• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حدیث کی وضاحت مطلوب ہے۔

کلیم حیدر

ناظم خاص
شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,747
ری ایکشن اسکور
26,385
پوائنٹ
995
بَاب السُّجُودِ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ قَالَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْضَاءٍ وَلَا يَكُفَّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا الْجَبْهَةِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَالرِّجْلَيْنِ۔(بخاري)
حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْنَا أَنْ نَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا نَكُفَّ ثَوْبًا وَلَا شَعَرًا۔(بخاري)
بَاب السُّجُودِ عَلَى الْأَنْفِ
حَدَّثَنَا مُعَلَّى بْنُ أَسَدٍ قَالَ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ طَاوُسٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ عَلَى الْجَبْهَةِ وَأَشَارَ بِيَدِهِ عَلَى أَنْفِهِ وَالْيَدَيْنِ وَالرُّكْبَتَيْنِ وَأَطْرَافِ الْقَدَمَيْنِ وَلَا نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ۔(بخاري)
بَاب لَا يَكُفُّ شَعَرًا
حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ وَهْوَ ابْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُمِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةِ أَعْظُمٍ وَلَا يَكُفَّ ثَوْبَهُ وَلَا شَعَرَهُ۔(بخاري)
بَاب لَا يَكُفُّ ثَوْبَهُ فِي الصَّلَاةِ
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنْ عَمْرٍو عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أُمِرْتُ أَنْ أَسْجُدَ عَلَى سَبْعَةٍ لَا أَكُفُّ شَعَرًا وَلَا ثَوْبًا۔(بخاري)

نوٹ:
نجم بھائی بخاری میں موجود ان تمام احادیث سے یہ ثابت ہورہا ہے کہ سجدہ سات اعضاء پر کیا جائے پیشانی ناک سمیت، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پیر کی انگلیوں کا اندرونی حصہ اور پھر ان احادیث میں ایک اور مسئلہ بھی واضح کیا گیا ہے جو کہ ان الفاظ میں پیش ہے۔
’’وَلَا نَكْفِتَ الثِّيَابَ وَالشَّعَرَ‘‘
ہم نماز میں اپنے کپڑے اور بال باندھ کر نہ رکھیں۔
محترم بھائی یہاں پر یہ بات قابل توجہ رہے کہ کپڑوں اور بالوں کو صرف نماز کی حالت میں بند کرنا جائز نہیں بلکہ نماز سے پہلے بھی اگر کوئی شخص یہ کام کرتا ہے پھر نماز میں داخل ہوتا ہے تو جمہور علماء کے نزدیک یہ نہی اس کو بھی شامل ہے۔اس کی تائید اس حدیث سے بھی ہورہی ہے کہ
آپﷺ اس انسان کےبارےمیں فرمایا جو نماز کی حالت میں بالوں کو باندھے ہوئے تھا اس کی مثال تو اس انسان کی سی ہے جو ایسی حالت میں نماز پڑھتا ہے کہ اس کے دونوں ہاتھ پیچھے کی جانب باندھے ہوئے ہیں۔(مسلم۔کتاب الصلاۃ باب 44)
مقصد یہ ہے کہ جب بال کھلے ہوں گے تو تو سجدہ کی حالت میں زمیں پر پڑیں گے تو گویا کہ وہ بھی سجدہ کریں گے۔اور ان کے سجدہ کا ثواب نماز پڑھنے والے کو ملے گا۔اور جب وہ بندھے ہوئے ہوں گے تو سجدہ نہ کرسکیں گے۔اس لیے آپﷺ نے اس کی مشابہت اس انسان سے کی ہے جس کے دونوں ہاتھ کمر کی جانب باندھ دیئے گئے ہوں ظاہر ہے اس کے دونوں ہاتھ سجدہ کی حالت میں زمین کو نہیں لگ سکیں گے۔
اور ان تمام احادیث سے بظاہر یہ معلوم ہورہا ہے کہ بالوں کو کھول کر رکھنے کاحکم مردوں کے ساتھ خاص ہے اورعورتیں اس حکم سے مستثنی ہیں وہ اپنے بال باندھ سکتی ہیں۔جیسا کہ امام شوکانی رحمہ اللہ نے ابن العربی سے اس کونقل کیا ہے۔واللہ اعلم
 
Top