنودی حاصل کی جائے اور مسلمانوں کے لیے ان کی سر زمین کو تنگ کیا جا سکے اور ان ایمان و عقائد کو مسخ کرنے کی سعی کی جائے ؟۔
جشن میلاد اور نظریہ پاکستان:
قارئین کرام! نظریہ پاکستان کو دیکھا جائے تو یہ ایک اسلامی نظریہ ہی نہیں تھا بلکہ یہ ایک عقیدہ اور حقیقت کی عکاسی تھی جو نظریہ کے طور پر سامنے آئی جس کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ مسلمان اور ہندوں دو الگ قومیں ہیں ہر قوم کا ایک آپنا مذہب ہے (ہندووں کا بت پرستی اور مسلمانوں کا توحید خالص)دو الگ عقیدے رکھنے والے لوگوں کا اکٹھا رہنا ناممکن ہے کیونکہ شروع دن سے ہی حق و باطل اور شرک وبدعت کی معرکہ آرائی چلی آ رہی ہے(و قل جآء الحق و زهق الباطل. ان الباطل كان زهوقا/سوره اسراء، آیه 81)
بت پرستی اور توحید خالص ایک ساتھ نہیں چل سکتے اسی لیے الگ رہ کر ہی عقیدہ و نظریہ پاکستان پر عمل کیا جا سکتا ہے جس کی بنیادپر مسلمان ہندووں کی خباثتوں سے بچتے اور آپنا باقی ماندہ ملی و مذہبی تشخص بچانے کے لیے الگ ملک حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے مگر قربانیوں کا لا متناہی سلسلہ جو شروع ہوا آج تک جاری ہے اور آزادی کی قیمت ہم نے لاکھوں قربانیوں کی صورت میں ادا کی ۔
مگر افسوس صد افسوس کہ 68سال سے نظریہ پاکستان کی جو دہجیاں اڑائیں گئیں ان کی مثال نہیں ملتی ۔نظریہ پاکستان کا بنیادی مقصد پاؤں کی تیز دہار ی سے پھول کی پتیوں کی طرح مثل دیا گیا‘بدعات و خرافات اور تحریف و تاویل کا زہر اصل عقیدے ‘منہج ‘اورنظریہ کو دیمک کی طرح آئے روز کھاتا ہوا انجام کار تک پہنچانے میں کوئی دقیقہ نہیں چھوڑ ا گیا ۔
آج یہ سب کچھ دیکھ کر شرمندگی سے سر جھک جاتا ہے کہ ابتدا ء سے آج تک نظریہ اور عقیدہ کو لے کر جنگ و جدل کا آخرکیا فائدہ تھا اگر انہی روایات کو دوبارہ دہرانہ تھا تو لاکھوں قربانیوں کو کیو ں پیش کیا گیا؟ ان قربانیوں کو آج کیوں خواہشات و خود پسندی کی نظر کیا جا رہا ہے ؟آج کیوں ان قربانیوں پہ سیا ست کو چمکایا گیا ؟آخر کس لیے لاکھوں قربانیوں کا نظرانہ دیا گیا ؟ آخر آزادی کے نام پر بہنوں اور ماؤں کی آبروریزی کیوں داؤں پہ لگائی گئی ؟کیا اس لیے کہ ہم آپنی من مانیاں کرتے رہیں اور مرضی و خواہشات کے بت کی پوجا کی جائے اور لا الہ الاّ اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ملک خدا داد کو حاصل کر کے بت پرستی و بدعات و خرافات اور تقلید شخصی و تحریفات و تاویلات باطلہ کو دین کا نام دے کر جس قدر نظریہ پاکستان اور اسلامی تعلیمات کی ممکن ہو سکے اسی قدر دہجیاں اڑائیں جائیں ۔اگر اسی نظریہ کی بنیاد پر وطن کو حاصل کر کے اسی نظریہ کی شاہ رگ کو کاٹ کر آپنے ہاتھوں قتل کرنا تھا تو دو قومی نظریہ اور نظریہ پاکستان کے نام پہ کیوں آپنی ماؤں ‘بہنوں ‘بیٹیوں ‘کی چھاتیاں کٹوائیں گئیں ؟کس لیے دہلنوں کے سہاگ کو کٹوایاں گیا؟کس لیے بچوں کو یتیم ‘عورتوں کو بیواں کروایاں گیا ؟کس لیے نوجوانوں کی جوانیوں کی تجارت کی گئی ؟کس لیے بڑھاپے میں والدین سے ان کے بڑھاپے کو چھننے دیا؟کس لیے علماء حق کو کالے پانیوں کی سزائیں دیں گئیں؟ کس لیے علماءحق پہ بغاوت کے مقدمات کو برداشت کیا گیا؟کس لیے شہیدین کو بالاکوٹ کی سر زمین پہ شہید ہونا پڑا؟خداراہ ذرا سوچیں کیا اس لیےوطن عزیز کو حاصل کیاتھا ؟کیا یہ نظریہ پاکستان تھا‘ کہ عیاشی و خود گرزی اور من مانی کر کے آزادی کے نام پہ دینے والی قربانیوں کو خاک میں ملاتے ہوئے‘ نظریہ پاکستان کے اساس کو کھوکھلا کیا جائے اور اغیار کی خوشنودی حاصل کی جائے اور مسلمانوں کے لیے ان کی سر زمین کو تنگ کیا جا سکے اور ان ایمان و عقائد کو مسخ کرنے کی سعی کی جائے ؟۔