ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 810
- ری ایکشن اسکور
- 224
- پوائنٹ
- 111
جہادیوں کے ہاتھ بہت جادوئی چیز لگی ہے: "حکمت"
از قلم : مفتی اعظم حفظہ اللہ
جس طرح بنی اسرائیل کے علماء خود کو ربانی کہہ کر اپنے ہر کفر اور حرام خوری کو جائز ٹھہراتے تھے، اور روافض کے علماء "سید"، "آیت اللہ" اور غائب "امام کا نمائندہ" بن کر روافض کی عزتوں اور اموال کو ہڑپ کرتے ہیں، اہلِ سنت کہلوانے والے عالم دین، پیرِ طریقت، حضرت اقدس، شیخ الاسلام کے القابات تلے ہاتھ مارتے ہیں۔ جس طرح خائن حکمران حبِ وطن، ملکی دفاع کے نام پر رعایا کے اموال اور ایمان لوٹتے ہیں، اسی طرح جہادیوں نے اپنے کفر و ارتداد کو چھپانے اور اپنے متبعین کے ایمان کے شکار کے لیے "حکمت" کا لفظ پسند کیا ہے، اور اپنی ہر غلاظت و نجاست پر حکمت کی چادر ڈال کر اپنے پیروکاروں سے چھپا لیتے ہیں۔
اس کا آغاز سب سے پہلے القاعدہ المرتدہ نے کیا، جب وزیرستان میں پناہ لینے کی وجہ سے وزیرستان کے قبائلیوں کے خلاف آپریشن ہوا، تو القاعدہ والوں نے لڑنے سے انکار کر دیا۔
سوچو کہ آپ کو ایک شخص پناہ دے، اور آپ ہی کی وجہ سے اس شخص پر حملہ ہو جائے، وہ اپنے بچوں اور خاندان کے تحفظ کے لیے لڑنے لگے، لیکن آپ لڑنے سے انکار کر کے اس کے گھر کے ایک کمرے میں مختلف کھانوں سے دل بہلاتے ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے رہیں۔
القاعدہ سے جب اس بے غیرتی اور دیوث پن کے متعلق استفسار ہوا، تو انہوں نے منہ ٹیڑھا کر کے قبائلیوں سے کہا: "حکمت ہے یہ، اور اس میں اسلام کا بہت فائدہ ہے کہ ہم اپنی جانیں اور اپنی تنظیم کو بچائیں، ہم عالمی منصوبے بنا رہے ہیں، اس لیے ایسی مقامی لڑائیوں میں ہمیں اپنے آپ کو ضائع نہیں کرنا چاہیے"۔
بس یہاں سے پھر حکمت کا لفظ القاعدہ کے دیوثوں کا اوڑھنا بچھونا بن گیا۔ علماء سوء کو استاد استاد کہنے لگے۔ کسی نے پوچھا یہ کیا؟ تو کہا: "حکمت ہے"۔ وطن پرست ملیشیاؤں، جماعت الدعوہ، اور جمہوری جماعتوں، جمعیت اور جماعت اسلامی سے دوستیاں کیں۔ وجہ پوچھی تو "حکمت"۔ اللہ کے احکامات سے انحراف کیوں کیا؟ جواب: "حکمت"۔ مشرکین، قبر پرستوں کو بھائی کیوں کہتے ہو؟ "حکمت"۔ طاغوت سے خفیہ رابطے کیوں رکھتے ہو؟ "حکمت"۔
اور یہی حکمتیں القاعدہ سے دیگر گروہوں تک بھی پھیلتی چلی گئیں۔ ملا عمر نے کفار و مرتدین کو ذبح کرنے پر پابندی عائد کی۔ جب وزیرستان سے ازبکوں نے اعتراض کیا کہ بھائی یہ تو اللہ کا حکم ہے، اس پر پابندی کیسے عائد کی جا سکتی ہے؟ تو امارت کی کوئٹہ شوریٰ نے جواب بھجوایا: "حکمت ہے، گلا کاٹنے سے عوام نفرت کرتے ہیں، اس لیے صرف گولی ماری جا سکتی ہے، ذبح نہیں"۔ پوچھا: عوام کل کو نماز سے، توحید سے نفرت کرنے لگی تو اس پر بھی پابندی عائد ہو گی؟ کہا: "چپ کرو، تم لوگ حکمت کو نہیں سمجھتے"۔
ازبکوں نے اس پر وزیرستان میں پمفلٹ تقسیم کیے کہ افغانستان آزاد بھی ہوا تو کفر کا مورچہ ہوگا نہ کہ اسلام کا۔ اور واقعی وہی ہوا۔
حکمتیں، امارت سے ہوتے ہوئے ٹی ٹی پی کی طرف بھی منتقل ہوئیں۔ جمہوریوں کی تعزیتیں، ان کو شہید قرار دینا، امریکہ کو صفائیاں دینے کے لیے خطوط لکھنا، اقوامِ متحدہ سے فریادیں کرنا، قوم پرستی و وطن پرستی سمیت ہر غلاظت کو حکمت کے نام پر کر ڈالا، اور یہی حکمتیں الشباب، تحریر الشام، حماس، اور تمام تنظیموں نے خوب استعمال کیں۔
اس ایک لفظ کی آڑ میں جہادیوں نے قبر پرستوں کو شہید کہا، ان کو بھائی کہا، شریعت کے نفاذ سے انکار کیا، اقوام متحدہ کو سیٹ کی درخواستیں دیں، ہر طاغوت سے دوستی کی، امریکہ سے دوستی کی، قطر سے دوستی کی، سعودیہ سے دوستی کی، امارات سے دوستی کی، روس، چین، برطانیہ، فرانس، انڈیا سے دوستی کی، اہل توحید کا خون بہایا، قرآن و حدیث پر پابندیاں عائد کیں، کتاب التوحید پر پابندی لگا دی، گردواروں اور مندروں میں رکھے بتوں کی حفاظت کی، ان کی حفاظت میں لڑتے ہوئے جانیں دیں، روافض کے جلوسوں کے دائیں بائیں ان کی حفاظت کے لیے قربانیاں دیں، امام بارگاہوں کے دروازوں میں روافض کو بچاتے ہوئے مارے گئے، شام میں نصیریوں کو حکومت کا حصہ بنایا، ہم جنس پرست عورت کو وزارت دی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخ و بدترین دشمن میکرون کو گلے لگایا، قبروں کی تزئین و آرائش کی، وہاں شرک کرنے والوں کو شرک کی اجازت دی، امریکہ کے اتحادی بنے، ٹرمپ کے آگے سر جھکا کر اسرائیل کو تسلیم کرنے کے وعدے کیے، اور مزید درجنوں کفر کے کام کر ڈالے۔ لیکن ان کے حامیوں اور اندھے جاہل متبعین کی نظر میں یہ سب نہ صرف یہ کہ کفر نہیں بلکہ بہت اچھے کام ہیں اور جہاد ہے، کیونکہ ان کے مکار بڑوں نے ان کو "حکمت" کی افیون کھلائی ہوئی ہے۔
حکمت کی افیون سے مست اندھے پیروکار یہ پوچھنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے کہ: امیر صاحب، شیخ صاحب، قائد صاحب، کمانڈر صاحب! یہ جو حکمتیں آپ کو سمجھ آئی ہیں، یہ اللہ تعالیٰ کو کیوں سمجھ نہیں آئیں کہ وہ احکامات نازل کرتے ہوئے ان کا خیال رکھتا؟ اس نے احکامات نازل کیے اور آپ نے حکمت کے تحت ان کو بدل دیا، تو گویا آپ اللہ تعالیٰ سے زیادہ علم و حکمت والے ہیں؟ کہ اس نے تو بغیر حکمت کے سخت احکامات نازل کیے، لیکن آپ نے ان کو حکمت سے نرم کر دیا؟ آپ تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی زیادہ عقل مند ہیں کہ انہوں نے حکمت سے کام لینے کے بجائے صرف 313 ساتھیوں کو 1000 کے سامنے لا کھڑا کیا، جبکہ مکہ میں حکمت سے کام لینے کے بجائے تمام شرکیہ مزارات کو ملیامیٹ کر دیا، لیکن آپ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ حکمت والے ہیں۔ آپ نے اپنے سے بڑے دشمن سے ٹکرانے کے بجائے اس سے دوستی لگا لی ہے اور خود کو بچا لیا۔ اس طرح آپ نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح شرکیہ مزارات گرانے سے انکار کر کے ان مزارات کی عبادت کرنے والوں کے دل جیت لیے اور عالمی برادری کی نظر میں بھی مقام بنا لیا۔
بلکہ آپ تو ابراہیم علیہ السلام سے بھی زیادہ عقلمند ہیں کہ اکیلا آدمی شرک کے اڈے پر ٹوٹ پڑا اور قوم میں حکمت سے اپنی دعوت پھیلانے کا راستہ بند کر دیا، جبکہ آپ نے پرحکمت دعوت پھیلانے کے لیے ان شرک کرنے والوں کو اپنا بھائی قرار دے کر ان کو اپنے قریب کر لیا ہے۔
آپ تو نوح، ہود، صالح، شعیب، لوط، موسیٰ، ہارون، عیسیٰ، داود، سلیمان، اسماعیل، اسحاق، یعقوب، یوسف، الیسع، ذوالکفل، ایوب، یونس، ادریس، زکریا، یحییٰ، الیاس علیہم السلام سے بھی زیادہ عقلمند اور حکمت والے ہیں، کہ وہ سب تو برملا توحید کی دعوت اور شرک سے منع کرتے رہے، لیکن آپ نے دونوں پر پابندی عائد کر کے اپنا امیج بہتر بنایا ہے۔
بلکہ ان کے پیروکاروں کو یہ بھی پوچھنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ: امیر صاحب! اگر حکمت کے نام پر یہ سب کام جائز تھے تو یہ کام تو پرویز مشرف، اشرف غنی، کرزئی، صومالیہ، سعودیہ، قطر، امارات، تاجکستان، ازبکستان، چیچنیا، ترکی، مصر، لیبیا، الجزائر، مالی، برکینا فاسو کے حکمرانوں کے لیے بھی جائز تھے۔ پھر آپ نے ہمیں ان کے خلاف کیوں بھڑکایا اور کیوں لڑایا؟ اور اس لڑائی میں ہمارے مارے جانے والے ساتھیوں کا کیا حکم ہے؟
ان کو یہ بھی پوچھنے کی توفیق نہیں ہوتی کہ: امیر صاحب! اتنی حکمتیں کر لیں تو ایک اور حکمت کر کے ہمارے مسائل کا خاتمہ کر دیں، ہتھیار رکھ کر اپنے استادوں کی طرح سیاست میں شامل ہو جائیں، ایک سیاسی جماعت بنا لیں، اور حکمت کے تحت پارلیمنٹ کے راستے اسلام کے نفاذ کی کوشش کریں جیسے کہ دوسرے کر رہے ہیں۔ اس طرح ہماری مشکلات بھی ختم ہو جائیں گی، اور حکمت کے تحت دنیا کو زیادہ قابلِ قبول بھی ہو جائیں گے۔ یا پھر تبلیغی جماعت میں شامل ہو جاتے، وہ پہلے سے ہی حکمت بھری دعوت ساری دنیا میں پھیلا رہے ہیں۔
لیکن نہیں! یہ کوئی سوال نہیں پوچھ سکتے، کیونکہ ان مکار شیطانوں نے ان کی آنکھوں کے دائیں بائیں حکمت اور حکمت بھرے جہاد کے پردے باندھے ہوئے ہیں جیسے گھوڑے کو ایک سیدھ میں چلانے کے لیے باندھے جاتے ہیں۔ سو یہ بھی اس گھوڑے کی طرح ہیں جن کو صرف سامنے نظر آتا ہے، اور سامنے ان کے انسانی شیطان امراء ہیں جو ان کی لگامیں پکڑے حکمت سے ان کو جہنم کی طرف ہانک رہے ہیں اور بدلے میں اپنی دنیا چمکا رہے ہیں۔
وما علینا الا البلاغ