• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت ابوحمیدؓ رفع الیدین کی حدیث کی تحقیق درکار ہے

ابن قدامہ

مشہور رکن
شمولیت
جنوری 25، 2014
پیغامات
1,772
ری ایکشن اسکور
433
پوائنٹ
198
’’قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوبْنِ عَطَائٍ اَنَّہٗ کَانَ جَالِسًا مَعَ نَفْرٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّصلی اللہ علیہ و سلم فَذَکَرْنَا صَلٰوۃَ النَّبِیِّصلی اللہ علیہ و سلم فَقَالَ اَبُوْحُمَیْدِ السَّاعِدِیُّرضی اللہ عنہما اَنَا کُنْتُ اَحْفَظُکُمْ لِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم رَاَ یْتُہٗ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ اَمْکَنَ یَدَیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ ثُمَّ ھَصَرَظَھْرَہٗ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ اِسْتَویٰ حَتّٰی یَعُوْدَ کُلُّ فَقَارٍ مَّکَانَہٗ وَاِذَا سَجَدَ وَضَعَ یَدَیْہِ غَیْرَمُفَتَرِشٍ وَّلَا قَابِضَہُمَا‘‘(صحیح بخاری؛ ج۱ ص۱۱۴‘ صحیح ابن خزیمہ؛ ج۱ ص۲۹۸)
ترجمہ :محمدبن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کےصحابہ کرام کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے فرماتے ہیں: ’’ہم نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کا ذکر کیا (کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟) توحضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’میں تم سےحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز پڑھنے کے طریقے کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا جب تکبیر تحریمہ کہی تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا اور جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑا پھر اپنی پیٹھ کو جھکایا جب سر کو رکوع سے اٹھایا تو سیدھے کھڑے ہو گئے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی اور جب سجدہ کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے حال پر رکھا نہ پھیلایا اور نہ ہی ملایا۔

اعتراض: ”صحیح بخاری کی اس حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے ترک کا کوئی ذکر نہیں“
جواب: ہمارا مؤقف یہ ہے کہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا جائے،اس کے علاوہ پوری نماز میں رفع یدین نہ کیا جائے۔حدیثِ مذکور جو سنداًصحیح ہے،میں سیدنا ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کا ذکر کرتے ہیں،باقی مقامات کا ذکر نہیں کرتے۔اس سے ہمارا مؤقف ثابت ہے۔
اعتراض: ”محمد قاسم نانوتوی(بانی مدرسہ دیوبند)نے لکھا: مذکورنہ ہونا معدوم ہونے کی دلیل نہیں“
جواب:

حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا قول اس استدلال کے خلاف نہیں،اس لیے کہ اصول ہے:

السکوت فی معرض البیان بیان(مرعاۃ المصابیح لعبیداللہ المبارکپوری ج3ص385،روح المعانی ج18ص7)
وہ مقام جہاں ایک شے کو بیان کرنا چاہیے،وہاں اس کے بیان کو چھوڑنے کا مطلب اس شے کا عدم بیان کرنا ہوتاہے۔
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نماز کے اس نقشہ کو بیان فرمارہے ہیں جو دیکھنے سے نظر آتا ہے کمافی الحدیث ”رایتہ“ (میں نے انھیں دیکھا)۔ اگررفع یدین عندالرکوع وبعد الرکوع ہوتا تو ضرور بیان کرتے۔معلوم ہو ا کہ یہ رفع یدین نہیں ہوتا تھا۔

حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کا قاعدہ مطلق ہے اور ہمارا بیان کردہ اصول ایک قید فی معرض البیانکے ساتھ مقید ہے۔دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ کسی کو یہ اصطلاح سمجھ میں نہ آئے تو اصول فقہ کی کتب کی طرف مراجعت فرما لیں اور خوب سمجھنے کی کوشش کریں۔
نوٹ:سنن ابی داؤد وغیرہ کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کا ذکر موجود ہے۔”عرض“ہے کہ اس میں ایک راوی عبدالحمید بن جعفر ہے جو کہ ضعیف، خطاکار اور قدری ہے۔


  • امام نسائی فرماتے ہیں: لیس بالقوی (ضعفاء صغیر ص 48)
  • امام ابوحاتم فرماتے ہیں: لا یحتج بہ اور امام سفیان الثوریؒ بھی اس کی تضعیف کرتے تھے؛ وکان الثوری یضعفہ (میزان الاعتدال، ج 2 ص 94)
  • حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: وکان یحی بن سعید یضعفہ امام الجرح والتعدیل حضرت یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس سے روایت بھی لیتے تھے تو ابن معین نے فرمایا کہ حضرت یحیی القطانؒ اس سے روایت بھی لیتے تھے وکان یضعفہ وکان یری القدر اور ساتھ ہی اس کی تضعیف بھی کرتے تھے اور یہ تقدیر کا منکر تھا۔ (تہذیب التہذیب، ج 6 ص 112)
  • امام ابن حبان: وقال ابن حبان ربما اخطاء ؛ اور ابن حبان فرماتے ہیں کہ اس نے اکثر اوقات خطا کی ہے۔
  • امام ترمذیؒ نے بھی اس کی ایک روایت کو غیر اصح قرار دیا ہے۔ (سنن ترمذی ج 2 ص 140، سورۃ حجر)
  • امام طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ شرح المعانی الآثار ج 1 ص 111 میں فرماتے ہیں۔
"عبد الحمید ابن جعفر کو جب وہ خود ضعیف قرار دیتے ہیں اور اس سے احتجاج نہیں کرتے تو پھر اس کی حدیث سے کس طرح حجت پکڑتے ہیں۔" اور شرح المعانی الآثار (ج 1 ص 127) میں خود امام طحاویؒ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔
  • حافظ ابن قیم حنبلیؒ اس کی ایک حدیث کا جواب یوں دیتے ہیں۔
"امام یحییٰ بن سعیدؒ اور امام ثوریؒ نے عبد الحمید بن جعفر کو ضعیف قرار دیا ہے۔"
  • قاضی شوکانی غیر مقلد عبد الحمید بن جعفر کی ایک روایت بارے یوں لکھتے ہیں:
"ابن المنذر نے فرمایا اس راوی کو محدثین کرامؒ مضبوط قرار نہیں دیتے اور اس سند میں کلام ہے۔"
نیز صحیح بخاری میں امام بخاریؒ نے ابو حمید الساعدیؓ کی یہی مذکورہ بالا روایت ذکر کی ہے مگر رفع الیدین عند افتتاح الصلوٰۃ کے علاوہ کا اور کوئی ذکر نہیں ہے۔
چنانچہ علامہ امیر یمانی غیر مقلد لکھتے ہیں:
"حضرت ابوحمیدؓ کی حدیث جو بخاری کی روایت سے گزر چکی ہے اس میں رفع یدین تکبیر احرام کے سوا اور کہیں نہیں لیکن ابو داؤد کی یہ روایت اس کے خلاف ہے اور اس میں تین مقامات میں رفع الیدین کا ذکر ہے۔ " (سبل السلام، ج 1 ص 105)
معلوم ہوا کہ رفع الیدین کا بیان بخاریؒ میں اس لیے نہیں ہے کہ وہاں راوی عبدالحمید بن جعفر نہیں ہے اور چونکہ ابوداؤد میں عبدالحمید ہے اس لیے اس نے بطور خطاء رفع الیدین کا ذکر کر دیا ہے اگر رفع یدین کا ذکر صحیح ہوتا تو امام بخاریؒ اسے صحیح البخاری میں بیان کرنے سے ہرگز نہ چُوکتے کیونکہ انہوں نے جزء رفع الیدین میں ہر قسم کی رطب و یابس روایات کی بھرتی کی ہے۔
نیز یہ روایت منقطع بھی ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کا سماع حضرت ابوقتادہ سے نہیں اور سنداً متنًابھی یہ روایت مضطرب ہے۔(دیکھیے نورالصباح ج1ص203تا210)
آپ نے سند کا حال تو ملاحظہ کرلیا، غیر مقلدین کے شیخ زبیر علی زئی کا” فرمان“ بھی ملاحظہ کیجیے، موصوف فرماتے ہیں:”اور یہ سند صحیح ہے“ (

 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,006
ری ایکشن اسکور
9,809
پوائنٹ
773
تارکین رفع الیدین صحیح بخاری سے نقل کرتے ہیں اورکہتے ہیں کہ اس میں رکوع والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل ہے:
۔۔۔فَقَالَ أَبُو حُمَيْدٍ السَّاعِدِيُّ: أَنَا كُنْتُ أَحْفَظَكُمْ لِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (١) رَأَيْتُهُ إِذَا كَبَّرَ جَعَلَ يَدَيْهِ حِذَاءَ مَنْكِبَيْهِ، (٢)وَإِذَا رَكَعَ أَمْكَنَ يَدَيْهِ مِنْ رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ هَصَرَ ظَهْرَهُ، (٣)فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ اسْتَوَى حَتَّى يَعُودَ كُلُّ فَقَارٍ مَكَانَهُ، فَإِذَا سَجَدَ وَضَعَ يَدَيْهِ غَيْرَ مُفْتَرِشٍ وَلاَ قَابِضِهِمَا، وَاسْتَقْبَلَ بِأَطْرَافِ أَصَابِعِ رِجْلَيْهِ القِبْلَةَ، فَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ جَلَسَ عَلَى رِجْلِهِ اليُسْرَى، وَنَصَبَ اليُمْنَى، (٤)وَإِذَا جَلَسَ فِي الرَّكْعَةِ الآخِرَةِ قَدَّمَ رِجْلَهُ اليُسْرَى، وَنَصَبَ الأُخْرَى وَقَعَدَ عَلَى مَقْعَدَتِهِ
[صحيح البخاري:1 /165 رقم828 ]
ابوحمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ ساعدی بولے کہ مجھے تم سب سے زیادہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز یاد ہے، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ(١) جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تکبیر (تحریمہ) پڑھی، تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے دونوں شانوں کی مقابل تک اٹھائے، (٢)اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو اپنے دونوں ہاتھ اپنے گھٹنوں پر جما لئے، اپنی پیٹھ کو جھکا دیا، (٣)جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر (رکوع سے) اٹھایا تو اس حد تک سیدھے ہوگئے کہ ہر ایک عضو (کا جوڑا) اپنے اپنے مقام پر پہنچ گیا، اور جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سجدہ کیا تو دونوں ہاتھ اپنے زمین پر رکھ دیئے، نہ ان کو بچھائے ہوئے تھے، اور نہ سمیٹے ہوئے تھے، اور پیر کی انگلیاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبلہ رخ کرلی تھیں، پھر جس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں بیٹھے تو اپنے بائیں پیر پر بیٹھے، اور داہنے پیر کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑا کر لیا، (٤)جب آخری رکعت میں بیٹھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بائیں پیر کو آگے کر دیا، اور دوسرے پیر کو کھڑا کرلیا، اور اپنی نشست گاہ کے بل بیٹھ گئے
اس حدیث سے بھی رکوع والے رفع الیدین کے ترک پر استدلال درست نہیں ہے، کیونکہ اس حدیث میں نماز کے تمام طریقوں کا ذکرنہیں ہے تو کیا نماز کی جن جن چیزوں کا ذکر اس حدیث میں نہیں ہے انہیں متروک مان لیاجائے؟
صرف ایک چیز کی وضاحت کرتاہوں بخاری کی اس حدیث میں جس طرح صرف تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کا ذکر ہے ٹھیک اسی طرح سے اس حدیث میں صرف تکبیرتحریمہ والی تکبیرہی کا ذکربھی ہے ۔
میں نے حدیث کے متن کے اندر چار مقامات پر بالترتیب نمبرڈالے ہیں ان چاروں میں سے صرف پہلے مقام تکبیرکا ذکر ہے اوربقیہ مقامات پر جس طرح رفع الیدین کا ذکرنہیں ہے اسی طرح تکبیرکایا اس کے قائم مقام تسمیع کا بھی ذکر نہیں ہے۔
توکیا یہ کہہ دیا جائے کہ بقیہ رفع الیدین کے ساتھ بقیہ تکبیرات بھی متروک ہوگئی ہیں؟

یادرہے کہ بخاری کی یہی حدیث ابوداؤد میں موجود ہے اوراس میں دیگررفع الیدین کا بھی ذکر ہے اوردیگرتکبیرات کا بھی ذکر ہے ملاحظہ ہو:
۔۔۔قَالَ أَبُو حُمَيْدٍ: أَنَا أَعْلَمُكُمْ بِصَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالُوا: فَلِمَ؟ فَوَاللَّهِ مَا كُنْتَ بِأَكْثَرِنَا لَهُ تَبَعًا وَلَا أَقْدَمِنَا لَهُ صُحْبَةً، قَالَ: بَلَى، قَالُوا: فَاعْرِضْ، قَالَ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ (١)إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حَتَّى يَقِرَّ كُلُّ عَظْمٍ فِي مَوْضِعِهِ مُعْتَدِلًا،(٢) ثُمَّ يَقْرَأُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ يَرْكَعُ وَيَضَعُ رَاحَتَيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ، ثُمَّ يَعْتَدِلُ فَلَا يَصُبُّ رَأْسَهُ وَلَا يُقْنِعُ، (٣)ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَرْفَعُ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ مُعْتَدِلًا، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ ثُمَّ يَهْوِي إِلَى الْأَرْضِ فَيُجَافِي يَدَيْهِ عَنْ جَنْبَيْهِ، ثُمَّ يَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا، وَيَفْتَحُ أَصَابِعَ رِجْلَيْهِ إِذَا سَجَدَ، وَيَسْجُدُ ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ، وَيَرْفَعُ رَأْسَهُ وَيَثْنِي رِجْلَهُ الْيُسْرَى فَيَقْعُدُ عَلَيْهَا حَتَّى يَرْجِعَ كُلُّ عَظْمٍ إِلَى مَوْضِعِهِ، ثُمَّ يَصْنَعُ فِي الْأُخْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، (٤)ثُمَّ إِذَا قَامَ مِنَ الرَّكْعَتَيْنِ كَبَّرَ وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى يُحَاذِيَ بِهِمَا مَنْكِبَيْهِ كَمَا كَبَّرَ عِنْدَ افْتِتَاحِ الصَّلَاةِ، ثُمَّ يَصْنَعُ ذَلِكَ فِي بَقِيَّةِ صَلَاتِهِ حَتَّى إِذَا كَانَتِ السَّجْدَةُ الَّتِي فِيهَا التَّسْلِيمُ أَخَّرَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى وَقَعَدَ مُتَوَرِّكًا عَلَى شِقِّهِ الْأَيْسَرِ " ، قَالُوا: صَدَقْتَ هَكَذَا كَانَ يُصَلِّي صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،
[سنن أبي داود :1 /194 رقم 730 واسنادہ صحیح]
ابوحمید نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق میں تم میں سے سب سے زیادہ واقفیت رکھتا ہوں صحابہ نے کہا وہ کیسے؟ واللہ تم ہم سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی نہیں کرتے تھے اور نہ ہی تم ہم سے پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں آئے تھے ابوحمید نے کہا ہاں یہ درست ہے صحابہ نے کہا اچھا تو پھر بیان کرو ابوحمید کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم(١) جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے تھے تو اپنے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے یہاں تک کہ ہر ہڈی اعتدال کے ساتھ اپنے مقام پر آجاتی اس کے بعد قرات شروع فرماتے (٢)پھر (رکوع) کی تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور رکوع کرتے اور رکوع میں دونوں ہتھیلیاں گھٹنوں پر رکھتے اور پشت سیدھی رکھتے سر کو نہ زیادہ جھکاتے اور نہ اونچا رکھتے۔(٣) پھر سر اٹھاتے اور ۔سَمِعَ اللہ لِمَن حَمِدَہ کہتے۔ پھر سیدھے کھڑے ہو کر دونوں ہاتھ مونڈھوں تک اٹھاتے اور تکبیر کہتے ہوئے زمین کی طرف جھکتے (سجدہ کرتے) اور (سجدہ میں) دونوں ہاتھوں کو پہلوؤں سے جدا رکھتے پھر (سجدہ سے) سر اٹھاتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر بیٹھتے اور سجدہ کے وقت پاؤں کی انگلیوں کو کھلا رکھتے پھر (دوسرا) سجدہ کرتے اور اللہ اکبر کہہ کر پھر سجدہ سے سر اٹھاتے اور بائیں پاؤں کو بچھا کر اس پر اتنی دیر تک بیٹھتے کہ ہر ہڈی اپنے مقام پر آجاتی (پھر کھڑے ہوتے) اور دوسری رکعت میں بھی ایسا ہی کرتے(٤) پھر جب دو رکعتوں سے فارغ ہو کر کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے اور مونڈھوں تک دونوں ہاتھ اٹھاتے جس طرح کہ نماز کے شروع میں ہاتھ اٹھائے تھے اور تکبیر کہی تھی پھر باقی نماز میں بھی ایسا ہی کرتے یہاں تک کہ جب آخری سجدہ سے فارغ ہوتے یعنی جس کے بعد سلام ہوتا ہے تو بایاں پاؤں نکالتے اور بائیں کولھے پر بیٹھتے (یہ سن کر) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے کہا تم نے سچ کہا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح نماز پڑھتے تھے۔
اس حدیث میں بھی ہم نے متن کے اندر چار مقامات پر بالترتیب نمبرڈالے ہیں ان چاروں میں پہلے مقام کی طرح رفع الیدین کا بھی ذکر ہے اورتکبیریا تسمیع کا بھی ذکرہے، تکبیرکے ذکر والے الفاظ کو ہم نے لال رنگ سے ملون ومخطوط کیا ہے اوررفع الیدین کے ذکروالے الفاظ کو نیلے رنگ سے ملون کیاہے۔

معلوم ہوا کہ اس صحیح حدیث میں بھی تکبیرتحریمہ کے علاوہ والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل نہیں ہے، اوراگراس جیسی احادیث میں واقعی ترک کی دلیل ہے تو لیجئے ہم اسی جیسی ایک ایسی صحیح حدیث پیش کرتے ہیں جس میں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک کی دلیل بھی موجود ہے ملاحظہ ہو:
صحیح بخاری میں ہے:
۔۔۔ أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، " كَانَ يُكَبِّرُ فِي كُلِّ صَلاَةٍ مِنَ المَكْتُوبَةِ، وَغَيْرِهَا فِي رَمَضَانَ وَغَيْرِهِ، فَيُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْكَعُ، ثُمَّ يَقُولُ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ يَقُولُ: رَبَّنَا وَلَكَ الحَمْدُ قَبْلَ أَنْ يَسْجُدَ ، ثُمَّ يَقُولُ: اللَّهُ أَكْبَرُ حِينَ يَهْوِي سَاجِدًا، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَسْجُدُ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَرْفَعُ رَأْسَهُ مِنَ السُّجُودِ، ثُمَّ يُكَبِّرُ حِينَ يَقُومُ مِنَ الجُلُوسِ فِي الِاثْنَتَيْنِ، وَيَفْعَلُ ذَلِكَ فِي كُلِّ رَكْعَةٍ حَتَّى يَفْرُغَ مِنَ الصَّلاَةِ "، ثُمَّ يَقُولُ حِينَ يَنْصَرِفُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، إِنِّي لَأَقْرَبُكُمْ شَبَهًا بِصَلاَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا [صحيح البخاري:1 /159رقم803]
ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ ہر نماز میں تکبیر کہتے تھے فرض ہو یا کوئی اور رمضان میں (بھی) اور غیر رمضان میں (بھی) ، پس جب کھڑے ہوتے تھے تکبیر کہتے، پھر جب رکوع کرتے تھے تکبیر کہتے، پھر سجدہ کرنے سے پہلے سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ کہتے اس کے بعدرَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ کہتے، اس کے بعد جب سجدہ کرنے کے لئے جھکتے، اللہ اکبر کہتے، پھر جب سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے، تکبیر کہتے۔ پھر جب (دوسرا) سجدہ کرتے تکبیر کہتے، پھر جب سجدوں سے اپنا سر اٹھاتے ، تکبیر کہتے، پھر جب دو رکعتوں میں بیٹھ کر اٹھتے، تکبیر کہتے، (خلاصہ یہ کہ) اپنی ہر رکعت میں اسی طرح کرکے نماز سے فارغ ہوجاتے، اس کے بعد جب نماز ختم کر چکتے تو کہتے کہ اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے بلاشبہ میں تم سب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے زیادہ مشابہت رکھتا ہوں، بلا شبہ آپ کی نماز اس وقت تک بالکل ایسی ہی تھی جب کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کو چھوڑا
غورفرمائیں اس صحیح حدیث میں تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کا بھی ذکرنہیں ہے تو کیا آپ کے اصول کے مطابق تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر صحیح حدیث ہے یا نہیں؟
لطف تو یہ ہے کہ آپ کے اصول کے مطابق تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر دلالت کرنے والی اس حدیث میں یہ صراحت بھی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ عمل تاحیات تھا اس حدیث کے اخیرمیں دیکھیں آپ کو یہ الفاظ نظر آئیں گے:
إِنْ كَانَتْ هَذِهِ لَصَلاَتَهُ حَتَّى فَارَقَ الدُّنْيَا

کیا خیال ہے تکبیرتحریمہ والے رفع الیدین کے ترک پر آپ کے اصول کے مطابق یہ کیسی زبردست دلیل ہے جس میں تاحیات اور آخری وقت کی بھی صراحت ہے۔
 

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,006
ری ایکشن اسکور
9,809
پوائنٹ
773
سنن ابواؤد کے جس راوی پر معترض نے جروح نقل کئے ہیں وہ معمولی جروح ہیں ان سے راوی ضعیف ثابت نہیں ہوتا جبکہ دیگر بہت سارے محدثین نے اس کی توثیق بھی کی ہے اس بابت تفصیل کسی اوروقت پیش کردی جائے گی۔
 
Top