السلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ
عنوان میں مذکور کتاب "حاشية الطيبي على الكشاف للزمحشري
بارے میں علماء کی رائے کیا ہے؟
وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کتاب کے متعلق رائے سے پہلے صاحب کتاب کا تعارف کروادیا جائے تو کتاب کی علمی حیثیت سمجھنا آسان ہوجائے گا ؛
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قرآن وسنت کے شارح اور مختلف علوم وفنون میں ید طولی رکھنے والے آٹھویں صدی ہجری کے معروف عالم وفاضل
امام شرف الدین طیبیؒ ، جنہیں حدیث شریف کی مقبول ومستند اور معتبر ومتداول کتاب ”مشکاة شریف “کی سب سے پہلی شرح لکھنے کا ہی صرف شرف حاصل نہیں، بلکہ اس عظیم الشان دینی وعلمی شاہکارکی ترتیب وتالیف بھی آپ کے مشورے سے وجود میں آئی ہے۔ ذیل میں ان کے احوال زندگی، مقام و مرتبہ اور ”
الکاشف عن حقائق السنن“ کے نام سے” مشکاة شریف “کی مشہور ومعروف شرح کا قدرے تفصیلی اور دیگر علمی کارناموں کا اجمالی تذکرہ کیا جاتا ہے۔
علامہ طیبیؒ کا نام ونسب
علامہ طیبی ؒکا لقب” شرف الدین“، کنیت” ابو عبد اللہ“، نام ”حسین“، والد کا نام” عبداللہ“، دادا کا نام” محمد“ اور” طیبی“ نسبت ہے، اس طرح آپ کا پورا نام شرف الدین ، ابو عبد اللہ، حسین بن عبداللہ بن محمد طیبی ؒہے۔ اکثر اصحاب تراجم نے آپ کا نام” حسین بن محمد بن عبد اللہ“ اور بعض نے آپ کا نام” حسن “نقل کیا ہے، لیکن صحیح یہی ہے کہ آپ کا نام” حسین بن عبداللہ بن محمد“ ہے اورآپ کایہی نام ” شرح طیبی“ کے مقدمے ،”حاشیہ علی الکشاف“ کے دیباچے ، آپ کے شاگرد صاحب مشکاة علامہ تبریزیؒ نے ”الاکمال فی اسماء الرجال“ کے آخر میں اور آپ کے ایک اور شاگرد علی بن عیسی نے آپ کی کتاب” التبیان“ کی شرح ”حدائق البیان“ میں ذکر کیا ہے۔ ”ابو عبداللہ“ کے علاوہ آپ کی کنیت” ابو محمد“ بھی نقل کی گئی ہے۔
”طیبی “نسبت کی وجہ اور مقام” طیب“ کا مختصر تعارف
”طیبی“، ”طاء “ کے کسرہ کے ساتھ مقام ” طیب “ کی طرف نسبت ہے، جو” واسط اور سوس“، یا” واسط اور کور الاہواز“ کے درمیان خوزستان کے علاقے میں واقع ایک قصبہ ہے اور یہ علاقہ ایران کا حصہ ہے۔ علامہ حمیری نے کہا ہے کہ یہ کوئی بڑا شہر نہیں ہے ،لیکن مختلف برکات پر مشتمل ہے اوراس میں کئی قسم کی ایسی صنعتیں پائی جاتی ہیں جن کا کوئی مقابل نہیں اور اس کے باشندے معاملہ فہم وسمجھ دار ہیں۔ (دیکھیے، الروض المعطار للحمیری :1 /401، الانساب للسمعانی:4/95)، علامہ یاقوت حموی نے”معجم البلدان“ (4/53) میں لکھا ہے کہ اس کے باشندے اب تک” نبطی“ ہیں اور نبطی زبان بولتے ہیں،
علامہ طیبی کے علاوہ علماء کی ایک جماعت بھی اس شہر کی طرف منسوب ہے، جن میں ابو بکر احمد بن اسحاق بن نیخاب طیبی ، بکر بن محمد بن جعفر طیبی، ابو عبداللہ ہلال بن عبداللہ طیبی، ابو عبد اللہ حسین بن ضحاک بن محمد انماطی بغدادی المعروف ابن الطیبی اور جامع بن عمران بن ابی الزعفران طیبی وغیرہ شامل ہیں۔ (دیکھیے، معجم البلدان: 4/53، الانساب للسمعانی: 4/95 )
علامہ طیبیؒ کے اوصاف جمیلہ
علامہ طیبیؒ علم و عمل اور زہد و تقوی کا پہاڑ تھے اور آسمان علم کی بلندیوں کو چھونے کے ساتھ ساتھ عمل میں بھی آپ کا پایہ بہت بلند تھا،آپ دینی امور میں بہت متصلب تھے، خود بھی دین پر عامل تھے اور علماء ، طلبہ اور دین پر عمل کرنے والوں سے محبت کرتے تھے، مال دار ہونے کے باوجود مال کی محبت سے دور تھے اور اپنا مال امور خیر میں خرچ کر دیا کرتے تھے، اس دور میں اگرچہ ان علاقوں پر تاتاریوں کا تسلط تھااور ان کے معاون ومددگار رافضی اور بد دین لوگ ہوا کرتے تھے، لیکن اس کے باوجوداہل بدعت اورفلاسفہ کے رد میں آپ سخت گیر تھے۔
حافظ ابن حجر ؒ ” الدرر الکامنہ “ میں آپ کے اوصاف حمیدہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
”کان ذا ثروة من الإرث والتجارة، فلم یزل ینفق ذالک في وجوہ الخیرات، إلی أن کان في آخر عمرہ فقیراً … وکان متواضعاً، حسن المعتقد، شدید الرد علی الفلاسفة والمبتدعة، مظہراً فظائحہم، مع استیلائہم في بلاد المسلمین حینئذٍ، شدید الحب للّٰہ ورسولہ، کثیر الحیاء، ملازماً للجماعة لیلاً ونہاراً، وشتاءً وصیفاً، مع ضعف بصرہ بآخرہ․ ملازماً لإشغال الطلبة في العلوم الإسلامیة بغیر طمع، بل یحدثہم و یفتیہم، ویعیر الکتب النفیسة لأہل البلد وغیرہم من أہل البلدان، من یعرف و من لا یعرف، محباً لمن عرف منہ تعظیم الشریعة، مقبلاً علی نشر العلم، آیة في استخراج الدقائق من القرآن والسنن، شرح الکشاف شرحاً کبیراً، وأجاب عما خالف مذہب أہل السنة أحسن جواب، یعرف فضلہ من طالعہ“․ (الدرر الکامنة: 2/68،69)
یعنی”علامہ طیبی ؒ کو وراثت میں بھی بہت سارا مال ملا تھا ،پھر تجارت کی وجہ سے بھی خاصے مال دار تھے اور مسلسل امور خیر میں خرچ کرتے رہے ، یہاں تک کہ آخر عمر میں فقیر ہو گئے، …وہ متواضع، اچھا عقیدہ رکھنے والے، فلاسفہ اور مبتدعہ کے اس وقت مسلمانوں کے شہروں میں غلبے کے باوجود ان پر شدید رد کرنے والے اور ان کی قباحتوں کو ظاہر کرنے والے، اللہ اور اس کے رسول سے بہت زیادہ محبت کرنے والے، بہت زیادہ حیا والے، آخر عمر میں نظر کمزور ہونے کے باوجود دن ، رات اور سردی ، گرمی میں نماز باجماعت کا التزام کرنے والے، بغیر کسی طمع لالچ کے طلبہ کو علوم اسلامیہ میں مشغول کرنے کا التزام کرنے والے تھے، بلکہ ان کو حدیث بیان کیا کرتے اور فتوی دیا کرتے تھے، وہ اپنے شہر اور دوسرے شہروں کے لوگوں کو، چاہے ان کو جانتے یا نہ جانتے ، قیمتی کتابیں عاریتاً دے دیا کرتے تھے، جس آدمی کو شریعت کی تعظیم کرنے والا جانتے، اس سے محبت کرتے، علم کی نشر و اشاعت کی طرف متوجہ رہتے، قرآن وسنت کے دقائق کو نکالنے میں اللہ کی نشانی تھے، تفسیر کشاف کی ایک بڑی شرح لکھی او رمذہب اہل سنت کے مخالف امور کا اچھا جواب دیا، جو آدمی اس کا مطالعہ کرے گا وہ ان کے علم و فضل کو بخوبی جان لے گا۔ “
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
علامہ طیبی کا یہی تعارف وترجمہ معمولی رد وبدل کے ساتھ اکثر اصحاب تراجم نے حافظ ابن حجر کے حوالے سے نقل کیا ہے اور ان کے تعارف کے لیے مزید درج ذیل کتابوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ (شذرات الذہب: 6/137، 138، مفتاح السعادة: 2/90، 91، بغیة الوعاة:1/522، 523،معجم الموٴلفین: 4/53، الاعلام للزرکلی: 2/256، کشف الظنون: 2/341، 720، 1478، 1700)
امام طیبی اہل علم کی نظر میں
امام طیبی کی شان ومنقبت کا اندازہ اہل علم حضرات کے مندرجہ ذیل اقوال سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے:
جیسا کہ ابھی گزرا ہے کہ حافظ ابن حجر نے ”الدرر الکامنہ“ (:2/69) میں آپ کی شان میں فرمایا ہے : ”
أنہ کان آیة في استخراج الدقائق من القرآن والسنن“، یعنی”آپ قرآن و سنت سے دقائق نکالنے میں اللہ تعالی کی طرف سے نشانی تھے۔“
حافظ سیوطی نے ”بغیة الوعاة“ (1/522) میں فرمایا ہے کہ ”
الإمام المشہور، العلامة في المعقول، والعربیة، والمعاني، والبیان․“، یعنی:”آپ مشہور امام اور معقولات و عربیت اور علم معانی و بیان میں بڑے پائے کے عالم تھے۔“
علامہ سبکی نے ”طبقات شافعیہ “ (10/76) میں امام طیبی کے استاد امام فخر الدین احمد بن حسین بن یوسف جاربردی کے بیٹے ابراہیم جاربردی سے اپنے والد کے تذکرے میں نقل کیا ہے کہ:
”وأما الذین اجتمعوا عند والدي، واشتغلوا علیہ، وتمثلوا بین یدیہ، فہم العلماء الأبرار، والصلحاء الأخیار، بذلوا لہ الأنفس والأموال، منہم الإمام الہمام الشیخ شرف الدین الطیبي، شارح الکشاف، والتبیان، وہو کالشمس لا یخفی بکل مکان․“
یعنی ”جو لوگ میرے والد کے پاس آ کر جمع ہوئے،ان سے پڑھا اور ان کے سامنے اطاعت گزار ہوئے وہ نیکوکار علماء اور اخیار صلحاء تھے، انہوں نے اس کے لیے جان و مال کو خرچ کیا، ان میں سے بہت بڑے امام شیخ شرف الدین طیبی،جوکشاف اور تبیان کے شارح ہیں اور وہ ایسے آفتاب کی طرح ہیں جو کسی جگہ مخفی نہیں رہ سکتا۔“
استاد عمر رضا کحالہ نے ”معجم الموٴلفین“ (4/53) میں آپ کے متعلق فرمایا ہے کہ ”
عالم مشارک في أنواع من العلوم․“، یعنی ”آپ مختلف علوم و فنون کے ماہر عالم تھے۔“
امام طیبیؒ کی وفات :
آپ کی وفات سنۃ 743ھ تبریز میں ہوئی ،
كانت وفاته سنة (743ه = 1342م). وهو من بلدة تبريز