• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جنیاتی عدم مطابقت‘منگنیاں ٹوٹنے لگیں

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,567
ری ایکشن اسکور
6,717
پوائنٹ
1,207
سعودی عرب میں شادی سے پہلے طبی معائنہ کروانے کے لازمی ہونے کے نتیجے میں ہزاروں جوڑوں نے اپنی منگنیاں توڑ دی ہیں۔

سعودی گیزٹ ویب سائٹ کے مطابق گزشتہ برس تقریباً ایک لاکھ 65 ہزار جوڑوں نے اپنے طبی معائنہ کروانے کے بعد ’جنیاتی عدم مطابقت‘ کی رپورٹ آنے کے بعد شادی نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

سعودی عرب میں شادی سے پہلے سکل سیل انیمیا اور ایچ آئی وی جیسی بیماریوں کے ٹیسٹ کروانے کو جوڑوں کےلیےلازم قرار دیاگیا ہے۔

وزارتِ صحت کے ڈاکٹر محمد السعیدی کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد والدین کو مختلف بیماریوں میں مبتلا ہونے اور بچوں میں جنیاتی نقائص کے خطرات کو کم کرنا ہے۔

ڈاکٹر سعیدی کے مطابق 60 فیصد جوڑوں نے اپنے طبی معائنے کے نتائج آنے کے بعد اپنی منگنیاں توڑ دی ہیں جو ان کے بقول کامیابی کی نشانی ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا ’طبی خطرات کی وجہ سے منگنیوں کے ٹوٹنے میں اضافہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ معاشرہ تعلیم یافتہ ہوگیا اور وہ جسمانی صحت کی اہمیت کے بارے میں جان گیا ہے۔اس عمل سے خاندان اور ملک کے لیے پیسہ بھی بچےگا۔‘

جنوری میں ریاض کے مقامی جنیاتی محقق نے بتایا تھا کہ دنیا میں سب سے ذیادہ جنیاتی بیماریاں سعودی عرب میں پائی جاتی ہیں۔

شادی سے پہلے طبی معائنے کا مقصد قریبی رشتہ داروں کے درمیان شادیاں کروانے کے عمل کو روکنا ہے۔ جو کہ سعودی عرب میں برسوں سے ہوتا آ رہا ہے جس سے اولاد میں سنجیدہ طبی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
 

طلحہ غازی

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 05، 2015
پیغامات
20
ری ایکشن اسکور
8
پوائنٹ
13
کیا اس بات میں واقعی کوئی حقیقت ہے کہ اپنے رشتے داروں میں شادی کرنے سے طبی مسائل ہوتے ہیں؟؟؟
میرے خیال میں ایسا اگر کچھ ہوتا تو اسلام نے رہنمائی ضرور دی ہوتی اس معاملہ میں
 

یوسف ثانی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
ستمبر 26، 2011
پیغامات
2,763
ری ایکشن اسکور
5,401
پوائنٹ
562
کیا اس بات میں واقعی کوئی حقیقت ہے کہ اپنے رشتے داروں میں شادی کرنے سے طبی مسائل ہوتے ہیں؟؟؟
میرے خیال میں ایسا اگر کچھ ہوتا تو اسلام نے رہنمائی ضرور دی ہوتی اس معاملہ میں
مسلسل کزن در کزن شادیاں ہوتے رہنے سے یہ طبی بیماریاں جنم لیتی ہیں۔ اسی لئے اسلام میں شادی کے لئے ذات پات، رنگ و نسل کی کوئی قید نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی مختلف قبائل میں شادیاں کرکے مثال قائم کی۔ ایک آدھ مرتبہ کزنز کی شادی سے کچھ نہیں ہوتا۔
 

کنعان

فعال رکن
شمولیت
جون 29، 2011
پیغامات
3,564
ری ایکشن اسکور
4,420
پوائنٹ
521
السلام علیکم

کزن میرج پر ہمارے خاندان میں تمام شادیاں کزن میرج ہیں، میری والدہ میرے والد محترم کی کزن ھے، اندازہ کے مطابق میچ نہ ہونے کی وجہ سے چند ایک باہر ہوئی ہیں۔ جن میں دو کزن ایک کے تین بچے اور دوسرے کے دو بچے ڈس ایبل ہیں، خاندان کی شادیوں میں الحمد اللہ ایسا کوئی واقعہ نہیں۔

عیسائیوں میں کزن میرج منع ھے ان کے مذہب کے مطابق وہ کزن کو بھی خونی رشتہ تسلیم کرتے ہیں، اور چند عشروں سے یہ بات سامنے آ رہی ھے کہ کزن میرج سے بچوں میں کی پیدائش میں ڈس ایبلیٹی پائی جاتی ھے۔ ہمیں ہمارے مذھب میں ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی اور نہ ہی ایسا کچھ ہوا ھے اس لئے میں اس پر اتفاق نہیں کرتا۔

والسلام
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
کیا کوئی واضح نص قرآن و سنت میں اس کے خلاف ملتی ہے؟
یعنی کزن میرج کے خلاف؟
اسلام نےتو کزن میرج کی حوصلہ افزائی کی ہے ؛قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے واضح ارشاد فرمایا ہے کہ :
يٰٓاَيُّهَا النَّبِيُّ اِنَّآ اَحْلَلْنَا لَكَ اَزْوَاجَكَ الّٰتِيْٓ اٰتَيْتَ اُجُوْرَهُنَّ وَمَا مَلَكَتْ يَمِيْنُكَ مِمَّآ اَفَاۗءَ اللّٰهُ عَلَيْكَ وَبَنٰتِ عَمِّكَ وَبَنٰتِ عَمّٰتِكَ وَبَنٰتِ خَالِكَ وَبَنٰتِ خٰلٰتِكَ الّٰتِيْ هَاجَرْنَ مَعَكَ ۡ وَامْرَاَةً مُّؤْمِنَةً اِنْ وَّهَبَتْ نَفْسَهَا لِلنَّبِيِّ اِنْ اَرَادَ النَّبِيُّ اَنْ يَّسْتَنْكِحَهَا خَالِصَةً لَّكَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِيْٓ اَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُمْ لِكَيْلَا يَكُوْنَ عَلَيْكَ حَرَجٌ ۭ وَكَانَ اللّٰهُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا >> الاحزاب 50 )
ترجمہ :
اے نبی! ہم نے آپ پر آپ کی وہ بیویاں حلال کردی ہیں جن کے حق مہر آپ ادا کرچکے ہیں اور وہ کنیزیں بھی جو آپکے قبضہ میں ہیں جو اللہ نے آپ کو غنیمت کے مال سے دی ہیں ۔ نیز آپ کے چچا، پھوپھیوں ، ماموں اور خالاؤں کی بیٹیاں بھی جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے۔ نیز وہ مسلمان عورت بھی جو اپنے آپ کو نبی کے لئے ہبہ کر دے اور نبی اس کو نکاح میں لینا چاہے یہ رعایت صرف آپ کے لئے ہے دوسرے مسلمانوں کو نہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ ہم نے مومنوں پر ان کی بیویوں اور مقبوضہ کنیزوں کے بارے میں کیا فرض کیا ہے ۔ (اور آپ کو یہ رعایت اس لئے ہے) کہ آپ پر کوئی تنگی نہ رہے اور اللہ معاف کرنے والا، رحم کرنے والا ہے ‘‘سورہ احزاب ۔آیت نمبر 50 )

اور نبی کریم ﷺ کا اپنا عمل بھی اس پر ہے کہ آپ نے اپنی پھوپی زاد ۔۔زينب بنت جحش رضي الله عنها ۔سے شادی کی ۔
اور اپنی صاحبزادی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی اپنے چچا زاد جناب علی رضی اللہ عنہ سے کی ۔۔

اور اگر کزن میرج بالعموم نقصان دہ ہوتی ،تو یقیناً اللہ تعالی اس کو حلال نہ کرتا ۔۔
ہاں کبھی ایک آدھ کزن میرج کے نتیجے میں کوئی بیماری سامنے آئے ،تو یہ ’’ کل ‘‘ کا حکم لگانے کیلئے کافی نہیں ۔
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,476
پوائنٹ
791
بسم اللہ الرحمن الرحیم​
کزن میرج کی شرعی حیثیت
سوال:

کزن میرج کی شرعی حیثیت کیا ہے، جدید طب کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ کزن میرج کی وجہ سے پیدا ہونے والی اولاد موروثی بیماریوں سے محفوظ نہیں رہتی، اس لئے اپنے رشتہ داروں سے باہر شادی کرنا چاہیے، وضاحت کریں؟

جواب:

ہم مسلمان ہیں، ہمیں زندگی گزارنے کیلئے ہر قسم کی راہنمائی کتاب و سنت سے لینا چاہیے، ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ مغربی تہذیب جو بات کہے وہ حدیث بن جائے اور جس کی وہ مخالفت کرے ہم بھی سوچے سمجھے بغیر اس کی مخالفت شروع کر دیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ امریکہ کی بعض ریاستوں میں کزن میرج پر قانونی پابندی عائد ہے کیونکہ ان کے نزدیک ایسا کرنا بیماریوں کو دعوت دینا ہے۔ ہم لوگ بھی ان کی دیکھا دیکھی اس طرح کا ذہن رکھتے ہیں کہ کزن میرج بیماریوں کا پیش خیمہ ہے اور ہمارے زرخرید میڈیا نے بھی اس قسم کا شور مچا رکھا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے جو چیزیں حلال کی ہیں وہ ہر گز انسانوں کیلئے نقصان دہ نہیں اور جو چیزیں اسلام نے حرام کی ہیں وہ کسی صورت میں ہمارے لیے فائدہ مند نہیں بن سکتیں۔ چنانچہ اس سلسلہ میں ہمیں قرآن و حدیث سے راہنمائی لینی چاہیے۔

قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: ''اے نبی! ہم نے تمہارے لئے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کئے ہیں اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں اور تمہاری وہ چچا زاد، پھوپھی زاد، ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے۔ (الاحزاب: ۵۰)

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے کزن میرج کی زد میں جتنے بھی رشتے آتے ہیں، ان کا نام لے کر وضاحت کی ہے کہ وہ تمہارے لئے حلال ہیں۔ اگر طبی نقطہ نظر سے ان میں کوئی خرابی ہوتی تو اللہ تعالیٰ اپنے نبیﷺ کو اس سے منع کر دیتے اور آپ کی امت پر بھی پابندی لگا دیتے۔ لیکن اسلام نے ایسا کرنے کے بجائے ان رشتوں کی ترغیب دی ہے اور جن میں کوئی اخلاقی یا روحانی قسم کا خطرہ تھا ان پر پابندی لگائی ہے، مثلاً رسول اللہﷺ نے پھوپھی اور بھتیجی نیز خالہ اور بھانجی اس کے علاوہ دو حقیقی بہنوں کو بیک وقت اپنے نکاح میں رکھنے کو حرام کہا ہے۔ چنانچہ حدیث میں اس کی صراحت موجود ہے۔ کزن میرج کی وجہ سے جو خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں ان کی شرعاً کوئی حیثیت نہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ بعض موروثی امراض والدین سے اولاد میں منتقل ہو جائیں لیکن یہ بھی ضروری نہیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ایک نسل کسی مرض میں مبتلا رہی ہے تو اسی گھرانے کی کئی نسلیں بالکل اس مرض سے محفوظ رہتی ہیں۔ بہرحال یہ لازمی نہیں کہ کزن میرج ہی بیماریوں کا سبب ہے بلکہ ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ بیماریاں اللہ کی طرف سے ہیں وہ جس کو چاہتا ہے بیماری میں مبتلا کر دیتا ہے، کبھی بیماری کا کوئی سبب ہوتا ہے اور کبھی بغیر سبب کے بھی بیماری لگ جاتی ہے۔ ہمارے رجحان کے مطابق کزن میرج بالکل درست ہے اور ایسا کرنے سے بیمار اولاد کا پیدا ہونا ضروری نہیں۔ (واللہ اعلم)
 
Last edited:
شمولیت
مارچ 08، 2012
پیغامات
214
ری ایکشن اسکور
147
پوائنٹ
89
کزن میرج کے حوالے سے یہ بھی سنا ہے کہ اولاد میں صرف بیٹیاں یا بیٹیاں کثرت سے ہوتی ہیں۔
 

naima222

مبتدی
شمولیت
اکتوبر 23، 2015
پیغامات
1
ری ایکشن اسکور
0
پوائنٹ
2
کزن در کزن میرج ہونے سے یہ مسئلہ پیش آتا ہے لیکن اگر علاج بہتر طور پہ کروایا جائے تو نتائج مختلف ہوتے ہیں
 

lovelyalltime

سینئر رکن
شمولیت
مارچ 28، 2012
پیغامات
3,735
ری ایکشن اسکور
2,893
پوائنٹ
436
السلام علیکم

کزن میرج پر ہمارے خاندان میں تمام شادیاں کزن میرج ہیں، میری والدہ میرے والد محترم کی کزن ھے، اندازہ کے مطابق میچ نہ ہونے کی وجہ سے چند ایک باہر ہوئی ہیں۔ جن میں دو کزن ایک کے تین بچے اور دوسرے کے دو بچے ڈس ایبل ہیں، خاندان کی شادیوں میں الحمد اللہ ایسا کوئی واقعہ نہیں۔

عیسائیوں میں کزن میرج منع ھے ان کے مذہب کے مطابق وہ کزن کو بھی خونی رشتہ تسلیم کرتے ہیں، اور چند عشروں سے یہ بات سامنے آ رہی ھے کہ کزن میرج سے بچوں میں کی پیدائش میں ڈس ایبلیٹی پائی جاتی ھے۔ ہمیں ہمارے مذھب میں ایسی کوئی دلیل نہیں ملتی اور نہ ہی ایسا کچھ ہوا ھے اس لئے میں اس پر اتفاق نہیں کرتا۔

والسلام

 
Top