• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جمع مذکر سالم کا اعراب

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
834
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
جمع مذکر سالم کا اعراب

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

عربی زبان میں جمع مذکر سالم اس جمع کو کہتے ہیں جو دو سے زیادہ مذکر (مردوں یا مذکر اشخاص) پر دلالت کرے اور جس کے آخر میں "ون" یا "ین" کا اضافہ کیا گیا ہو، جبکہ اس کے اصل حروف میں کوئی تبدیلی نہ آئے۔ مثلا: مسلم سے مسلمون، مؤمن سے مؤمنون، صالح سے صالحون۔

اسے "جمع مذکر سالم" اس لیے کہا جاتا ہے کہ واحد لفظ اپنے اصل حروف کے ساتھ سلامت رہتا ہے اور صرف اس کے آخر میں جمع کی علامت کا اضافہ کیا جاتا ہے۔

جمع مذکر سالم کے اعراب کا ایک نہایت آسان قاعدہ ہے:
  • حالت رفع میں اس کی علامت واو (و) ہوتی ہے۔
  • حالت نصب میں اس کی علامت یاء (ی) ہوتی ہے۔
  • حالت جر میں بھی اس کی علامت یاء (ی) ہوتی ہے۔
لہٰذا مختصر طور پر یوں یاد رکھیں کہ رفع میں "ون" اور نصب و جر میں "ین" آتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: ﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَیقینا مؤمن کامیاب ہوگئے۔

اس آیت میں المؤمنون فاعل ہے، اور چونکہ فاعل مرفوع ہوتا ہے، اس لیے اس کے رفع کی علامت واو ہے۔ لہٰذا اعراب یوں ہوگا:
المؤمنون: فاعل مرفوع، وعلامة رفعه الواو؛ لأنه جمع مذكر سالم.

اسی طرح اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ﴿وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَاور مؤمنوں کو خوشخبری دے دیجیے۔

اس آیت میں المؤمنين مفعول بہ ہے، اور مفعول بہ منصوب ہوتا ہے۔ چونکہ یہ جمع مذکر سالم ہے، اس لیے اس کے نصب کی علامت یاء ہے۔ لہٰذا اعراب ہوگا:
المؤمنين: مفعول به منصوب، وعلامة نصبه الياء؛ لأنه جمع مذكر سالم.

پھر اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ﴿لَقَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَیقینا اللہ نے مؤمنوں پر بڑا احسان فرمایا۔

یہاں المؤمنين حرف جر "على" کے بعد آیا ہے، اس لیے مجرور ہے۔ جمع مذکر سالم ہونے کی وجہ سے اس کے جر کی علامت یاء ہے۔ لہٰذا اعراب ہوگا:
المؤمنين: اسم مجرور بعلى، وعلامة جره الياء؛ لأنه جمع مذكر سالم.

قرآن مجید کی ایک آیت میں جمع مذکر سالم کی تینوں حالتیں جمع ہوگئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ

اس آیت میں: المؤمنون فاعل ہے، اس لیے مرفوع ہے اور اس کی علامت رفع واو ہے۔ الكافرين مفعول بہ ہے، اس لیے منصوب ہے اور اس کی علامت نصب یاء ہے۔ المؤمنين مضاف الیہ ہے، اس لیے مجرور ہے اور اس کی علامت جر یاء ہے۔

7746.jpg

اس پورے سبق کا خلاصہ یہ ہے کہ جمع مذکر سالم کے اعراب کو سمجھنے کے لیے صرف یہ ایک اصول ذہن میں رکھنا کافی ہے کہ جمع مذکر سالم رفع میں واو کے ساتھ اور نصب و جر میں یاء کے ساتھ آتا ہے۔

مثالیں:

نجح المسلمون (مسلمان کامیاب ہوگئے) مرفوع
أكرمت المسلمين (میں نے مسلمانوں کی عزت کی) منصوب
سلمت على المسلمين (میں نے مسلمانوں کو سلام کیا) مجرور

پس جب بھی کسی لفظ کے آخر میں "ون" نظر آئے تو عموما وہ مرفوع ہوگا، اور جب "ین" نظر آئے تو وہ منصوب یا مجرور ہوگا۔ یہی جمع مذکر سالم کے اعراب کا بنیادی اور آسان ترین قاعدہ ہے۔

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب۔
 
Top