• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حاکمیت الٰہیہ کا عقیدہ اور انسانی تشریع کی تردید فضیلۃ الشیخ علامہ ابو محمد امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کے کلام کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
843
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
حاکمیت الٰہیہ کا عقیدہ اور انسانی تشریع کی تردید فضیلۃ الشیخ علامہ ابو محمد امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کے کلام کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد للہ رب العالمین، والصلوٰۃ والسلام علی سید المرسلین، وعلى آلہ وصحبہ أجمعين، أما بعد:

آج کے اس پرفتن دور میں، جبکہ طواغیت زمانہ علانیہ طور پر اللہ تعالیٰ کی حاکمیت پر دست درازی کر رہے ہیں، اور بہت سے نام نہاد مسلمان بھی حاکمیت و تشریع کے باب میں انحراف کا شکار ہو چکے ہیں، اس مسئلے کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ نمایاں ہو گئی ہے۔ چنانچہ آج حاکمیت اور تشريع میں اللہ تعالٰی کی توحید کا مسئلہ عقیدہ، منہج اور دینی شعور کا سب سے اہم اور بنیادی مسئلہ بن چکا ہے۔ کیونکہ حاکمیت اور تشریع، اللہ تعالیٰ کی ربوبیت و الوہیت کے عظیم تقاضوں میں سے ہیں، اور بندے کے ایمان کی تکمیل اسی وقت ممکن ہے جب وہ حکم، قانون اور اطاعت کے باب میں اللہ تعالیٰ کی توحید کو تسلیم کرے اور اسی کے سامنے سر تسلیم خم کرے۔

افسوس کہ ہمارے زمانے میں بعض لوگ اس مسئلے کو محض سیاسی عنوان دے کر اس کی حقیقت کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ یہ معاملہ خالصتا عقیدے، ایمان اور توحید سے متعلق ہے۔ شریعت سازی اور حاکمیت کا حق اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے، اور اسی بنا پر انبیائے کرام علیہم السلام نے اپنی قوموں کو سب سے پہلے توحید کی دعوت دی، تاکہ زمین پر اللہ وحدہ لا شریک لہ کی حاکمیت قائم ہو۔ لہٰذا عصر حاضر میں اس کی حقیقت کو اجاگر کرنا، اور اس کے متعلق پیدا ہونے والے شبہات کا علمی و شرعی ازالہ کرنا اہل علم اور داعیان حق کی عظیم ذمہ داری ہے، کیونکہ یہ مسئلہ دین کے بنیادی اصولوں اور عقیدہ توحید کے اہم ابواب میں سے ہے۔

فقیہ عصر فضیلۃ الشیخ العلامہ ابو محمد امین اللہ البشاوری حفظہ اللہ مدلل اور بے باک انداز میں اس کی حقیقت کو واضح کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

"توحيد الحاكمية : ويسمى توحيد التشريع أيضًا : وهو إفراد الله تعالى بالحاكمية والتشريع فالله تعالى له حق التشريع والحكم."

توحید حاکمیت اسے توحید تشریع بھی کہا جاتا ہے، اور اس سے مراد یہ ہے کہ حاکمیت اور قانون سازی میں صرف اللہ تعالیٰ کو یکتا مانا جائے۔ اللہ تعالیٰ ہی کو حکم دینے اور قانون سازی کرنے کا حق حاصل ہے۔

پھر شیخ نے قرآن مجید کی متعدد آیات پیش کیں:

قال تعالى : ﴿إن الحكم إلا لله﴾. اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے : حکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ وقال : ﴿ام لهم شركاء شرعوا لهم من الدين مالم يأذن به الله﴾. اور فرمایا: کیا ان کے ایسے شریک ہیں جنہوں نے ان کے لیے دین میں ایسی باتیں مقرر کر دی ہیں جن کی اللہ نے اجازت نہیں دی؟ وقال : ﴿وما اختلفتم فيه من شئ فحكمه إلى الله﴾ اور فرمایا: اور تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو، اس کا فیصلہ اللہ ہی کی طرف ہے۔ وقال : ﴿ومن لم يحكم بما انزل الله فأولئك هم الكافرون﴾ اور فرمایا: اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہی کافر ہیں۔ ﴿فأولئك هم الظالمون﴾ وہی ظالم ہیں۔ ﴿فأولئك هم الفاسقون﴾. وہی فاسق ہیں۔

ان آیات سے واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور حق تشريع یعنی قانون سازی میں کوئی شریک نہیں۔ اللہ کے سوا کوئی شارع یعنی قانون بنانے والا نہیں۔ جو شخص اللہ کی نازل کردہ شریعت چھوڑ کر دوسرے قوانین و دساتیر بنائے یا ان کا نفاذ کرے، وہ کافر، ظالم اور فاسق ہے۔

شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ مزید فرماتے ہیں:

"فلا شارع إلا الله ولا يجوز لأحد أن يشرع عملا من غير أن يأذن الله به وليس لأحد حق تشريع القوانين والحدود والأحكام دون الله سبحانه. فمن أعطى هذا الحق لغير الله تعالى فهو مشرك، لا شك في كفره"

پس اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی قانون بنانے والا نہیں، اور کسی کے لیے جائز نہیں کہ وہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی عمل یا حکم مشروع کرے۔ اسی طرح اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سوا کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ قوانین، حدود اور احکام وضع کرے۔ لہٰذا جو شخص یہ حق اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کو دے، وہ مشرک ہے، اور اس کے کفر میں کوئی شک نہیں۔

آج کا یہ جمہوری نظام، یہ پارلیمنٹس، یہ اسمبلیاں، یہ وزراء، یہ جج، یہ قانون ساز (legislators) اور ان کے نفاذ کرنے والے طواغیت کے ہمنوا سب کے سب صریح شرک اور کفر کے مرتکب ہیں۔ یہ لوگ اللہ کی حاکمیت کو چھین کر خود کو اور عوام الناس کو "شارع" بنا بیٹھے ہیں۔ انہوں نے اللہ کے قانون کو ٹھکرا کر اپنے نفس کی خواہشات، مغربی کفر اور یہودی صليبی سازشوں کے مطابق وضعی قوانین (man-made laws) بنا رکھے ہیں۔

سود کو بینکنگ کا نام دے کر حلال قرار دے دیا، زنا، فحاشی اور ہم جنس پرستی کو انسانی حقوق اور فریڈم بنا دیا، شراب کو ٹیکس کا ذریعہ بنا لیا، اسلامی حدود اللہ (قطع ید، رجم، قصاص) کو ظالمانہ کہہ کر مسترد کر دیا، اور اللہ کے نازل کردہ احکام کو قدیمی اور غیر موزوں قرار دے دیا۔ یہ سب کھلا شرک اکبر اور صریح کفر ہے۔

شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ اس بارے میں بالکل واضح فرماتے ہیں:

"فمن جعل الملوك أو الأحبار والرهبان أو العوام شارعين مقننين دون الشرع المطهر الإسلامي : فهو مشرك بلا خلاف. ولذلك الديمقراطية تحارب الإسلام محاربة صريحة ومعناه (الحاكمية للعوام) وهو كفر صراح."

یعنی جو شخص بادشاہوں، علماء سوء، راہبوں یا عوام کو اسلامی شریعت مطہرہ کے مقابلے میں قانون ساز اور شریعت بنانے والا قرار دے، وہ بلا اختلاف مشرک ہے۔ اسی وجہ سے جمہوریت اسلام کے خلاف کھلی جنگ ہے، کیونکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ (حاکمیت عوام کی ہے)، اور یہ صریح کفر ہے۔

[الفوائد في تزکیة النفوس وعلم القلوب والرغبة الی علام الغیوب، ج : ٢، ص : ٣٨٥]

8386.jpg

8384.jpg

آج کی پارلیمنٹس بالکل یہی کر رہی ہیں۔ ان کے ارکان، وزراء، جج، پولیس، فوج اور تمام سرکاری اہلکار جو ان کفر آمیز قوانین کا نفاذ کرتے ہیں، وہ سب طواغیت اور ان کے حواری ہیں۔ ان کی اطاعت کرنا، انہیں ووٹ دینا، ان کی حمایت کرنا، ان کے قوانین کو جائز ماننا یہ سب شرک اکبر اور کفر بواح ہے۔ ان طواغیت نے اللہ کی جگہ خود کو معبود بنا لیا ہے۔ ان کے نظام میں اللہ کی حاکمیت کا کوئی وجود نہیں، بلکہ یہ اللہ کی حاکمیت پر بغاوت ہے۔

جو شخص ان طواغیت کی معاونت کرتا ہے، انہیں ووٹ دیتا ہے، ان کی اسمبلیوں میں بیٹھتا ہے، ان کے بنائے قوانین کی تائید کرتا ہے یا انہیں مصلحت کے نام پر قبول کرتا ہے، وہ شیخ امین اللہ پشاوری حفظہ اللہ کے صریح قول کے مطابق مشرک اور کافر ہے، لا شك في كفره۔

اے مسلمانو! اس فتنے سے بچو۔ خالص توحید پر قائم ہو جاؤ، طواغیت کی حاکمیت کو دل و جان سے رد کرو، ان کے بنائے قوانین کو باطل سمجھو، اور اللہ کی نازل کردہ شریعت کی بالادستی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ پر آمادہ ہو جاؤ۔ ورنہ اللہ کے ہاں تم بھی انہی طواغیت کے ساتھ اٹھائے جاؤ گے جن کی تم نے پیروی کی۔ اللہ تعالیٰ ہمیں خالص توحید پر قائم رکھے اور طواغیت کے فتنے سے محفوظ فرمائے۔ آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top