ابن قدامہ
مشہور رکن
- شمولیت
- جنوری 25، 2014
- پیغامات
- 1,772
- ری ایکشن اسکور
- 433
- پوائنٹ
- 198
’’قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ مُحَمَّدُ بْنُ اِسْمَاعِیْلَ الْبُخَارِیُّ حَدَّثَنَا یَحْیٰ بْنُ بُکَیْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّیْثُ عَنْ خَالِدٍ عَنْ سَعِیْدٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَلْحَلَۃَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِوبْنِ عَطَائٍ اَنَّہٗ کَانَ جَالِسًا مَعَ نَفْرٍ مِّنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّصلی اللہ علیہ و سلم فَذَکَرْنَا صَلٰوۃَ النَّبِیِّصلی اللہ علیہ و سلم فَقَالَ اَبُوْحُمَیْدِ السَّاعِدِیُّرضی اللہ عنہما اَنَا کُنْتُ اَحْفَظُکُمْ لِصَلٰوۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ و سلم رَاَ یْتُہٗ اِذَا کَبَّرَ جَعَلَ یَدَیْہِ حَذْوَ مَنْکَبَیْہِ وَاِذَا رَکَعَ اَمْکَنَ یَدَیْہِ مِنْ رُکْبَتَیْہِ ثُمَّ ھَصَرَظَھْرَہٗ فَاِذَا رَفَعَ رَاْسَہٗ اِسْتَویٰ حَتّٰی یَعُوْدَ کُلُّ فَقَارٍ مَّکَانَہٗ وَاِذَا سَجَدَ وَضَعَ یَدَیْہِ غَیْرَمُفَتَرِشٍ وَّلَا قَابِضَہُمَا…‘‘(صحیح بخاری؛ ج۱ ص۱۱۴‘ صحیح ابن خزیمہ؛ ج۱ ص۲۹۸)
ترجمہ :محمدبن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کےصحابہ کرام کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے فرماتے ہیں: ’’ہم نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کا ذکر کیا (کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟) توحضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’میں تم سےحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز پڑھنے کے طریقے کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا جب تکبیر تحریمہ کہی تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا اور جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑا پھر اپنی پیٹھ کو جھکایا جب سر کو رکوع سے اٹھایا تو سیدھے کھڑے ہو گئے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی اور جب سجدہ کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے حال پر رکھا نہ پھیلایا اور نہ ہی ملایا۔
اعتراض: ”صحیح بخاری کی اس حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے ترک کا کوئی ذکر نہیں“
جواب: ہمارا مؤقف یہ ہے کہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا جائے،اس کے علاوہ پوری نماز میں رفع یدین نہ کیا جائے۔حدیثِ مذکور جو سنداًصحیح ہے،میں سیدنا ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کا ذکر کرتے ہیں،باقی مقامات کا ذکر نہیں کرتے۔اس سے ہمارا مؤقف ثابت ہے۔
اعتراض: ”محمد قاسم نانوتوی(بانی مدرسہ دیوبند)نے لکھا: مذکورنہ ہونا معدوم ہونے کی دلیل نہیں“
جواب:
السکوت فی معرض البیان بیان(مرعاۃ المصابیح لعبیداللہ المبارکپوری ج3ص385،روح المعانی ج18ص7)
وہ مقام جہاں ایک شے کو بیان کرنا چاہیے،وہاں اس کے بیان کو چھوڑنے کا مطلب اس شے کا عدم بیان کرنا ہوتاہے۔
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نماز کے اس نقشہ کو بیان فرمارہے ہیں جو دیکھنے سے نظر آتا ہے کمافی الحدیث ”رایتہ“ (میں نے انھیں دیکھا)۔ اگررفع یدین عندالرکوع وبعد الرکوع ہوتا تو ضرور بیان کرتے۔معلوم ہو ا کہ یہ رفع یدین نہیں ہوتا تھا۔
حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کا قاعدہ مطلق ہے اور ہمارا بیان کردہ اصول ایک قید ”فی معرض البیان“کے ساتھ مقید ہے۔دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ کسی کو یہ اصطلاح سمجھ میں نہ آئے تو اصول فقہ کی کتب کی طرف مراجعت فرما لیں اور خوب سمجھنے کی کوشش کریں۔
نوٹ:سنن ابی داؤد وغیرہ کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کا ذکر موجود ہے۔”عرض“ہے کہ اس میں ایک راوی عبدالحمید بن جعفر ہے جو کہ ضعیف، خطاکار اور قدری ہے۔
نیز صحیح بخاری میں امام بخاریؒ نے ابو حمید الساعدیؓ کی یہی مذکورہ بالا روایت ذکر کی ہے مگر رفع الیدین عند افتتاح الصلوٰۃ کے علاوہ کا اور کوئی ذکر نہیں ہے۔
چنانچہ علامہ امیر یمانی غیر مقلد لکھتے ہیں:
"حضرت ابوحمیدؓ کی حدیث جو بخاری کی روایت سے گزر چکی ہے اس میں رفع یدین تکبیر احرام کے سوا اور کہیں نہیں لیکن ابو داؤد کی یہ روایت اس کے خلاف ہے اور اس میں تین مقامات میں رفع الیدین کا ذکر ہے۔ " (سبل السلام، ج 1 ص 105)
معلوم ہوا کہ رفع الیدین کا بیان بخاریؒ میں اس لیے نہیں ہے کہ وہاں راوی عبدالحمید بن جعفر نہیں ہے اور چونکہ ابوداؤد میں عبدالحمید ہے اس لیے اس نے بطور خطاء رفع الیدین کا ذکر کر دیا ہے اگر رفع یدین کا ذکر صحیح ہوتا تو امام بخاریؒ اسے صحیح البخاری میں بیان کرنے سے ہرگز نہ چُوکتے کیونکہ انہوں نے جزء رفع الیدین میں ہر قسم کی رطب و یابس روایات کی بھرتی کی ہے۔
نیز یہ روایت منقطع بھی ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کا سماع حضرت ابوقتادہ سے نہیں اور سنداً متنًابھی یہ روایت مضطرب ہے۔(دیکھیے نورالصباح ج1ص203تا210)
آپ نے سند کا حال تو ملاحظہ کرلیا، غیر مقلدین کے شیخ زبیر علی زئی کا” فرمان“ بھی ملاحظہ کیجیے، موصوف فرماتے ہیں:”اور یہ سند صحیح ہے“ (
ترجمہ :محمدبن عمرو بن عطاء رحمہ اللہ،آپ صلی اللہ علیہ و سلم کےصحابہ کرام کی مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے فرماتے ہیں: ’’ہم نے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز کا ذکر کیا (کہ حضورصلی اللہ علیہ و سلم کیسے نماز پڑھتے تھے؟) توحضرت ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ’’میں تم سےحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی نماز پڑھنے کے طریقے کو زیادہ یاد رکھنے والا ہوں پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے نماز پڑھنے کے طریقے کو بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کو دیکھا جب تکبیر تحریمہ کہی تو اپنے ہاتھوں کو کندھوں کے برابر اٹھایا اور جب رکوع کیا تو اپنے ہاتھوں سے اپنے گھٹنوں کو مضبوطی سے پکڑا پھر اپنی پیٹھ کو جھکایا جب سر کو رکوع سے اٹھایا تو سیدھے کھڑے ہو گئے حتی کہ ہر ہڈی اپنی جگہ پر لوٹ آئی اور جب سجدہ کیا تو اپنے ہاتھوں کو اپنے حال پر رکھا نہ پھیلایا اور نہ ہی ملایا۔
اعتراض: ”صحیح بخاری کی اس حدیث میں رکوع سے پہلے اور بعد والے رفع یدین کے ترک کا کوئی ذکر نہیں“
جواب: ہمارا مؤقف یہ ہے کہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کیا جائے،اس کے علاوہ پوری نماز میں رفع یدین نہ کیا جائے۔حدیثِ مذکور جو سنداًصحیح ہے،میں سیدنا ابوحمید الساعدی رضی اللہ عنہ صرف تکبیر تحریمہ کے وقت رفع یدین کا ذکر کرتے ہیں،باقی مقامات کا ذکر نہیں کرتے۔اس سے ہمارا مؤقف ثابت ہے۔
اعتراض: ”محمد قاسم نانوتوی(بانی مدرسہ دیوبند)نے لکھا: مذکورنہ ہونا معدوم ہونے کی دلیل نہیں“
جواب:
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ کا قول اس استدلال کے خلاف نہیں،اس لیے کہ اصول ہے:
السکوت فی معرض البیان بیان(مرعاۃ المصابیح لعبیداللہ المبارکپوری ج3ص385،روح المعانی ج18ص7)
وہ مقام جہاں ایک شے کو بیان کرنا چاہیے،وہاں اس کے بیان کو چھوڑنے کا مطلب اس شے کا عدم بیان کرنا ہوتاہے۔
حضرت ابوحمید ساعدی رضی اللہ عنہ نماز کے اس نقشہ کو بیان فرمارہے ہیں جو دیکھنے سے نظر آتا ہے کمافی الحدیث ”رایتہ“ (میں نے انھیں دیکھا)۔ اگررفع یدین عندالرکوع وبعد الرکوع ہوتا تو ضرور بیان کرتے۔معلوم ہو ا کہ یہ رفع یدین نہیں ہوتا تھا۔
حضرت نانوتوی رحمہ اللہ کا قاعدہ مطلق ہے اور ہمارا بیان کردہ اصول ایک قید ”فی معرض البیان“کے ساتھ مقید ہے۔دونوں میں کوئی تضاد نہیں۔ کسی کو یہ اصطلاح سمجھ میں نہ آئے تو اصول فقہ کی کتب کی طرف مراجعت فرما لیں اور خوب سمجھنے کی کوشش کریں۔
نوٹ:سنن ابی داؤد وغیرہ کا حوالہ دیا جاتا ہے کہ اس میں رکوع سے پہلے اور رکوع کے بعد والے رفع یدین کا ذکر موجود ہے۔”عرض“ہے کہ اس میں ایک راوی عبدالحمید بن جعفر ہے جو کہ ضعیف، خطاکار اور قدری ہے۔
- امام نسائی فرماتے ہیں: لیس بالقوی (ضعفاء صغیر ص 48)
- امام ابوحاتم فرماتے ہیں: لا یحتج بہ اور امام سفیان الثوریؒ بھی اس کی تضعیف کرتے تھے؛ وکان الثوری یضعفہ (میزان الاعتدال، ج 2 ص 94)
- حافظ ابن حجر لکھتے ہیں: وکان یحی بن سعید یضعفہ امام الجرح والتعدیل حضرت یحییٰ بن معین سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس سے روایت بھی لیتے تھے تو ابن معین نے فرمایا کہ حضرت یحیی القطانؒ اس سے روایت بھی لیتے تھے وکان یضعفہ وکان یری القدر اور ساتھ ہی اس کی تضعیف بھی کرتے تھے اور یہ تقدیر کا منکر تھا۔ (تہذیب التہذیب، ج 6 ص 112)
- امام ابن حبان: وقال ابن حبان ربما اخطاء ؛ اور ابن حبان فرماتے ہیں کہ اس نے اکثر اوقات خطا کی ہے۔
- امام ترمذیؒ نے بھی اس کی ایک روایت کو غیر اصح قرار دیا ہے۔ (سنن ترمذی ج 2 ص 140، سورۃ حجر)
- امام طحاوی رحمہ اللہ تعالیٰ شرح المعانی الآثار ج 1 ص 111 میں فرماتے ہیں۔
- حافظ ابن قیم حنبلیؒ اس کی ایک حدیث کا جواب یوں دیتے ہیں۔
- قاضی شوکانی غیر مقلد عبد الحمید بن جعفر کی ایک روایت بارے یوں لکھتے ہیں:
نیز صحیح بخاری میں امام بخاریؒ نے ابو حمید الساعدیؓ کی یہی مذکورہ بالا روایت ذکر کی ہے مگر رفع الیدین عند افتتاح الصلوٰۃ کے علاوہ کا اور کوئی ذکر نہیں ہے۔
چنانچہ علامہ امیر یمانی غیر مقلد لکھتے ہیں:
"حضرت ابوحمیدؓ کی حدیث جو بخاری کی روایت سے گزر چکی ہے اس میں رفع یدین تکبیر احرام کے سوا اور کہیں نہیں لیکن ابو داؤد کی یہ روایت اس کے خلاف ہے اور اس میں تین مقامات میں رفع الیدین کا ذکر ہے۔ " (سبل السلام، ج 1 ص 105)
معلوم ہوا کہ رفع الیدین کا بیان بخاریؒ میں اس لیے نہیں ہے کہ وہاں راوی عبدالحمید بن جعفر نہیں ہے اور چونکہ ابوداؤد میں عبدالحمید ہے اس لیے اس نے بطور خطاء رفع الیدین کا ذکر کر دیا ہے اگر رفع یدین کا ذکر صحیح ہوتا تو امام بخاریؒ اسے صحیح البخاری میں بیان کرنے سے ہرگز نہ چُوکتے کیونکہ انہوں نے جزء رفع الیدین میں ہر قسم کی رطب و یابس روایات کی بھرتی کی ہے۔
نیز یہ روایت منقطع بھی ہے کہ محمد بن عمرو بن عطاء کا سماع حضرت ابوقتادہ سے نہیں اور سنداً متنًابھی یہ روایت مضطرب ہے۔(دیکھیے نورالصباح ج1ص203تا210)
آپ نے سند کا حال تو ملاحظہ کرلیا، غیر مقلدین کے شیخ زبیر علی زئی کا” فرمان“ بھی ملاحظہ کیجیے، موصوف فرماتے ہیں:”اور یہ سند صحیح ہے“ (