• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے فضائل

محمد زاہد بن فیض

سینئر رکن
شمولیت
جون 01، 2011
پیغامات
1,961
ری ایکشن اسکور
5,788
پوائنٹ
354
حدیث نمبر: 3757
حدثنا أحمد بن واقد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا حماد بن زيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أيوب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن حميد بن هلال،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أنس ـ رضى الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم نعى زيدا وجعفرا وابن رواحة للناس قبل أن يأتيهم خبرهم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فقال ‏"‏ أخذ الراية زيد فأصيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أخذ جعفر فأصيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم أخذ ابن رواحة فأصيب ـ وعيناه تذرفان ـ حتى أخذ سيف من سيوف الله حتى فتح الله عليهم ‏"‏‏.

ہم سے احمد بن واقد نے بیان کیا، کہا ہم سے حماد بن زید نے بیان کیا، ان سے ایوب نے ان سے حمید بن ہلال نے اور ان سے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی اطلاع کے پہنچنے سے پہلے زید، جعفر اور ابن رواحہ رضی اللہ عنہم کی شہادت کی خبر صحابہ کو سنا دی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اب اسلامی علم کو زید رضی اللہ عنہ لیے ہوئے ہیں اور وہ شہید کر دیئے گئے، اب جعفر رضی اللہ عنہ نے علم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، اب ابن رواحہ رضی اللہ عنہ نے علم اٹھا لیا اور وہ بھی شہید کر دیئے گئے، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اور آخر اللہ کی تلوار وں میں سے ایک تلوار (حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ) نے علم اٹھا لیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھ پر مسلمانوں کو فتح عنایت فرمائی۔


کتاب فضائل اصحاب النبی صحیح بخاری
 
Top