محمد زاہد بن فیض
سینئر رکن
- شمولیت
- جون 01، 2011
- پیغامات
- 1,961
- ری ایکشن اسکور
- 5,788
- پوائنٹ
- 354
وقال أبو الدرداء: إنما تقاتلون بأعمالكم. وقوله { يا أيها الذين آمنوا لم تقولون ما لا تفعلون * كبر مقتا عند الله أن تقولوا ما لا تفعلون * إن الله يحب الذين يقاتلون في سبيله صفا كأنهم بنيان مرصوص}. الصف: 2 -
4اور ابودرداء رضی اللہ عنہ نے کہا کہ تم لوگ اپنے (نیک) اعمال کی بدولت جنگ کرتے ہو اور اللہ تعالیٰ کا (سورۃ صف میں یہ) ارشاد کہ ”اے لوگو! جو ایمان لا چکے ہو ایسی باتیں کیوں کہتے ہو جو خود نہیں کرتے اللہ کے نزدیک یہ بہت بڑے غصے کی بات ہے کہ تم وہ کہو جو خود نہ کرو ‘ بیشک اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو اس کے راستے میں صف بنا کر ایسے جم کر لڑتے ہیں جیسے سیسہ پلائی ہوئی ٹھوس دیوار ہوں“۔
حدیث نمبر: 2808
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا شبابة بن سوار الفزاري، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، قال سمعت البراء ـ رضى الله عنه ـ يقول أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل مقنع بالحديد فقال يا رسول الله أقاتل وأسلم. قال " أسلم ثم قاتل ". فأسلم ثم قاتل، فقتل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عمل قليلا وأجر كثيرا ".
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شبابہ بن سوار فزاری نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب زرہ پہنے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں پہلے جنگ میں شریک ہو جاؤں یا پہلے اسلام لاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اسلام لاؤ پھر جنگ میں شریک ہونا۔ چنانچہ وہ پہلے اسلام لائے اور اس کے بعد جنگ میں شہید ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کم کیا لیکن اجر بہت پایا۔
کتاب الجہاد صحیح بخاری
حدیث نمبر: 2808
حدثنا محمد بن عبد الرحيم، حدثنا شبابة بن سوار الفزاري، حدثنا إسرائيل، عن أبي إسحاق، قال سمعت البراء ـ رضى الله عنه ـ يقول أتى النبي صلى الله عليه وسلم رجل مقنع بالحديد فقال يا رسول الله أقاتل وأسلم. قال " أسلم ثم قاتل ". فأسلم ثم قاتل، فقتل، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم " عمل قليلا وأجر كثيرا ".
ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شبابہ بن سوار فزاری نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے اسرائیل نے بیان کیا ‘ ان سے ابواسحاق نے بیان کیا کہ میں نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے سنا ‘ وہ بیان کرتے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک صاحب زرہ پہنے ہوئے حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسول اللہ! میں پہلے جنگ میں شریک ہو جاؤں یا پہلے اسلام لاؤں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پہلے اسلام لاؤ پھر جنگ میں شریک ہونا۔ چنانچہ وہ پہلے اسلام لائے اور اس کے بعد جنگ میں شہید ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عمل کم کیا لیکن اجر بہت پایا۔
کتاب الجہاد صحیح بخاری