امام أحمد بن حنبل رحمه الله (المتوفى241)نے کہا:
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كُنْتُ أَدْخُلُ بَيْتِي الَّذِي دُفِنَ فِيهِ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبِي فَأَضَعُ ثَوْبِي ، وَأَقُولُ إِنَّمَا هُوَ زَوْجِي وَأَبِي ، فَلَمَّا دُفِنَ عُمَرُ مَعَهُمْ فَوَاللَّهِ مَا دَخَلْتُهُ إِلاَّ وَأَنَا مَشْدُودَةٌ عَلَيَّ ثِيَابِي ، حَيَاءً مِنْ عُمَرَ.[مسند أحمد ط الميمنية: 6/ 202]۔
یہ روایت صحیح ہے لیکن اس سے قبر کی زندگی پر استدلال درست نہیں کیونکہ امام عائشہ رضی اللہ عنہ جو پردہ کرتی تھیں اس کی وجہ عمرفاروق سے اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کی شرم وحیاء تھی نہ کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی حیات وزندگی۔
کیونکہ اگر حیات وزندگی مراد ہوتی اور اس کے سبب اماں عائشہ رضی اللہ عنہا پردہ کرتین تو یہ چیز بے معنی تھی کیونکہ بفرض محال یہ تسلیم بھی کرلیں کہ عمرفاروق قبر میں زندہ ہیں تو وہ قبر کے اندر ہیں اوراماں عائشہ رضی اللہ عنہا قبر کے باہر ہیں یعنی دونوں کے مابین زمین حائل ہے جو خود ایک بہت بڑا پردہ ہے ۔
معلوم ہوا کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پردہ کی وجہ ان کی شرم وحیاء تھی نہ کہ عمرفاروق کی زندگی۔