• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حرام جہیز اور حلال جہیز میں تمیز کیجئے

ابو عبدالله

مشہور رکن
شمولیت
نومبر 28، 2011
پیغامات
722
ری ایکشن اسکور
448
پوائنٹ
135
ہم بطور مسلمان اٹھتے بیٹھتے" اسلام یہ کہتا ہے اسلام وہ کہتا ہے"

دہراتے نہیں تھکتے ہر معاملے میں اسلام کے بارے میں زبانی جمع خرچ ہماری عادت بن چکی ہے لیکن جب عمل کی باری آتی ہے تو کچھ نہیں کرتے۔
بالکل درست فرمایا آپ نے۔۔۔۔
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,038
ری ایکشن اسکور
1,223
پوائنٹ
425
محترم بھائیو: میں تمام بحث سرسری پڑھی ہے میرے خیال میں تمام بھائیوں کی باتیں اپنی جگہ ٹھیک ہیں صرف جو بھائی جس جہیز کی حمایت کر رہا ہے وہ اس سے کچھ اور سمجھ رہا ہے اور جو جہیز کی مخالفت کر رہا ہے وہ اس سے کچھ اور مراد لے رہا ہے
سب سے پہلے میرے خیال میں جہیز کے حقیقی مفہوم کا تعین کرنا چاہئے جو کہ معاشرے پریکٹیکل ہو رہا ہے نہ کہ جو خیالاتی ہے
میں اپنے علم کے مطابق جہیز کے مندرجہ ذیل معانی مع حکم لکھتا ہوں باقی بھائی اصلاح کر دیں اور کوئی اور پؤانٹ کا بھی اضافہ کر دیں اللہ جزا دے امین
1۔جو چیز لڑکی والے ضرورت یا اپنی خوائش پر دیں جیسے غالبا کنعان بھائی نے بتایا ہے تو اس معنی میں اگر ایک طریقہ اختیار کر لیا جائے تو پھر اکثر اس پر اتفاق کریں گے مگر کچھ کو اعتراض بھی ہو گا کہ کبھی کسی جائز چیز کا حکم بھی حالات کو دیکھ تبدیل ہو جاتا ہے مثلا اسی شادی بیاہ میں دف کا بجانا شرعا تو جائز ہے مگر آج کل حالات کو دیکھ کر علماء کیا حکم لگاتے ہیں کہ اس سے آگے کیا فتنے آئیں گے اس طرح کی اور مثالیں بھی ہیں پس میں ایک طریقہ بتاتا ہوں جس سے ان لوگوں کا یہ اعتراض ختم کیا جا سکتا ہے کہ لڑکی کے والدین اگر اپنی خوائش اور ضرورت کے تحت دینا بھی چاہتے ہیں دکھلاوا نہیں کرنا چاہتے اور واقعی مخلص ہیں تو شادی کے دس دن بعد تحائف کی صورت میں دے دیں کیونکہ تخفے پر اعتراض نہیں اعتراض اس ٹائیمنگ پر ہے جس کی وجہ سے معاشرہ دف کی طرح غلط طرف جا سکتا ہے-کیونکہ ضرورت کے تحت مدد پر تو شادی میں کوئی اعتراض نہیں کرتا کہ جب کسی باراتی کو لڑکی والوں کے گھر پیاس لگے تو کوئی اگر بوتل پلا دے یا لڑکی والے اپنی خوائش پر ہی ایسا کر دیں تو اس ضرورت پر تو کوئی اعتراض نہیں کر رہا- البتہ تخفہ دینے میں یہ خیال رکھنا ہے کہ انکا جائداد میں حصہ کم نہ کیا جائے اور شاہد اتنا ہی تخفہ باقی بچوں کو بھی دیا جائے گا جیسے صحابی کے ایک بچے کو گھوڑا دینے کی حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے
2۔جو چیز لڑکی والے اپنی خوائش یا لڑکی کی ضرورت سے ہٹ کر دیں تو اس کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں لڑکے والوں کا مطالبہ یا معاشرے کی بدنامی- اب ان کے غلط ہونے پر تو تمام بھائی متفق ہیں

اب میرے خیال میں دوسرے والا کام زیادہ ہو رہا جس کی وجہ سے بھی کبھی شادی رکی رہتی ہے-اب شادی جتنی آسان ہو گی زنا اتنا مشکل ہوتا جائے گا ورنہ اسکے برعکس ہو گا جو آجکل حالت ہے- اگرچہ شادی نہ ہونے کی صرف یہی وجہ نہیں البتہ یہ بھی کبھی بن جاتی ہے پس جیسے کچھ علماء دف کے جائز ہونے کے باوجود اس میں احتیاط کرتے ہیں اسی طرح جہیز پر تنقید کرنے والے علماء کے سامنے بھی اس طرح کی بہت سی جائز باتیں ہوتی ہیں
دوسری طرف جہیز کو جائز کہنے والوں کی بات بھی اپنی جگہ ٹھیک ہوتی ہے کیونکہ ان کو جائز ضرورت میں بھی کسی کی مدد نہ کرنا یا تحفہ دینے کی ہی ممانعت کا ڈر ہوتا ہے لیکن ایسے بھائی اوپر والی بہت سی باتوں پر بھی اگر غورکر لیں کہ ایسے بھائیوں کے لئے تخفے دینے کی جب دوسری صورت میں نے لکھ دی ہے جس کو لوگوں کو تجربہ کرتے بھی میں نے دیکھا ہے تو پھر اس کو جہیز کا نام دینے پر ہی ضد نہیں کرنی چاہیے تاکہ تمام علماء کے اقوال کی تطبیق ہو سکے
بھائی اصلاح کر دیں جزاکم اللہ
 
Top