• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

جو شخص بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے گا ، وہ ارشاد نبوی کے مطابق دجّال و کذّاب ھے۔

شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,117
ری ایکشن اسکور
6,823
پوائنٹ
1,069
بسمہ اللہ الرحمٰن الرحیم ۔
قرآن کریم اور احادیث متواترہ کی بنا پر امت مسلمہ کا قطعی عقیدہ چلا آیا ھے کہ خاتم النبیین سیدنا و سندنا و مولانا و نبینا و حبیبنا یٰسین، طٰہ، مزمل ، مدثر، نذیر و بشیر، محمود، احمد محمد الرسول اللہ من لا نبی بعدہ آخری نبی ھیں۔آپ کے بعد کوئی نبی نہیں۔ آپ کی شریعت آخری شریعت ھیں، اس کے بعد کوئی شریعت نہیں۔لہذا اب جو شخص بھی نبوت و رسالت کا دعویٰ کرے گا ، وہ ارشاد نبوی کے مطابق دجّال و کذّاب ھے۔اب تک جن دجالوں اور کذابوں نے نبوت کا علی الاعلان یا غیر اعلانیہ ختم بنوت و منصب رسالت کا انکا کیا ھیں ،ان کے نام درج ذیل ھیں۔
(۱) مسیلمہ کذّاب(۲) عنسی اسود(۳) طلیحہ اسدی(۴) سجاح بنت حارث(۵) حارث دمشقی(۶) مغیرہ بن سعید(۷) بیان بن سمعان(۸) صالح بن ظریف(۹) اسحاق اخرس(۱۰) استاد سیس خراسانی (۱۱)علی بن محمد خارجی(۱۲) مختار بن ابو عبید ثقفی(۱۳) حمدان بن اشعث قرمطی(۱۴) علی بن فضل یمنی(۱۵) حامیم بن من للہ(۱۶) عبدالعزیز باسندی(۱۷) ابو طیب احمد بن حسین(۱۸) ابو القاسم احمد (۱۹) عبدالحق مرسی(۲۰) با یزید روشن جالندھری(۲۱) میر محمد حسین مشہدی(۲۲) مرزا غلام قادیانی(۲۳) یوسف کذاب(۲۴) گوھر شاھی سر فہرست ھیں۔

اس کے علاوہ کچھ اور لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا تھا ۔

چوھدری غلام احمد پرویز بیشک دجال یعنی دھوکہ بار اور کذاب یعنی جھوٹا تھا ۔ تاھم اس نے ایک چالاکی کی کہ مرزا غلام قادیانی کے انجام سے ڈر کر کھلم کھلا تو نبوت کا دعویٰ نہیں کیا اور بر ملا ختم نبوت کا انکار نہین کیا ۔ لیکن غیر اعلانیہ اس نے نہ صرف ختم نبوت کا انکار کیا بلکہ منصب رسالت کا بھی انکار کیا۔ ختم نبوت اور منصب رسالت کا مطلب ،مقصد اور فلسفہ ھی یہی ھے کہ اب کسی نبی نے نہین آنا لہذا جناب رسول اللہ ھمیشہ ھمیشہ کے لئے منصب ختم نبوت اور منصب رسالت پر فائز رھیں گے۔اس عقیدہ کے تحت شریعت محمدیہ کو بھی آخری شریعت ماننا فرض ٹھہرا۔

لیکن غلام پرویز نے نیا عقیدہ پیش کیا کہ جناب رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ و سلم کی وفات کے بعد ان کی رسالت بھی ختم ھوچکی ، ان کی اطاعت بھی ختم ھوگئی،اب اپنے فیصلے خود ھی کر نے ھوں گے ۔غلام احمد پرویز نے نیا عقیدہ پیش کیا کہ اب کوئی بھی مسلمان حکمران یعنی مر کز ملت شریعت محمدیہ میں تبدیلی کر سکتا ھے ۔نئی شریعت پیش کر سکتا ھے ۔حتیٰ کہ مسلمان حکمران یعنی مر کز ملت کو یہ اختیار حاسل ھے کہ وہ نمازکے طریقے اور اوقاتکو تبدیل کر سکتا ھے ۔حج، صوم اور زکوٰۃ سمیت کسی بھی حکم کے بارے میں اپنے اپنے دور کے مطابق رد و بدل کر سکتا ھے ۔غلام پرویز نے قرآن کریم کے نئی معنی اور نئے مطالب پیش کئے اور ایک بالکل نئی شریعت پیش کی جس کو شریعت پرویزیہ کہا جا سکتا ھے ۔

پرویز نہ صرف منکر حدیث تھا بلکہ منکر ختم نبوت منکر منصب رسالت اور منکر شریعت تھا ۔قرآنی تعلیمات کے نام پراپنے نئے نئے عقائید پیش کر کے گویا خود کو غیر اعلانیہ طور پر منصب نبوت پر فائز کر نے کی جسارت کی۔اب بھی اس کے مر نے کے بعد اس کے پیروکار پاکستان بھر میں اور فیس بک پر اسلام، شعار اسلام،اکابرین اسلام اور عام مسلمانوں کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ھیں۔ان سب فتنوں کے خلاف بر سر پیکار ھونا ھر مسلمان کی دینی ذمہ داری ھے ۔

وما علینا الا البلاغ ۔
 
Top