• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جماعت کے ساتھ ملنے کے بارے میں سوال

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
امام رکوع کرنے والا ہو اور کوئی آدمی نماز میں جا ملے اور اسے یقین ہو کہ امام کے رکوع کے اٹھنے سے پہلے میں سورۃ الفاتحہ پڑھ لوں گا تو کیا پڑھ لے یا امام کے ساتھ ہی رکوع کر لے۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
شیخ عبد الستار حماد صاحب اس بارے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں:
دوران نماز ہمیں امام کی متابعت کا حکم ہے جس کا تقاضا یہ ہے کہ امام جس حالت میں ہو ، نمازی نماز میں شامل ہو کر وہی حالت اختیار کرے، چونکہ نماز میں داخل ہونے کے لیے تکبیر تحریمہ اور ہاتھوں کا اٹھانا ضروری ہے۔ یہ عمل بجا لانے کے بعد اگر امام رکوع میں ہے تو مقتدی کو چاہیے کہ وہ رکوع میں چلا جائے، اسے قیام کر کے سینہ پر ہاتھ باندھنے کی ضرورت نہیں ہے ایسا کرنا سنت سے ثابت نہیں ہے۔ اگر امام رکوع میں ہے اور مقتدی شامل ہونے کے بعد قیام میں ہاتھ باندھ لے تو یہ امام کی مخالفت ہے ، جس کی حدیث میں سخت ممانعت ہے ۔ واضح رہے کہ ہمیں مخالفت اور مسابقت سے منع کیا گیاہے ۔ صرف امام کی متابعت کا حکم ہے، موافقت صرف دور امور میں ہے ایک آمین کہنے میں اور دوسرا سمع اللہ لمن حمدہ کہنے میں، ان کے علاوہ جملہ امور میں متابعت کا حکم ہے۔ لہذا مقتدی کو چاہیے کہ وہ نماز میں شامل ہو کر وہی صورت اختیار کرے جس حالت میں امام ہے۔ اگر امام سجدہ میں ہے تو سجدہ میں چلا جائے، اگر وہ تشہد میں بیٹھا ہے تو مقتدی بھی تشہد میں بیٹھ جائے، نماز میں داخل ہونے کے بعد قیام کر کے ہاتھ باندھنے کی قطعا ضرورت نہیں ۔ الا یہ کہ امام بھی اس حالت میں ہو۔واللہ اعلم۔(فتاوی اصحاب الحدیث:ص١١٤)
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
صرف امام کی متابعت کا حکم ہے، موافقت صرف دور امور میں ہے ایک آمین کہنے میں اور دوسرا سمع اللہ لمن حمدہ کہنے میں، ان کے علاوہ جملہ امور میں متابعت کا حکم ہے۔
جزاک اللہ خیرا علوی بھائی جان
میں سمجھ گیا آپ کی بات لیکن یہ والی بات سمجھ نہیں آئی۔پلیز ذرا آسان کر کے سمجھائیں۔
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
متابعت باب مفاعلہ سے مصدر ہے اور اس کا مادہ یعنی روٹ ورڈ ’تبع‘ ہے اور اس کامعنی معنی امام کے پیچھے رہنے کا ہے جبکہ موافقت بھی مفاعلہ سے مصدر ہے اور اس کا مادہ ’وفق‘ ہے جس کا قریبی معنی مطابقت ہو سکتا ہے یعنی آمین کہنے اور سمع اللہ لمن حمدہ کہنے میں امام کی موافقت جائز ہے یعنی مطابقت جائز ہے یا دوسرے الفاظ میں اگر امام اور مقتدی ان دونوں الفاظ کے کہنے میں ایک ساتھ شامل ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے جبکہ متابعت میں ایک ہی عمل میں ایک ساتھ امام اور مقتدی شامل نہیں ہوں گے یعنی پہلے وہ عمل امام کرے گااور پھر مقتدی کرے گا۔
جزاکم اللہ خیرا۔
 
Top