- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,589
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
حج ۹ھ
(زیر امارت حضرت ابو بکرؓ )
اسی سال ذی قعدہ یا ذی الحجہ ۹ھ میں رسول اللہ ﷺ نے مناسک حج قائم کرنے کی غرض سے ابو بکرؓ کو امیر الحج بنا کر روانہ فرمایا۔
اس کے بعد سورۂ براءت کا ابتدائی حصہ نازل ہوا۔ جس میں مشرکین سے کیے گئے عہد و پیمان کو برابری کی بنیاد پر ختم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔ اس حکم کے آ جانے کے بعد رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی بن ابی طالبؓ کو روانہ فرمایا۔ تاکہ وہ آپ کی جانب سے اس کا اعلان کر دیں۔ ایسا اس لیے کرنا پڑا کہ خون اور مال کے عہد و پیمان کے سلسلے میں عرب کا یہی دستور تھا (کہ آدمی یا تو خود اعلان کرے یا اپنے خاندان کے کسی فرد سے اعلان کرائے۔ خاندان سے باہر کے کسی آدمی کا کیا ہوا اعلان تسلیم نہیں کیا جاتا تھا) حضرت ابو بکرؓ سے حضرت علیؓ کی ملاقات عرج یا وادیٔ ضبحنان میں ہوئی۔ حضرت ابو بکرؓ نے دریافت کیا کہ امیر ہو یا مامور؟ حضرت علیؓ نے کہا: نہیں بلکہ مامور ہوں۔ پھر دونوں آگے بڑھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے لوگوں کو حج کرایا۔ جب (دسویں تاریخ) یعنی قربانی کا دن آیا تو حضرت علیؓ بن ابی طالب نے جمرہ کے پاس کھڑے ہو کر لوگوں میں وہ اعلان کیا جس کا حکم رسول اللہ ﷺ نے دیا تھا۔ یعنی تمام عہد والوں کا عہد ختم کر دیا۔ اور انہیں چار مہینے کی مہلت دی۔ اسی طرح جن کے ساتھ کوئی عہد و پیمان نہ تھا انہیں بھی چار مہینے کی مہلت دی گئی۔ البتہ جن مشرکین نے مسلمانوں سے عہد نبھانے میں کوئی کوتاہی نہ کی تھی اور نہ مسلمانوں کے خلاف کسی کی مدد کی تھی، ان کا عہد ان کی طے کردہ مدت تک برقرار رکھا۔
اور حضرت ابو بکرؓ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت بھیج کر یہ اعلانِ عام کرایا کہ آئندہ سے کوئی مشرک حج نہیں کر سکتا اور نہ کوئی ننگا آدمی بیت اللہ کا طواف کر سکتا ہے۔
یہ اعلان گویا جزیرۃ العرب سے بُت پرستی کے خاتمے کا اعلان تھا، یعنی اس سال کے بعد بُت پرستی کے لیے آمد و رفت کی کوئی گنجائش نہیں۔ (اس حج کی تفصیلات کے لیے ملاحظہ ہو : صحیح بخاری ۱/۲۲۰، ۴۵۱، ۲/۶۲۶، ۶۷۱، زاد المعاد ۳/۲۵، ۲۶ ابن ہشام ۲/۵۴۳ تا ۵۴۶ اور کتب تفسیر ابتدا سورہ براء ت)
****