محمد عامر یونس
خاص رکن
- شمولیت
- اگست 11، 2013
- پیغامات
- 17,117
- ری ایکشن اسکور
- 6,822
- پوائنٹ
- 1,069
جنرل ضیاء الحق
.....مجھے اس سے نفرت ہے
......مجھے اس سے محبت ہے
...
ضیاء الحق پاکستان کی تاریخ کا متنازعہ ترین حکمران رہا ہو گا....تیس برس ہونے کو آئے اس کے اقتدار کو ختم ہوۓ لیکن اپنی اپنی محبت اور اپنی اپنی نفرت کو لیے کوئی اسے بدترین اور کوئی اسے ہیرو اور بہترین گردانتا ہے...انصاف سے سے دونوں گروہ خالی ہیں...دلیل سے بات کرنے کا ہمارے ہاں رواج نہیں.......مجھے اس سے نفرت ہے
......مجھے اس سے محبت ہے
...
ایک طبقہ وہ ہے جسے اس سے نفرت ہے...اصل میں ان کو ہماری روایات اور مذہبی ہونے سے نفرت ہے...لیکن مذھب کو کچھ کہنا ان کے لیے مشکل ہوتا ہے سو وہ ضیاء کی اوٹ لیتے ہیں اور اپنے دل کی بھڑاس نکالتے ہیں... آمریت کی مخالفت محض بہانہ ہے ورنہ اسی "پکے راگ " میں انہوں نے کبھی ایوب خان ، یحیی خان اور مشرف کے بارے میں کچھ کہا ؟...تب یہ درباری راگ گانے لگ جاتے ہیں...بلکہ مشرف کا نام آ جائے تو ان کی آنکھیں عقیدت سے جھک جاتی ہیں کہ موصوف اسی اخلاق باختہ تھذیب کے نمائندے تھے کہ جس کو مغرب کی اترن بھی کہا جاتا ہے اور ہمارے ہاں کے ذہنی غلام اسے پہن کر اپنے آپ کو "ترقی پسند" خیال کرتے ہیں
دوسری طرف مذہبی طبقہ ہے کہ جو ضیاءالحق کو ہمہ وقت "صلاح الدین ایوبی" بنانے کو تلے ہوتے ہیں...وہ بھی ہیرو ازم کے شکار اور حقائق کی دنیا سے دور بستے ہیں..خیالوں اور ماضی کے خوابوں میں صبح شام کرتے ہیں..
محبت کرنا آپ کا حق ہے..اس پر کوئی روک نہیں...لیکن اگر آپ مذھب کی آڑ میں اسے ہیرو بنانے کی کوشش کریں گے تو کچھ سوالات کے جواب دینے ہی ہوں گے
..کہتے ہیں اس نے اسلام نافذ کرنے کی "کوشش" کی...جی ہاں ذرا اس طرف تو آئیے...
**حددو کے نفاز کا اعلان کیا..لیکن گیارہ برس کے اقتدار میں ایک چور کے ہاتھ نہ کاٹے گئے...ایک شرابی کو درے نہ لگے...ایک زانی کو سنگسار نہ کیا گیا.....اگر کسی کے علم میں ایک بندے کو بھی دی گئی سزا ہو گی تو میں اپنی تحریر کو واپس لوں گا....
یہ اضافہ کرتا چلوں کہ جس دور میں ایک شرابی کو کوڑے نہ لگ سکے اس دور میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے لیے یہ "سوغات" وافر دستیاب تھی...منظر یوں ہوتا کہ لکڑی کی ایک ٹکٹکی سجای جاتی...جلاد چمڑے کا کوڑا ہاتھ میں لیے کسی فاسٹ بولر کو طرح دور سے دوڑتا ہوا آتا اور قیدی کی کمر کی کھال اتر جاتی
زانی کی سزا کی بات کرتے ہیں ... ارے جناب "بازار حسن " جس کو "ہیرا منڈی" کہتے ہیں اس دور میں بھی ویسی ہی آب و تاب رکھتی تھی کہ جو پھلے اور آج ہے..البتہ ایک اضافہ ضرور کیا گیا تھا..کہ ضیاء دور میں طوائفوں کو رجسٹریشن کرنے کا کہا گیا..کہ جو رجسٹرڈ ہو جائے گا اس کا پیشہ قانونی حیثیت کا حامل ہو جائے گا....نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے دور میں یہ جملہ عام ہو گیا کہ " لو یہ ہے اسلام "...حالانکہ یہ اسلام نہیں تھا...ضیاء ازم تھا...مجھے کوئی بتایے کہ ایک رات بھی ناموس کی یہ منڈی بند ہوئی ہو ..اس کی روشنیاں ان گیارہ برس میں مدھم پڑی ہوں؟؟
** اس نے نظام زکات قائم کیا...پہلی بار حکومتی سطح پر زکوہ کی وصولی کا اہتمام کیا گیا....لیں جی اسلام آنے کو تھا...لیکن یہ زکات صرف بنک میں رکھے گئے پیسوں پر لی جاتی تھی...اس کے علاوہ اسے عام عوام سے نہ اکٹھا کیا جاتا تھا نہ اس کا کوئی اعلان یا منصوبہ تھا...طرفہ تماشہ یہ کہ زکات بنک کے صرف سودی کھاتوں سے منہا کی جاتی تھی یعنی سیونگ اکاونٹ سے...واہ جی کیسی شاندار "سودی زکات" تھی برکت والی...اور ایسی برکت کہ آج تک جاری ہے....اس طرح اسلام کے اس اہم رکن کا اس دور میں مذاق بنایا گیا....مزید تماشا یہ کیا گیا کہ اعلان کیا گیا کہ جو خود کو شیعہ ڈکلئیر کر دے گا اس کے اکاونٹ سے زکات نہیں کاٹی جائے گی...اس قانون کی "برکت" سے بہت سے گھرانوں نے گھروں پر کالے جھنڈے لہرا لیے
*** موصوف نے پھر ایک شریعت کورٹ بھی بنائی تھی ..ہمارے کچھ علماء کو شوق ہوا کہ شریعت کورٹ بن گئی چلو سود ختم کریں...کیس دائر ہو گیا ، دلائل چلتے رہے..آخر عدالت نے فیصلہ دیا کہ حکومت اتنے ماہ میں سود پر مبنی نظام کو ختم کرنے کی پابند ہے.....کمال کا فیصلہ تھا...ضیاء کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ کم از کم مالیات میں اسلام نافذ ہونے کو ہے...مگر ہوا کیا؟...آپ مان سکتے ہیں کہ امیر المومنین نے کیا کیا؟....آپ نہیں مانیں گے...جی ضیاء حکومت نے اپنی بنی ہوئی عدالت کے اس فیصلے کے خلاف روایتی سپریم کورٹ سے "اسٹے " لے لیا....تھرمامیٹر منہ میں لگائیں تو بخار کا معلوم ہو جاتا ہے نا کہ ہے کہ نہیں ؟...جی یہ "اسٹے آرڈر" ضیاء حکومت کا تھرما میٹر ہے کہ موصوف کتنا اسلام چاہتے تھا ؟.. یا محض اقتدار کی طوالت کے بہانے تھے.....یہ شاید پہلا موقع تھا جب سود سے اس ملک کی جا چھوٹنے کی سنجیدہ کوشش کی گئی جس کو صاحب نے ناکام بنا دیا
.محبت کیجئے آپ کا حق ہے لیکن دماغ کو بند نہ کیجئے سوچیے اور ان سوالوں کے جواب دیجئے
***ایک نظام صلاہ قائم کیا گیا دفاتر میں نماز باجماعت ...لیکن اس پر بات کیا کرنی یہ موصوف کی زندگی میں ہی چند برس چل سکا اور دم توڑ گیا ..مصلے اٹھ گئے..نمازیں بھول گئیں...
میرا سوال ہے کہ جو بندہ اتنا مضبوط تھا ...کہ آدھے ملک کے محبوب لیڈر بھٹو کو پھانسی پر لٹکاتے نہ ڈرا.. اس کو گیارہ سال اقتدار ملا ....کہتے ہیں ہیں اس نے روس کو توڑ ڈالا..لیکن ایک چور کے ہاتھ نہ کاٹ سکا...ایک زانی کو سنگسار نہ کر سکا...ایک رات کے لیے بازار حسن بند نہ کر سکا....سود کا دفاع کرتا رہا...شراب کی ایک فیکٹری کا لائنسنس منسوخ نہ کر سکا.....
ضیاء کی ذاتی زندگی میں اس کے "نظریات" کے مطابق اسلام ضرور دخیل تھا..کہ نمازی تھا...کبھی کبھار علی ہجویری دربار پر اعتکاف بھی بیٹھا تھا...اور محض ...وگرنہ ان کی وجہ سے اسلام کو نقصان پہنچا کہ تمام تگ ودو اپنے اقتدار کے لیے تھی لیکن بدنامی اسلام کے حصے میں آتی رہی...بقول علامہ شہید کوکا کولا کی بوتل میں بند شراب کہ ہر کوئی اسے حلال جان لے لیکن اصلا حرام
آپ ان سے محبت کیجئے آپ کا حق ہے اور کوئی وجہ نہ بھی ہو تو تب بھی کر لیجئے .... لیکن اس محبت کا تعلق اسلام سے نہ جوڑیے....محبت کی اور بہت سی وجوہات ہیں انھیں اختیار کیجئے...ورنہ بھٹو زیادہ بڑا اسلام کا "جرنیل" بن جائے گا کہ
== اس نے شراب پر باقاعدہ پابندی لگائی
== قادیانوں کو کافر قرار دیا
==جمعے کی چھٹی منظور کی
==اسلامی سربراہی کانفرنس کروائی
لیکن ان سب کے باوجود وہ راندہ درگاہ رہا کہ مقصد محض اقتدار تھا
...........ابو بکر قدوسی
..
آپ کو اختلاف کا حق ہے مگر دلیل کے ساتھ کہ میری فلاں بات خلاف واقعہ ہے..اور افغانستان کا ذکر اس لیے نہیں کیا کہ وہ الگ تحریر کا متقاضی ہے
@abubakr quddusi
Last edited: