• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جنات سے روایتِ حدیث کا حکم

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
اسلام علیکم،
کسی جن سے روایت کرنے کا کیا حکم ہے؟ حافظ ابن حجر نے الاصابہ میں کافی جن صحابہ کا ذکر کیا ہے اور ان پر جرح والتعدیل بھی کی ہے۔
جن کی انسان سے روایت اور انسان کی جن سے روایت میں کوئی فرق ہے؟
کچھ جنات کی عمر تو کئی کئی ہزار سال ہوتی ہے، تو اگر کوئی صدوق جن آج کے زمانے میں ملے جو سیدھا صحابی یا تابعی سے روایت کرے تو کیا قبول ہو گی، اور کیا اس طرح کوئی تابعی یا تبع تابعی بن سکتا ہے؟
اگر احتیاط کے پیش نظر ان سے کوئی مرفوع یا احکام والی روایت نہ بھی لیں، لیکن صرف یہ کہ اگر اس نے کسی تابعی یا امام، مثلا کہہ لیں کہ اس نے امام بخاری کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے، اور اس سے صرف ان کا حلیہ روایت کر لیا جائے، تو اس کا کیا حکم ہو گا؟
یہ بڑا ہی دلچسپ سوال ہے، میرے لیے۔
جزاک اللہ خیرا۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,006
ری ایکشن اسکور
9,809
پوائنٹ
773
امام مسلم رحمہ اللہ نے کہا:
أَخْبَرَنِي مُسْلِمُ بْنُ يَسَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَكُونُ فِي آخِرِ الزَّمَانِ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ، يَأْتُونَكُمْ مِنَ الْأَحَادِيثِ بِمَا لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ، لَا يُضِلُّونَكُمْ، وَلَا يَفْتِنُونَكُمْ»
[صحيح مسلم 1/ 12 رقم 7]
صحابی رسول ابوہریرہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا آخر زمانہ میں جھوٹے دجال لوگ ہوں گے تمہارے پاس ایسی احادیث لائیں گے جن کو نہ تم نے نہ تمہارے آباء و اجداد نے سنا ہوگا تم ایسے لوگوں سے بچے رہنا مبادا وہ تمہیں گمراہ اور فتنہ میں مبتلا نہ کر دیں ۔
(ترجمہ منقول از:Easy QuranWaHadees V3.31)
اس حدیث میں غورکریں‌ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ آئندہ زمانے میں بے بنیاد حدیثیں بیان کی جائیں گی اورامت پر لازم ہے کہ ان احادیث‌ کو رد کردیں ۔
اس کے بعد اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مردود احادیث کی علامت بتلائی ہے اوروہ یہ کہ لَمْ تَسْمَعُوا أَنْتُمْ، وَلَا آبَاؤُكُمْ، جسے ہمارے آباء و اجداد نے نہ سنا ہو ۔ ''آباء'' یہ جمع کا صیغہ ہے اس میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث صادر ہونے کے زمانے سے لیکر ہمارے اباء واجداد مراد ہوں‌ گے ،
یعنی حدیث کے صحیح ہونے کے لئے لازم ہے کہ اسے ہمارے قدیم آباء اجداد نے بھی سنا ہو مثلا عہد صحابہ کے آباء ، عہد تابعین کے آباء اور بعد کے ادوار کے آباء ۔
اورہمارے آباء نے کسی حدیث‌ کو سنا ہے یا نہیں یہ معلوم کرنے کے لئے حدیث‌ کے سلسلہ رواۃ کو دیکھنا لازم ہے اور سلسلہ رواۃ دیکھنے کے لئے حدیث‌ کے ساتھ اس کی سند ہونا ضروری ہے ، اس کے بعد سندکے ہرطبقہ میں معتبر راوی کا ہونا ضروری ہے تاکہ پتہ چلے کہ اس طبقہ میں ہمارے آباء نے اس حدیث‌ کو سنا ہے یا نہیں ۔
اب اگر یہ ثابت ہوجائے کہ ہرطبقہ میں ہمارے آباء نے اس حدیث‌ کو سنا ہے تو یہ حدیث‌ قابل قبول ہوگی ، اور اگرکسی بھی طبقہ میں ہمارے حدیث‌ کا ہمارے آباء سے سننا ثابت نہ ہو تو اس حدیث‌ کومردود قرار دینا لازم ہے جیسا کہ اوپر پیش کی گئی حدیث میں‌ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس کا حکم دیاہے۔

اب اس حدیث میں لفظ ’’آباء‘‘ پر غورکریں اس سے مستفاد ہوتا ہے کہ حدیث کے معتبرہونے کے لئے ضروری ہے کہ اسے ہمارے ’’آباء‘‘ نے سناہو یعنی سلسلہ سند میں انسانی رواۃ ہوں ۔
لہٰذا اگر کسی حدیث میں ہمارے ’’آباء‘‘ یعنی انسانی رواۃ کے علاوہ جن وغیرہ کا واسطہ آئے تو وہ حدیث مردودہوگی۔

مزید یہ کہ سند کے ہرطبقہ میں راوی کی ثقاہت معلوم ہونا ضروری ہے اور ’’جن‘‘ وغیرہ کی ثقاہت معلوم کرنے کا انسانوں کے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے۔
لہٰذا ’’جن‘‘ کے واسطہ سے آئی ہوئی حدیث میں صحت حدیث کی یہ شرط بھی مفقود ہے۔
 
Top