ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 837
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
جمہوریت کا فتنہ اور اسلامی جمہوریت کا فریب حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوری کی نظر میں
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
دور حاضر میں امت مسلمہ کو جن فکری یلغاروں اور نظریاتی فتنوں کا سامنا ہے، ان میں جمہوریت کا فتنہ نہایت خطرناک اور گمراہ کن فتنہ ہے۔ اس فتنے کی سنگینی اس وجہ سے مزید بڑھ جاتی ہے کہ اسے کھلے کفر یا صریح لادینیت کے عنوان سے نہیں بلکہ "اسلامی جمہوریت" جیسے دل فریب نعروں کے ذریعے مسلمانوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے۔ چنانچہ بہت سے لوگ اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ جمہوریت محض ایک سیاسی طریقہ کار کا نام نہیں بلکہ ایک مستقل نظریہ ہے جس کی بنیاد حاکمیت عوام پر قائم ہے، جبکہ اسلام کی بنیاد حاکمیت الٰہی پر استوار ہے۔
اسی حقیقت کو حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوری نے نہایت وضاحت اور بے باکی کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ ان کا یہ کلام ان لوگوں کے لیے بہت اہم ہے جو مغربی سیاسی نظریات کو اسلامی لبادہ پہنا کر امت مسلمہ کے سامنے پیش کرتے ہیں اور جمہوریت کو اسلام کے موافق ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوری فرماتے ہیں:
"حقیقت یہ ہے کہ جمہوریت نہ کل اسلام ہے نہ اسلام کا جزو بلکہ اسلام کا غیر اور اس کی ضد ہے کیوں کہ اسلام ایک دین ہے اور جمہوریت لادینیت ہے۔ جمہوریت چاہتی ہے کہ اللہ کا کوئی تصور نہ ہو حاکمیت عوام کی ہو۔ اسلام چاہتا ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہو اللہ کے سوا کسی کی نہ چلے۔ اگر کوئی کہے کہ جمہوریت کا یہ تصور تو مغرب کا تصور ہے۔ اسلامی جمہوریت کا یہ تصور نہیں تو اس سے کہا جا سکتا ہے کہ جب جمہوریت کوئی اسلامی چیز ہی نہیں تو اس کا کوئی اسلامی تصور کیسے ہو سکتا ہے۔ جمہوریت مغرب کا نظام ہے اور مغرب کا تصور ہی اس کا اصل قصور ہے۔ رہ گیا آج کل کے مسلمانوں کا جمہوریت کو اسلامی کہنا تو ان کے کہنے سے جمہوریت اسلامی نہیں ہو سکتی۔ کفر کو کوئی کتنا بھی اسلامی کہے کفر اسلامی نہیں ہو سکتا کفر تو کفر ہی رہتا ہے۔ کافر مسلمان ہو جائے تو ہو جائے کفر کبھی اسلام نہیں ہوتا۔"
[رسائل بہاولپوری، صفحہ: ٤٣٦]
جمہوریت کے اس فتنے نے صرف عام لوگوں ہی کو متاثر نہیں کیا بلکہ بہت سے مذہبی حلقے بھی اس سے اس قدر مرعوب ہو چکے ہیں کہ وہ کھلے عام جمہوریت کو اسلام کی مطلوبہ سیاسی شکل قرار دینے لگے ہیں۔ حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام اور جمہوریت کے درمیان محض جزوی اختلاف نہیں بلکہ اصولی اور بنیادی تصادم پایا جاتا ہے۔
حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوری اسی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ "جمہوریت اسلام کا غیر اور اس کی ضد ہے۔" اسلام کی بنیاد توحید پر قائم ہے، اور توحید کا ایک عظیم تقاضا یہ ہے کہ حکم، تشریع اور قانون سازی کا حق صرف اللہ تعالیٰ کے لیے خاص مانا جائے۔ مسلمان اس لیے مسلمان ہے کہ وہ اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرتا ہے، نہ کہ اس لیے کہ وہ اکثریت کے فیصلے کے آگے گردن جھکا دے۔ لیکن جمہوریت کا پورا فلسفہ اس تصور پر قائم ہے کہ عوام جو چاہیں وہ قانون بن جائے اور اکثریت جس چیز کو پسند کر لے وہی حق قرار پائے۔
یہی وجہ ہے کہ حافظ صاحب فرماتے ہیں: "جمہوریت چاہتی ہے کہ اللہ کا کوئی تصور نہ ہو حاکمیت عوام کی ہو۔ اسلام چاہتا ہے کہ حاکمیت اللہ کی ہو اللہ کے سوا کسی کی نہ چلے۔" پس اصل سوال حاکمیت کا ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخری اختیار کس کے پاس ہے؟ اللہ کے پاس یا عوام کے پاس؟ اسلام کہتا ہے کہ حلال و حرام کا فیصلہ اللہ کرے گا، جبکہ جمہوریت کہتی ہے کہ یہ اختیار عوامی نمائندوں اور پارلیمان کو حاصل ہے۔ اسلام وحی کی حکمرانی چاہتا ہے جبکہ جمہوریت اکثریت کی حکمرانی کا درس دیتی ہے۔ اسلام بندوں کو رب کا تابع بناتا ہے جبکہ جمہوریت بندوں کو بندوں کا تابع بنا دیتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ بعض لوگ اس مغربی نظریے کو مسلمانوں میں رائج کرنے کے لیے "اسلامی جمہوریت" کا خوش نما نعرہ ایجاد کرتے ہیں۔ گویا اگر کسی غیر اسلامی نظریے کے ساتھ "اسلامی" کا لفظ جوڑ دیا جائے تو اس کی حقیقت بھی بدل جائے گی۔ حافظ صاحب نے اس فریب کا پردہ چاک کرتے ہوئے فرمایا: "جب جمہوریت کوئی اسلامی چیز ہی نہیں تو اس کا کوئی اسلامی تصور کیسے ہو سکتا ہے۔"
یہ ان تمام لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جو مغرب کے کفریہ سیاسی فلسفوں کو اسلامی لبادہ پہنا کر امت کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ نام بدلنے سے حقائق نہیں بدلتے۔ کسی نظریے کی بنیاد اگر غیر اسلامی ہو تو اس کے ساتھ "اسلامی" کا سابقہ لگا دینا اس کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرتا۔ اگر کوئی شخص سود کو "اسلامی سود"، شراب کو "اسلامی شراب" یا سیکولرازم کو "اسلامی سیکولرازم" کہنے لگے تو کیا ان چیزوں کی حقیقت بدل جائے گی؟ ہرگز نہیں۔ اسی طرح جمہوریت کو "اسلامی جمہوریت" کہنا بھی حقیقت کے اعتبار سے ایک متناقض دعویٰ ہے۔
حافظ محمد عبد اللہ بہاولپوری نے اس مغالطے کا نہایت قوی انداز میں رد کرتے ہوئے فرمایا: "آج کل کے مسلمانوں کا جمہوریت کو اسلامی کہنا تو ان کے کہنے سے جمہوریت اسلامی نہیں ہو سکتی۔" یہ وہ حقیقت ہے جسے بہت سے لوگ جان بوجھ کر نظر انداز کرتے ہیں۔ مغرب کے نظریات کو اسلامی رنگ دے کر پیش کرنا دراصل فکری شکست خوردگی کی علامت ہے۔ جب کوئی قوم اپنے دین کی کامل ہدایت پر اعتماد کھو بیٹھتی ہے تو پھر وہ دوسروں کے نظریات مستعار لے کر ان پر اسلامی رنگ چڑھانے کی کوشش کرتی ہے۔ لیکن اسلام کسی سہارے کا محتاج نہیں۔ اسلام خود ایک مکمل نظام حیات ہے، اسے مغرب کے فلسفوں کی بیساکھیوں کی ضرورت نہیں۔
اسی لیے حافظ صاحب نہایت دو ٹوک الفاظ میں فرماتے ہیں "کفر کو کوئی کتنا بھی اسلامی کہے کفر اسلامی نہیں ہو سکتا، کفر تو کفر ہی رہتا ہے۔ کافر مسلمان ہو جائے تو ہو جائے کفر کبھی اسلام نہیں ہوتا۔" یہ دراصل اس دھوکے کی حقیقت ہے جس کے ذریعے اسلام اور کفر کے درمیان فرق کو مٹانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اہل حق کا طریقہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ وہ حق کو حق اور باطل کو باطل کہنے میں مداہنت سے کام نہیں لیتے۔ وہ الفاظ کے جال میں نہیں پھنستے بلکہ نظریات کی حقیقت کو دیکھتے ہیں۔
لہٰذا اہل اسلام پر لازم ہے کہ وہ کتاب و سنت کے خالص عقیدہ توحید کو مضبوطی سے تھامیں، اللہ تعالیٰ کے حق حاکمیت اور حق تشریع میں شرک کا کھل کر رد کریں، اور ان تمام افکار و نظریات سے ہوشیار رہیں جو اسلام اور جاہلیت، توحید اور شرک، وحی اور خواہش نفس کے درمیان قائم حد فاصل کو مٹانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مسلمان کی عزت، نجات اور سربلندی اسی میں ہے کہ وہ ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کو مقدم رکھے اور اسی کے نازل کردہ نظام کو حق مانے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔