• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمع بین الصلاتین

شمولیت
مارچ 20، 2018
پیغامات
166
ری ایکشن اسکور
2
پوائنٹ
37
۱۔ قرآن
اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا
یقیناً نماز مومنوں پر مقررہ وقتوں پر فرض ہے۔النسا ۱۰۳
حدیث ۱:.
رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز کا ایک اول وقت ہے اور ایک آخری وقت، ظہر کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈھل جائے اور اس کا آخری وقت وہ ہے جب عصر کا وقت شروع ہو جائے، اور عصر کا اول وقت وہ ہے جب عصر کا وقت شروع ہو جائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج پیلا ہو جائے، اور مغرب کا اول وقت وہ ہے جب سورج ڈوب جائے اور آخری وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جائے، اور عشاء کا اول وقت وہ ہے جب شفق غائب ہو جائے اور اس کا آخر وقت وہ ہے جب آدھی رات ہو جائے، اور فجر کا اول وقت وہ ہے جب فجر ( صادق ) طلوع ہو جائے اور آخری وقت وہ ہے جب سورج نکل جائے۔ ترمذی ۱۵۱
حدیث۲: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب سفر میں جلدی ہوتی تو ظہر کو عصر کے اول وقت تک موخر کردیتے،پھر دونوں کو جمع کرلیتے اور مغرب کو موخر کرتے اور عشاء کے ساتھ اکٹھا کرکے پڑھتے جب شفق غائب ہوجاتی۔مسلم۱۶۲۷

حدیث۳: ابن عمر رضی اللہ عنہما کے مؤذن نے کہا: نماز ( پڑھ لی جائے ) ( تو ) ابن عمر نے کہا: چلتے رہو پھر شفق غائب ہونے سے پہلے اترے اور مغرب پڑھی پھر انتظار کیا یہاں تک کہ شفق غائب ہو گئی تو عشاء پڑھی، پھر کہنے لگے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کسی کام کی جلدی ہوتی تو آپ ایسا ہی کرتے جیسے میں نے کیا ہے، چنانچہ انہوں نے اس دن اور رات میں تین دن کی مسافت طے کی۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن جابر نے بھی نافع سے اسی سند سے اسی کی طرح روایت کیا ہے۔ابوداود۱۲۱۲


۱۔ قرآن کی نص نمازوں کو اپنے وقت میں پڑھنے کی ہے۔
۲۔ آپ صل نے نمازوں کا اول اور آخر وقت بیان فرمایا
۳۔ آپ صل کو سفر میں (جب جلدی ہوتی ناکہ ہمیشہ ) ظہر کو موخر کر کے بالکل آخری وقت اور عصر کو بالکل اول وقت میں پڑھتے۔ ایسے ہی مغرب کو موخر کر کے بالکل آخری وقت اور عشا کو مقدم کر کے بالکل اول وقت میں پڑھتے۔ اور یوں جمع بھی فرماتے اور قرآن کے حکم پر بھی عمل ہوتا۔
۴۔ صحابی رسول رض نے بھی اسی طرح کر کے نبی پاک صل کے عمل کی وضاحت و صراحت کی۔

اس کے بالمقابل اہلحدیث حضرات کا عمل قرآن و حدیث کے بالکل خلاف ہے۔
۱۔ یہ جب جی چاہے عصر کو قبل دخول وقت ظہر سےُ ملا لیتے ہیں۔
۲۔ ظہر کو قضا کرکے عصر کے وقت میں پڑھ لیتے ہیں۔
۳۔ عشا کو قبل دخول وقت مغرب سے ملا کر پڑھ لیتے ہیں
۴۔ مغرب کو قضا کر کے عشا کے وقت میں عشا سے ملا کر پڑھتے ہیں۔
یہ اس معاملے میں نا قرآن پر عمل کرتے ہیں نا رسول صل کے عمل کی پیروی کرتے ہیں نا صحابی کے عمل کی۔

نوٹ: نماز کو عمدا قضا کرنے کا سخت گناہ ہے اور قبل دخول وقت نماز نا فرض ہوتی ہے اور نا ہی قبل دخول وقت پڑھ لینے سے اس کا فریضہ ساقط ہوتا ہے۔
وما علینا الالبلاغ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
کیا بارش میں دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھ سکتے ہیں ؟
تحریر : شیخ غلام مصطفےٰ ظہیر امن پوری

سوال : بارش میں دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا کیسا ہے ؟
جواب: بارش میں دو نمازوں کو جمع کر کے پڑھنا جائز ہے، جیسا کہ :
◈ امام الائمہ، ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں :
ولم يختلف علماء الحجاز ان الجمع بين الصلاتين فى المطر جائز.
”علماءِ حجاز کا اس بات پر اتفاق ہے کہ بارش میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے۔“ [صحيح ابن خزيمة 85/2 ]
◈ سعید بن جبیر تابعی رحمہ اللہ تعلق کہتے ہیں کہ صحابی رسول سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہا نے بیان فرمایا :
جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الظهر والعصر، والمغرب والعشاء بالمدينة، فى غير خوف، ولا مطر (وفي لفظ : ولا سفر)، قلت لابن عباس : لم فعل ذلك ؟ قال : كي لا يخرج أمته .
’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں ظہر و عصر اور مغرب و عشا کو بغیر کسی خوف اور بارش (ایک روایت میں بغیر کسی خوف اور سفر) کے جمع کیا۔ (سعید من جبیر کہتے ہیں : ) میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے دریافت کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ فرمایا : اس لئے کہ آپ صلى الله عليه وسلم کی امت پر کوئی مشقت نہ ہو۔ “ [صحيح مسلم : 54/705، 50]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کا بیان ہے :
صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بالمدينة ثمانيا جميعا، وسبعا جميعا، الظهر والعصر، والمغرب والعشاء .
”میں نے مدینہ منورہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ظہر و عصر کی آٹھ رکعات اور مغرب و عشا کی سات رکعات جمع کر کے پڑھیں۔ “ [ صحيح البخاري : 543، 1174، صحيح مسلم : 55/705]
◈ شیخ الاسلام، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661-728ھ) فرماتے ہیں :
والجمع الذى ذكره ابن عباس لم يكن بهذا ولا بهذا، وبهذا استدل أحمد به على الجمع لهذه الأمور بطريق الأولى، فإن هذا الكلام يدل على أن الجمع لهذه الأمور أولى، وهذا من باب التنبيه بالفعل، فانه اذا جمع ليرفع الحرج الحاصل بدون الخوف والمطر والسفر، فالخرج الحاصل بهذه أولى أن يرفع، والجمع لها أولى من الجمع لغيرها.
”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جس جمع کا ذکر کیا ہے، وہ نہ خوف کی وجہ سے تھی، نہ بارش کی وجہ سے۔ اسی حدیث سے امام احمد رحمہ اللہ نے استدلال کیا ہے کہ خوف اور بارش میں تو بالاولیٰ جمع ہو گی. اس بحث سے معلوم ہوتا ہے کہ ان امور میں نمازوں کو جمع کرنا بالاولیٰ جائز ہے۔ یہ تنبیہ بالفعل کی قبیل سے ہے . جب خوف، بارش اور سفر کے بغیر جو مشقت ہوتی ہے، اس مشقت کو ختم کرنے کے لیے دو نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے، تو ان اسباب کی مشقت کو ختم کرنا تو بالاولیٰ جائز ہو گا، لہٰذا خوف، بارش اور سفر کی بنا پر نمازوں کو جمع کرنا دیگر امور کی بنا پر جمع کی نسبت زیادہ جائز ہو گا۔ [مجموع الفتاوي: 76/24 ]
◈ محدث العصر، علامہ البانی رحمہ اللہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے قول فى غير خوف ولا مطر کی شرح میں فرماتے ہیں :
فإنه يشعر أن الجمع للمطر كان معروفا فى عهدم صلى الله عليه وسلم، ولو لم يكن كذلك، لما كان ثمة فائدة من نفي المطر كسبب مبرر للجمع، فتامل
”یہ الفاظ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد مبارک میں بارش کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنا معروف تھا۔ غور فرمائیے ! اگر ایسا نہ ہوتا، تو بارش کو جمع کے جواز کے سبب کے طور پر ذکر کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔“ [ ارواءالغليل : 3 40 ]
◈ نافع مولیٰ ابن عمر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
كانت أمراء نا إذا كانت ليلة مطيرة، أبطأوا بالمغرب وعجلوا بالعشاء قبل أن يغيب الشفق، فكان ابن عمر يصلي معهم، لا يرى بذلك بأسا، قال عبيد الله : ورأيت القاسم، وسالما يصليان معهم، فى مثل تلك الليلة.
”جب بارش والی رات ہوتی، تو ہمارے امرا مغرب کو تاخیر سے ادا کرتے اور شفق غروب ہونے سے پہلے عشا کے ساتھ جمع کر لیتے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما ان کے ساتھ ہی نماز پڑھتے تھے اور اس میں کوئی حرج خیال نہیں کرتے تھے . عبید اللہ بیان کرتے ہیں : میں نے قاسم اور سالم رحمها اللہ کو دیکھا کہ وہ دونوں ان کے ساتھ ایسی رات میں مغرب و عشاء کو جمع کرتے تھے .“ [المؤطأ للإمام مالك : 331، السننن الكبريٰ للبيهقي : 168/3، و سنده صحيح ]
◈ ہشام بن عروہ تابعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
رأيت أبان بن عثمان يجمع بين الصلاتين فى الليلة المطيرة؛ المغرب والعشاء، فيصليهما معا، عروة بن الزبير، وسعيد بن المسيب، وأبو بكر بن عبدالرحمن، وأبو سلمة بن عبدالرحمن، لاينكرونه .
”میں نے ابان بن عثمان رحمہ اللہ کو بارش والی رات مغرب و عشا کی نمازوں کو جمع کرتے دیکھا. عروہ بن زبیر، سعید بن مسیب، ابوبکر بن عبدالرحمٰن، ابوسلمہ بن عبدالرحمن رحمہ اللہ اس پر کوئی اعترض نہیں کرتے تھے۔“ [مصنف ابن ابي شيبة : 234/2، السنن الكبريٰ للبيهقي : 168/3، 169، و سنده صحيح ]
◈ عبدالرحمن بن حرملہ رحمہ اللہ کہتے ہیں :
رايت سعيد بن المسيب يصلي مع الائمة، حين يجمعون بين المغرب والعشاء، فى الليلة المطيرة.
”میں نے امام سعید بن مسیب کو ائمہ کے ساتھ بارش والی رات میں مغرب و عشا کی نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے۔“ [مصنف ابن ابي شيبه : 234/2، و سنده حسن ]
◈ ابومودود، عبدالعزیز بن ابوسلیمان رحمہ اللہ کہتے ہیں :
صليت مع أبى بكر بن محمد المغرب والعشاء، فجمع بينهما فى الليلة المطيرة.
”میں نے ابوبکر بن محمد کے ساتھ مغرب و عشا کی نماز پڑھی، انہوں نے بارش والی رات میں دونوں نمازوں کو جمع کیا تھا۔ “ [مصنف ابن ابي شيبه : 234/2، و سنده حسن ]
◈ شیخ الاسلام، ابن تیمیہ رحمہ اللہ (661-728ھ) فرماتے ہیں :
فهذه الآثار تدل على أن الجمع للمطر من الأمر القديم، المعمول به بالمدينة زمن الصحابة والتابعين، مع أنه لم ينقل أن أحدا من الصحابة والتابعين أنكر ذلك، فعلم أنه منقول عندهم بالتوائر جواز ذلك.
”ان آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ بارش کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کرنا قدیم معاملہ ہے، جس پر صحابہ و تابعین کرام کے عہد میں مدینہ منورہ میں بھی عمل رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کسی ایک بھی صحابی سے اس پر اعتراض کرنا بھی منقول نہیں۔ اس ثابت ہوتا ہے کہ صحابہ و تابعین سے بالتواتر اس کا جواز منقول ہے ـ“ [ مجموع الفتاوٰي : 83/24 ]
◈ جناب عبدالشکور لکھنوی، فاروقی، دیوبندی لکھتے ہیں :
”امام شافعی رحمہ اللہ کے نزدیک سفر میں اور بارش میں بھی دو نمازوں کا ایک وقت میں پڑھ لینا جائز ہے اور ظاہر احادیث سے بھی ایسا ہی معلوم ہوتا ہے، لہٰذا اگر کسی ضرورت سے کوئی حنفی بھی ایسا کرے، تو جائز ہے۔ “ [علم الفقه، حصه دوم، ص : 150 ]
↰ یاد رہے کہ بارش کی صورت میں جمع تقدیم و تاخیر، دونوں جائز ہیں۔ تقدیم میں زیادہ آسانی ہے، نیز جمع صوری کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
مقیم آدمی کا ضروری کام کی وجہ سے اور مریض کا دو نمازوں کا جمع کرنا ؛
ــــــــــــــــــــــــــــــــــ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا مقیم آدمی کسی ضروری کام کی وجہ سے بعد والی نماز پہلے ادا کر سکتا ہے ؟ آدمی کو علم ہے کہ مجھے اس کام میں کافی وقت لگے گا اور نمازوں کو جمع کر لے۔
۲…کیا بیمار آدمی نماز کو جمع کر سکتا ہے؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔​
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
مقیم آدمی بسا اوقات جمع صوری کر سکتا ہے ۔ مقیم آدمی کے لیے جمع تقدیم و جمع تاخیر دونوں کتاب و سنت سے ثابت نہیں۔ ہاں مسافر کے لیے جمع تقدیم و جمع تاخیر دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہیں۔
۲…بیماری یا بارش کی وجہ سے جمع تقدیم اور جمع تاخیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔ رہی جمع صوری تو وہ بغیر عذر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ میں بغیر کسی خوف اور بارش کے ظہر اور عصر(اسی طرح) مغرب اور عشاء جمع کر کے پڑھیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسا کرنے کا مقصد کیا تھا تو انہوں نے فرمایا تاکہ آپ اُمت کو حرج اور تکلیف میں نہ ڈالیں۔ (مسلم،کتاب صلاة المسافرین و قصرھا ،باب جواز جمع بین الصلوٰتین فی الحضر ، ترمذی،کتاب الصلوٰة، باب ما جاء فی الجمع بین الصلوتین فی الحضر)
عبداللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بصرہ میں عصر کے بعد ہمیں خطبہ دینا شروع کیا ، یہاں تک کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے چمکنے لگے کسی نے کہا کہ نماز(مغرب) کا وقت ہو چکا ہے ، آپ نے فرمایا مجھے سنت نہ سکھاؤ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر اور عصر ، مغرب اور عشاء ملا کر پڑھتے ہوئے دیکھا ہے ۔عبداللہؒ بن شقیق کہتے ہیں کہ مجھے شبہ پیدا ہوا ،میں نے حضرت ابو ہریرہ رضی الله عنہ سے دریافت کیا تو انہوں نے ان کی تصدیق کی۔
یعنی کہ نا گزیر قسم کے حالات میں حالت اقامت میں بھی دو نمازیں جمع کر کے پڑھی جا سکتی ہیں تاہم شدید ضرورت کے بغیر ایسا کرنا جائز نہیں ہے جیسے کاروباری لوگوں کا عام معمول ہے کہ وہ سستی یا کاروباری مصروفیت کی وجہ سے دو نمازوں کو جمع کر لیتے ہیں یہ صحیح نہیں۔ بلکہ سخت گناہ ہے ہر نماز کو اس کے وقت پر ہی پڑھنا ضُروری ہے سوائے نا گزیر حالات کے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے موقع پر مؤذن کو فرماتے کہ وہ کہے«اَلَا صَلُّوْا فِیْ رِحَالِکُمْ » ’’خبردار! گھروں میں نماز پڑھو۔‘‘ (ابو داؤد،کتاب الصلاة، باب التخلف عن الجماعة فی اللیلة الباردة)
فتاوی احکام ومسائل
محدث فتویٰ
 
شمولیت
مئی 27، 2016
پیغامات
256
ری ایکشن اسکور
75
پوائنٹ
85
شیخ @اسحاق سلفی اثابکم اللہ
ایک خاتون کو آنکھ کے آپریشن کے بعد ڈاکٹر نے کچھ دنوں کے لیے آنکھوں کو آرام دینے کے لیے زیادہ سونے کے لیے کا کہا اور نیند نہ آنے کی صورت میں نیند والی گولی کھانے کا بھی کہا
تو کیا اس کے لیے نماز جمع کرنا جائز ہے؟ تقدیم ہو یا تاخیر۔
کیونکہ اکثر اس کو دوائی کے اثر سے نیند آجاتی ہے اور لمبی چلتی ہے اور اگر نہ سوئے تو بہت تکلیف بھی ہوتی ہے ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
شیخ @اسحاق سلفی اثابکم اللہ
ایک خاتون کو آنکھ کے آپریشن کے بعد ڈاکٹر نے کچھ دنوں کے لیے آنکھوں کو آرام دینے کے لیے زیادہ سونے کے لیے کا کہا اور نیند نہ آنے کی صورت میں نیند والی گولی کھانے کا بھی کہا
تو کیا اس کے لیے نماز جمع کرنا جائز ہے؟ تقدیم ہو یا تاخیر۔
کیونکہ اکثر اس کو دوائی کے اثر سے نیند آجاتی ہے اور لمبی چلتی ہے اور اگر نہ سوئے تو بہت تکلیف بھی ہوتی ہے ۔
الجواب :
السلام علیکم ورحمۃ اللہ

هل يجوز للمريض الجمع بين الصلوات ؟
تاريخ: 17/2/09۔۔رقم الفتوى: 145
کیا مریض کیلئے نمازیں جمع کرکے ادا کرنا جائز ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب :

بسم الله الرحمن الرحيم

الحمد لله رب العالمين والصلاة والسلام على سيدنا محمد وعلى آله وأصحابه أجمعين وبعد :
يجوز الجمع بين الصلوات من أجل المرض , قال به المالكية والحنابلة وبعض الشافعية , وهذه بعض أقوالهم :
قال ابن قدامة في ( المغني 9 / 119 ) : " يجوز الجمع لأجل المرض وهو قول عطاء ومالك ..
" قال الإثرم : قيل لأبي عبد الله : المريض يجمع بين الصلاتين ؟ فقال : إني لأرجو له ذلك إذا ضعف وكان لا يقدر إلا على ذلك , لما روينا من حديث ابن عباس رضي الله عنهما قال : جمع رسول الله صلى الله عليه وسلم بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء من غير خوف ولا سفر , وفي رواية : من غير خوف ولا مطر . [ صحيح مسلم 1/490 ] .
قال الإمام أحمد بن حنبل : هذا عندي رخصة للمريض والمرضع . وقال ابن قدامة في ( الكافي 1/490 ) : قال أصحاب أحمد : أجمعنا أن الجمع لا يجوز لغير عذر فلم يبق إلا المرض .
قال ابن قدامة : والمرض المبيح للجمع هو ما يلحقه بتأدية كل صلاة في وقتها وفيها مشقة وضعف , والمريض مخير في التقديم والتأخير كالمسافر .
قال النووي في ( المجموع 4/383 ) : قال الرافعي : قال مالك وأحمد : يجوز الجمع بعذر المرض والوحل , وبه قال بعض أصحابنا منهم : أبو سليمان الخطابي والقاضي حسين واستحسنه الروياني في الحلية , وقلت : وهذا الوجه قوي جداً ويسند له بحديث ابن عباس , وحاجة المريض والخائف آكد من الممطور .
قال في ( المدونة 1/214 ) : رأى مالك في المريض أن يجمع بين الصلوات إنما ذلك لصاحب البطن وما شابهه من المرض أو صاحب العلة الشديدة التي تضر به أن يصلي في وقت كل صلاة ويكون هذا أرفق به أن يجمعها لشدة ذلك عليه .
وعلى ما تقدم فإنه يجوز للمريض الجمع بعذر المرض بين الظهر والعصر وبين المغرب والعشاء وهو مخير في التقديم والتأخير , إذا كان يلحقه بتأدية كل صلاة في وقتها مشقة وضعف أو إغماء أو ألم شديد أو عجز عن أدائها في وقتها . قال تعالى : { وما جعل عليكم في الدين من حرج } .
والله تعالى أعلم



ترجمہ :
جواب :
اللہ تعالی کی حمد و ثناء اور پیارے مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود و سلام کے بعد :
واضح ہو کہ دو نمازوں کو مرض کے سبب جمع کرکے پڑھنا جائز ہے ،مالکیہ ، حنابلہ اور بعض شافعیہ کا یہی قول ہے ،ان میں بعض فقہاء کے اقوال پیش ہیں :
امام ابن قدامہ حنبلیؒ فرماتے ہیں کہ مرض کے سبب دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے ،امام مالکؒ اور امام عطا کا یہی قول ہے "
اور علامہ اثرم ؒ نقل کرتے ہیں کہ امام ابو عبداللہ احمد بن حنبلؒ سے سوال کیا گیا کہ کیا مریض دو نمازوں کو جمع کرکے پڑھ سکتا ہے ؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ :میں سمجھتا ہوں کہ اگر مرض میں کمزوری کے سبب اگر ایسا کرے گا تو درست ہے ،جیسا کہ ہمیں حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم پہنچی ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر اور مغرب اور عشاء بغیر کسی خوف اور بارش کے جمع کرکے پڑھیں ،(صحیح مسلم )
امام احمد بن حنبل ؒ فرماتے ہیں میرے نزدیک یہ رخصت مریض اور دودھ پلانے والی عورت کیلئے ہے ۔
اور امام ابن قدامہ کہتے ہیں :ہمرا اس بات پر اتفاق ہے کہ بغیر عذر (فرض ) نماز جمع نہیں ہوسکتی ،لیکن مرض (جمع کا سبب ) بنتا ہے ۔
ابن قدامہ فرماتے ہیں کہ : وہ مرض جس کے سبب دو نمازیں جمع کرنا جائز ہے اس مرض سے ایسی بیماری ہے جس سے ہر فرض نماز کو اس کے مقررہ وقت میں ادا کرنے میں مشقت و کمزوری لاحق ہو ، اور اس صورت میں مریض کو اختیار ہے کہ جمع تقدیم و جمع تاخیر میں جسے چاہے اختیار کرلے ۔
اور امام نوویؒ "المجموع شرح المھذب " میں لکھتے ہیں کہ امام رافعیؒ کہتے ہیں کہ امام مالکؒ اور امام احمدؒ کا قول و مذہب ہے کہ عذرِ مرض کے سبب دو نمازیں جمع کرنا جائز ہے ، اور بعض شافعی فقہاء کا بھی یہی مذہب ہے ان میں امام ابو سلیمان خطابیؒ اورقاضی حسینؒ شامل ہیں ،اور امام الرویانیؒ نے "الحلیہ " میں اسی قول کواچھا کہا ہے ، اور میں (نوویؒ ) کہتا ہوں کہ یہی بات (کہ مرض دو نمازوں کے جمع کا شرعی سبب بنتا ) ہی قوی ہے ، مریض کی ضرورت بارش والے سے زیادہ سخت ہے ،

المجلس الإسلامي للإفتاء – الداخل الفلسطيني
الناصرة – مركز بلال بن رباح
http://www.fatawah.net/Fatawah/145.aspx
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,537
پوائنٹ
791
بلا عذر نمازیں جمع کرنا

مفتی عبدالستار الحماد حفظہ اللہ

سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ہمارے گاؤں میں درج ذیل وجوہات کی بنا پر مسلسل تین تین دن تک مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کی جاتی ہیں:
(الف)ہلکی ہلکی بوند باندی ہو رہی ہو۔(ب)موسم خراب یا ابرآلود ہو۔(ج)ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو۔
اس سلسلہ میں صحیح مسلم کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر عذر کے نمازیں جمع کی تھیں اس سلسلہ میں ہماری راہنمائی کریں کہ ایسے حالات میں نمازیں جمع کرنے کا جواز ہے؟ کیا صحیح مسلم میں اس طرح کی کوئی روایت موجود ہے ؟اللہ تعالیٰ آپ کا حامی ناصر ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
ہر نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا ضروری ہے ارشاد باری تعالیٰ ہے۔
﴿إِنَّ الصَّلو‌ٰةَ كانَت عَلَى المُؤمِنينَ كِتـٰبًا مَوقوتًا ﴿١٠٣﴾... سورةالنساء
"اہل ایمان پر نماز اس کے مقررہ اوقات پر فرض کی گئی ہے۔"

اس لیے کسی نماز کے وقت میں بلا عذر جمع کرنا درست نہیں ہے بلکہ بعض روایات میں ہے کہ بلا عذرنمازوں کو جمع کرنا کبیرہ گناہ ہے۔[[1] ۔ترمذی ،ابواب الصلوٰۃ:188۔]
اگرچہ امام ترمذی رحمۃ اللہ علیہ نے صراحت کی ہے کہ یہ روایت ابو علی حسین بن قیس الوھبی کی وجہ سے سخت ضعیف ہے؛
البتہ بعض صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے آثار سے معلوم ہوتا ہے کہ جو بلاوجہ نمازوں کو جمع کرتا ہے وہ کبیرہ گناہ کا ارتکاب کرتا ہے۔[ بیہقی ،ص:169۔ج3]


سوال میں صحیح مسلم کے حوالہ سے نمازوں کو بلا عذر جمع کرنے کی روایت محض ظن و تخمین پر مبنی ہے، صحیح مسلم میں کوئی ایسی روایت نہیں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازوں کو بلا عذر جمع کیاتھا بلکہ صحیح مسلم کی روایات حسب ذیل ہیں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاءکو کسی قسم کے خوف یا سفر کے بغیر جمع کر کے ادا کیا۔[ صحیح مسلم الصلوٰۃالمسافرین:705]

ایک روایت کے مطابق مدینہ طیبہ میں خوف کے بغیر جمع کرنے کا ذکر ہے۔ راوی نے اس کی وجہ دریافت کی تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ امت کو کسی قسم کی مشقت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ ایک روایت میں خوف اور بارش کے بغیر جمع کرنے کا ذکر ہے۔یہ تمام روایات مسلم میں حدیث نمبر705۔کے تحت مذکورہیں امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ کی بیان کردہ روایت میں"علۃ"یعنی بیماری کے الفاظ کا اضافہ ہے۔[طحاوی:96۔ج1]
البتہ بلا عذر کے الفاظ کسی روایت میں نہیں ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ طیبہ میں نمازوں کا جمع کرنا بھی کسی سبب کی وجہ سے تھا جس کی وضاحت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایک روایت سے ہوتی ہے عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں ایک دن عصر کے بعد حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وعظ پر مشتمل خطبہ دیا تاآنکہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے چمکنے لگے۔لوگوں نے"الصلوٰۃالصلوٰۃ"کہنا شروع کردیا پھر بنو تمیم کا ایک آدمی آیا۔ اس نے بھی بلا دھڑک "الصلوٰۃالصلوٰۃ" کی آواز بلند کی تو ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:افسوس ہے تو مجھے سنت کی تعلیم دیتا ہے ،میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ نے مدینہ طیبہ میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کیا تھا۔

عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میرے دل میں کھٹکاسا پیدا ہوا۔میں حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا تو انھوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مؤقف کی تصدیق کی۔[ صحیح مسلم الصلوٰۃالمسافرین:705]

اس تفصیلی روایت میں واضح ہوتا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بھی ایک معقول عذر کی بناء پر مغرب و عشاء کو جمع کیا تھا وہ یہ کہ آپ کسی اہم موضوع پر تقریر کر رہے تھے۔اگر درمیان میں مغرب کی نماز پڑھی جاتی تو تسلسل کے ٹوٹ جانے کی وجہ سے کچھ باتیں ذہن سے محور ہو جاتیں اور شاید کچھ لوگ بھی نماز کے بعد چلے جاتے اور پوراوعظ سننے سے محروم رہتے،اس لیے حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نماز مغرب کو نماز عشاء کے ساتھ جمع کر کے پڑھا پھر آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک عمل کا حوالہ دیا کہ آپ نے بھی ایسے حالات میں دو نمازوں کو جمع کیا تھا ۔ سابقہ احادیث میں چار الفاظ استعمال ہوئے ہیں جو نمازوں کو جمع کرنے کا سبب بن سکتے ہیں۔

1۔سفر2۔خوف3۔بارش 4۔بیماری۔

ان اسباب کے علاوہ میدان عرفہ اور مزدلفہ میں بھی جمع کرنا مناسک حج سے ہے۔مستحاضہ عورت کو بھی دو نمازیں جمع کرکے ادا کرنے کی اجازت ہے۔جیسا کہ احادیث میں اس کی صراحت مروی ہے، ابن قدامہ لکھتے ہیں۔"سفر کے علاوہ بارش ،بیماری یا کسی اہم ضرورت کے پیش نظر بھی نمازیں جمع کی جا سکتی ہیں اگر جمع تقدیم میں پہلی نماز کے وقت دوسری نماز ادا کرلی جائے تو سفر یا بارش کا عذر ختم ہونے کے بعد دوسری نماز کا وقت باقی ہو تو ادا شدہ نماز کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔"[ مغنیٰ،ص:281۔ج2]

دراصل ہم اس سلسلہ میں بہت افراط و تفریط کا شکار ہیں۔کچھ اہل علم کا خیال ہے کہ بارش نمازوں کا جمع کرنےکا سبب نہیں ہے خواہ کتنی موسلادھار ہی کیوں نہ ہو اور لوگوں کو آنے جانے میں وقت ہی کا کیوں نہ سامنا کرنا پڑے حالانکہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایات میں خوف ، بارش بیماری اور سفر وغیرہ جمع کے اسباب کے طور پر بیان ہوئے ہیں۔[ ارواء الغلیل ،ص:40۔ج۔]

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب امراء وقت بارش کی وجہ سے مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کرکے ادا کرتے تو آپ بھی ان کے ہمراہ جمع کر لیتے تھے۔[ موطا امام مالک قصر الصلوٰۃ،باب الجمع بین الصلوٰتین]

حضرت عروہ بن زبیر رحمۃ اللہ علیہ ،سعید بن مسیب رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ سے بارش کی بناء پر نمازوں کو جمع کرنے کا ثبوت ملتا ہے۔[ بیہقی،ص:168۔ج3]

اس کا مطلب یہ ہے کہ بارش کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کا طریقہ رائج تھا۔جبکہ کچھ لوگ اس قدر تفریط میں مبتلا ہیں کہ معمولی بوند باندی یا تیز ہوا کی وجہ سے نمازوں کو جمع کرنے کے عادی ہیں۔ جیسا کہ سوال میں جمع کرنے کی تین صورتیں بیان کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ کاروباری حضرات کا معمول ہے کہ وہ سستی کاروباری مصروفیات کی بناء پر نمازوں کو جمع کرنے کا معمول بنا لیتے ہیں بہر حال اس سلسلہ میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے کہ سفر کے علاوہ شدیدبارش سخت آندھی ،انتہائی سردی یا ژالہ باری کے وقت نمازوں کو جمع کیا جا سکتا ہے۔

جنگی حالات اور ہنگامی اوقات میں بھی نمازوں کو جمع کرنے کا جواز ہے لیکن کاروباری مصروفیات سستی ،ہلکی پھلکی بوند باندی موسم کی خرابی ، ابرآلودگی یا ٹھنڈی ہوا وغیرہ کے وقت نمازوں کو جمع کرنا محل نظر ہے(واللہ اعلم)
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب
فتاویٰ اصحاب الحدیث (جلد3۔صفحہ نمبر 82 )
محدث فتویٰ
 
Top