• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جنگ میں کافرین سے مدد لینا کیسا ہے؟

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
سعودی عرب کے مشہور و قابل اعتماد عالم، مجتہد، اور امام، شیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ نے خلیجی جنگ (Gulf War)کے دوران عراق کے حکمران 'صدام حسین' کے خلاف جنگ میں امریکی افواج سے مدد لینے کا فتویٰ جاری کیا تھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا ایسا کرنا جائز ہے؟؟ کیا جنگ میں کافرین سے مدد لی جا سکتی ہے۔ دلائل سے ثابت کریں۔
جزاک اللہ خیراً
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اس بارے جب شیخ صالح المنجد سے سوال ہوا تو انہوں نے جواب دیا:
مسلمانوں کے خلاف کافرفوج کی مدد کرنے کا حکم

ایک مسلمان تاجر کوکچھ آلات یا غذاء کی فروخت کے لیے سنہری موقع پیش کیا گيا ، یا پھر کسی مسلمانوں سے لڑنے والی کافر فوج کی نقل وحرکت اورمرمت وغیرہ کے ٹھیکے پیش کیے گئے ، توان تجارتی اعمال کا حکم کیا ہوگا ؟
الحمد للہ
علماء اسلام کا فیصلہ ہے کہ مسلمانوں کے خلاف کفار کی مدد کرنا جائز نہيں اورایسا کرنا کفر اور ارتداد ہے ۔
کیونکہ اللہ سبحانہ وتعالی کا ارشاد ہے :
{ اے ایمان والو تم یہودد ونصاری کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہيں میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالی ہرگز راہ راست نہيں دکھاتا } المائدۃ ( 51 ) ۔
فقہاء اسلام جن میں آئمہ حنفیہ ، مالکیہ ، شافعیہ ، اورحنابلہ اور ان کے علاوہ باقی سب شامل ہیں نے بالنص یہ بات کہی ہے کہ کفار کو ايسی چيز بچنا حرام ہے جس سے وہ مسلمانوں کے خلاف طاقت حاصل کریں چاہے وہ اسلحہ ہو یا کوئي جانور اورآلات وغیرہ ۔
لہذا انہيں غلہ دینا اورانہيں کھانا یا پینے کے لیے پانی وغیرہ یا کوئي دوسرا پانی اورخیمے اورگاڑیاں اور ٹرک فروخت کرنا جائز نہيں ، اورنہ ہی ان کی نقل وحمل کرنا ، اوراسی طرح ان کےنقل وحمل اورمرمت وغیرہ کے ٹھیکے حاصل کرنا بھی جائز نہيں بلکہ یہ سب کچھ حرام میں بھی حرام ہے ، اور اس کا کھانے والا حرام کھا رہا ہے اورحرام کھانے والے کے لیے آگ یعنی جہنم زيادہ بہتر ہے ۔
لہذا انہیں ایک کھجور بھی فروخت کرنی جائز نہیں اورنہ ہی انہیں کوئي اسی چيز دینی جائز ہے جس سے وہ اپنی دشمنی میں مدد وتعاون حاصل کرسکیں ، لھذا جومسلمان بھی ایسا کرے گا اسے آگ ہی آگ ہے اوریہ ساری کی ساری کمائي حرام اورگندی ہوگي اس کے لیے جہنم زیادہ اولی ہے ، بلکہ یہ کمائي تو اخبث الخبث کا درجہ رکھتی ہے ۔
انہیں کوئي ادنی سی بھی ایسی چيز دینی جائز نہيں جس سے وہ مسلمانوں کے خلاف مدد حاصل کرسکتے ہوں ۔
امام نووی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب " المجموع " میں کہتے ہیں :
اہل حرب یعنی ( لڑائي کرنے والے کافروں ) کو اسلحہ بیچنا بالاجماع حرام ہے ۔ اھـ
اورحافظ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے اپنی کتاب " اعلام الموقعین میں کہا ہے :
امام احمد رحمہ اللہ تعالی کہتے ہیں :
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنہ میں اسلحہ فروخت کرنے کے لیے منع کیا ہے ۔۔۔۔ اوریہ تومعلوم ہی ہے کہ اس طرح کی فروخت میں گناہ اوردشمنی میں معاونت پائي جاتی ہے ، اوراسی معنی میں ہر وہ خریدوفروخت یا اجرت اورمعاوضہ جو اللہ تعالی کی معصیت ونافرمانی میں معاونت کرے وہ بھی حرام ہے مثلا کفار یا ڈاکووں کو اسلحہ فروخت کرنا ۔۔۔۔ یا کسی ایسے شخص کو مکان کرائے پر دینے جو وہاں معصیت ونافرمانی کا بازار گرم کرے ۔
اوراسی طرح کسی ایسے شخص کو شمع فروخت کرنا یا کرائے پردینا جواس کے ساتھ اللہ تعالی کی نافرمانی ومعصیت کرے یا اسی طرح کوئي اورکام جواللہ تعالی کے غيظ وغضب دلانے والے کام میں معاون ثابت ہو ۔اھـ
اورالموسوعة الفقھیةمیں ہے کہ :
اہل حرب اورایسے شخص جس کے بارہ میں معلوم ہو کہ وہ ڈاکو ہے اورمسلمانوں کولوٹے گا یا پھر مسلمانوں کے مابین فتنہ پھیلائے گا اسے اسلحہ بیچنا حرام ہے ۔
حسن بصری رحمہ اللہ تعالی کہتے ہيں :
کسی بھی مسلمان کےلیے حلال نہيں کہ وہ مسلمانوں کے دشمن کے پاس اسلحہ لیجائے اورانہیں مسلمانوں کے مقابلہ میں اسلحہ کے ساتھ تقویت دے ، اورنہ ہی انہیں گھوڑے ، خچر اورگدھے دینا حلال ہیں ، اورنہ کوئي ایسی چيز جواسلحہ اورگھوڑے ، خچر اورگدھوں کے لیے ممد ومعاون ہو ۔
اس لیے کہ اہل حرب کو اسلحہ بيچنا انہیں مسلمانوں سے لڑائي کرنے میں تقویت پہنچانا ہے ، اوراس میں ان کے لیے لڑائي جاری رکھنے اوراسے تیز کرنے میں بھی تقویت ملتی ہے ، کیونکہ وہ ان اشیاء سے مدد حاصل کرتے ہیں جس کی بنا پر یہ ممانعت کی متقاضي ہے ۔ اھـ
دیکھیں الموسوعةالفقھية ( 25 / 153 )۔
یہ مسئلہ کوئي عادی اورعام یا پھر چھوٹا ساگناہ و معصیت نہيں بلکہ یہ مسئلہ توعقیدہ توحید اورمسلمان کی اللہ تعالی کے دین سے محبت اوراللہ کے دشمنوں سے برات و لاتعلقی سے تعلق رکھتا ہے ، آئمہ کرام نے اپنی کتب میں اس کے بارہ میں اسی طرح لکھا ہے ۔
شیخ ابن باز رحمہ اللہ تعالی نے اپنے فتوی میں کہا ہے :
علماء اسلام کا اس پراجماع ہے کہ جس نے بھی مسلمانوں کے مقابلہ میں کفار کی مدد ومعاونت کی اورکسی بھی طریقہ سے ان کی مدد کی وہ بھی ان کی طرح ہے کافر ہے ۔ جیسا کہ اللہ سبحانہ وتعالی کا فرمان ہے :{ اے ایمان والو تم یھود ونصاری کو دوست نہ بناؤ یہ تو آپس میں ہی ایک دوسرے کے دوست ہیں ، تم میں سے جو بھی ان میں سے کسی سے دوستی کرے وہ بے شک انہيں میں سے ہے ، ظالموں کو اللہ تعالی ہرگز راہ راست نہيں دکھاتا } المائدۃ ( 51 ) ۔ دیکھیں : فتاوی ابن باز رحمہ اللہ ( 1 / 274 ) ۔
واللہ تعالی اعلم۔
الشیخ محمد صالح المنجد
نوٹ:پس ثابت ہوا کہ مسلمانوں کے خلاف کسی بھی کافر کی کسی بھی اعتبار سے مدد حرام اور کفر ہے۔ہاں!کفار کے خلاف کفار کی مدد کی جا سکتی ہے جبکہ مقصود ظلم کا خاتمہ ہو یا کفر کی شان وشوکت کا خاتمہ ہو۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
جواب تلاش کرنے کا بھت شکریہ، لیکن بھائی جان میرا سوال یہ تھا کہ کیا ہم کفار کے خلاف کفار سے مدد لے سکتے ہیں نہ کہ کیا ہم کفار کی مدد کر سکتے ہیں۔
مہربانی فرما کر اس کا بھی جواب ڈھونڈ دیں۔

جزاک اللہ خیراً
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
آپ اپنے سوال کی کچھ مزید وضاحت کر دیں تو آسانی رہے گی کہ آپ مددلینے اور مدد کرنے میں کیا جوہری فر ق کرتے ہیں؟
یعنی کافر کی مدد کرنے اور اس سے مدد لینے میں کیا فرق ہے؟
آپ کے سوال کے تناظر میں مسلمان حکومتوں کی طرف سے امر واقعہ میں کفار کی مدد کرنے کی کوئی ایسی صورت ہمارے علم میں نہیں ہے جس میں ان کی مدد نہ لی جاتی ہو۔
اسی طرح کفار سے مدد لینے کی کوئی ایسی صورت ہمارے سامنے نہیں ہے کہ جن میں ان کی مدد نہ کی جاتی ہے۔ یعنی یہ دو طرفہ معاہدے اور باہمی تعاون کے ساتھ کام ہوتا ہے جیسا کہ میرا خیال ہے۔اور یہ آپس میں لازم وملزوم ہیں۔گلف وار میں سعودی عرب نے صرف مدد لی نہیں بلکہ امریکہ کی مدد کی بھی ہے اور یہ ہر شخص پر واضح ہے۔ اسی طرح افغانستان میں پاکستانی حکمرانوں نے امریکہکی صرف مدد کی نہیں ہے بلکہ لی بھی ہے۔ لہذا مدد کرنا اورمدد لینا امر واقعہ کے اعتبار سے ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں۔
اگر آپ کے پاس کوئی خاص نقطہ ہے ان دونوں میں فرق کے حوالہ سے ، تو اس پر غور کیا جا سکتا ہے۔
جزاکم اللہ خیرا۔
 

رضا میاں

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 11، 2011
پیغامات
1,557
ری ایکشن اسکور
3,583
پوائنٹ
384
جزاک اللہ خیراً، بھائی جان آپ کی مدد کا بہت شکریہ، مجھے جواب مل چکا ہے، یہ مسئلہ علماء میں مختلف فیہ ہے۔ میں نے چند علماء کے فتاویٰ اس مسئلے پر تلاش کیے ہیں، یہ انگریزی میں ہےلیکن میں نے اس کا ترجمہ کیا، اس لیے غلطی ہو سکتی ہے۔ اور اس کے علاوہ بھی بہت سے دلائل حافظ ابن حجر، امام بخاری، اور امام نووی سے ملے ہیں جو اس بات کی دلالت کرتے ہیں کہ کفار سے مدد ضرورت کے وقت لی جا سکتی ہے۔ شیخ بن باز اس مسئلے میں اکیلے نہیں ہیں۔ علماء سے ان کی موافقت ملتی ہے۔
شیخ بن باز کا فتویٰ
ان سے پوچھا گیا کہ، کفار سے مدد لینے یا ان کی مدد قبول کرنے کے بارے میں کیا حکم ہے؟؟
شیخ بن باز کا جواب: الحمدللہ، جو شخص ان سے مدد لیتا یا قبول کرتا ہے، اگر ایسا کرنا اس کی مذہبی پابندی (religious commitment) پر مضر اثرات ڈالنے کا خطرا نہیں بنتا، تو ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ لیکن اگر ایسا کرنے میں کوئی خطرہ لاحق آتا ہے تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔
مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے چند مشرکین سے تحائف قبول کیے اور باقیوں سے نہیں۔ اور اس کی وجہ وہی ہے جو ہم نے اوپر بیان کی ہے۔
مجموع فتاوی و مقالات متنویعہ لسماحت الشیخ عبدالعزیز بن باز، جلد 8، صفحہ: 432۔

English:
What is the ruling on seeking and accepting help from the kuffaar?
Praise be to Allaah.
That depends. If there is no risk that seeking or accepting their help will have a harmful impact on the religious commitment of the one who asks for or accepts their help, then there is nothing wrong with that. But is there is any risk involved, then it is not permissible to ask for their help or to accept it – in accordance with the shar’i evidence which indicates that it is obligatory to avoid that which Allaah has forbidden and to keep away from that which will earn the wrath of Allaah. It was reported that the Prophet (peace and blessings of Allaah be upon him) accepted gifts from some of the mushrikeen and not from others. The reason for that was what we have noted above, as was stated by the scholars.

And Allaah is the Source of strength. May Allaah bless our Prophet Muhammad and his family and companions, and grant them peace.

Majmoo Fataawa wa Maqaalaat Mutanawwi’ah li Samaahat al-Shaykh al-‘Allaamah ‘Abd al-‘Azeez ibn ‘Abd-Allaah ibn Baaz (may Allaah have mercy on him), vol. 8, p. 432


اسی طرح شیخ صالح العثیمین سے بھی اسی طرح منقول ہے،
ان سے پوچھا گیا کہ
ما هو الفرق بين موالاة الكفار وتوليهم ؟
تو انہوں نے جواب دیا کہ:
الحمد لله
"المولاة معناها : المناصرة والمساعدة على أمورهم الكفرية ، ومن ذلك أن يقاتل المسلمون مع الكفار ، يعني مثلاً يقوم الكفار بغزو بلد من البلدان الإسلامية فيتولاهم هذا المسلم وينصرهم ويساعدهم على هذه البلدة في القتال سواءً بالسلاح أو بإمدادهم بأي شيء يساعدهم على قتال المسلمين ، هذا من موالاتهم ، وهو أيضاً من توليهم ، فإن المولاة والتولي يراد بها هنا المناصرة وأن يكون يداً معهم على المسلمين .
أما الاستعانة بهم فهذا يرجع إلى المصلحة ، إن كان في ذلك مصلحة فلا بأس ، بشرط أن لا نخاف من شرهم وغائلتهم وألا يخدعونا ، وإن لم يكن في ذلك مصلحة فلا يجوز الاستعانة بهم لأنهم لا خير فيهم".
لقاءات الباب المفتوح للشيخ محمد بن صالح العثيمين ص
20.
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
أما الاستعانة بهم فهذا يرجع إلى المصلحة ، إن كان في ذلك مصلحة فلا بأس ، بشرط أن لا نخاف من شرهم وغائلتهم وألا يخدعونا ، وإن لم يكن في ذلك مصلحة فلا يجوز الاستعانة بهم لأنهم لا خير فيهم".
شیخ صالح العثیمین رحمہ اللہ کی اس عبارت کا ترجمہ یہ ہے:
کفار سے مدد حاصل کرنا مصلحت کے تابع ہے۔ اگر اس میں کوئی مصلحت عامہ ہو تو ایسی مدد حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے بشرطیکہ ان کی طرف سے شرارت، دھوکے وغیرہ کا خوف نہ ہو۔ اور اگر اس میں کوئی مصلحت عامہ نہ ہو تو ایسی استعانت جائز نہیں ہے کیونکہ ان میں کوئی خیر نہیں ہے۔
ماشاء اللہ !رضا بھائی!آپ تو کم ازکم ہمارے جیسے مفتی بن گئے ہیں یعنی کاپی پیسٹ۔(مسکراہٹیں)
اپنی مدد آپ کا ایک بار پھر شکریہ!
جزاکم اللہ خیرا۔
 
Top