محمد زاہد بن فیض
سینئر رکن
- شمولیت
- جون 01، 2011
- پیغامات
- 1,961
- ری ایکشن اسکور
- 5,788
- پوائنٹ
- 354
حدیث نمبر: 3812
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال سمعت مالكا، يحدث عن أبي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه، قال ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لأحد يمشي على الأرض إنه من أهل الجنة. إلا لعبد الله بن سلام قال وفيه نزلت هذه الآية { وشهد شاهد من بني إسرائيل} الآية. قال لا أدري قال مالك الآية أو في الحديث.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، وہ عمربن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور ان سے ان کے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے متعلق یہ نہیں سنا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں، بیان کیا کہ آیت ((وشهد شاهد من بني إسرائيل)) (الاحقاف: 10) انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی (راوی حدیث عبداللہ بن یوسف نے) بیان کیا کہ آیت کے نزول کے متعلق مالک کا قول ہے یا حدیث میں اسی طرح تھا۔
حدیث نمبر: 3813
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا أزهر السمان، عن ابن عون، عن محمد، عن قيس بن عباد، قال كنت جالسا في مسجد المدينة، فدخل رجل على وجهه أثر الخشوع، فقالوا هذا رجل من أهل الجنة. فصلى ركعتين تجوز فيهما ثم خرج، وتبعته فقلت إنك حين دخلت المسجد قالوا هذا رجل من أهل الجنة. قال والله ما ينبغي لأحد أن يقول ما لا يعلم وسأحدثك لم ذاك رأيت رؤيا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فقصصتها عليه، ورأيت كأني في روضة ـ ذكر من سعتها وخضرتها ـ وسطها عمود من حديد، أسفله في الأرض وأعلاه في السماء، في أعلاه عروة فقيل له ارقه. قلت لا أستطيع. فأتاني منصف فرفع ثيابي من خلفي، فرقيت حتى كنت في أعلاها، فأخذت بالعروة، فقيل له استمسك. فاستيقظت وإنها لفي يدي، فقصصتها على النبي صلى الله عليه وسلم قال " تلك الروضة الإسلام، وذلك العمود عمود الإسلام، وتلك العروة عروة الوثقى، فأنت على الإسلام حتى تموت ". وذاك الرجل عبد الله بن سلام. وقال لي خليفة حدثنا معاذ، حدثنا ابن عون، عن محمد، حدثنا قيس بن عباد، عن ابن سلام، قال وصيف مكان منصف.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہرسمان نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے محمد نے اور ان سے قیس بن عبادنے بیان کیا کہ میں مسجدنبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پرخشوع وخضوع کے آثار ظاہر تھے لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنتی لوگوں میں سے ہیں، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصرطریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور عرض کیا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں، اس پر انہوں نے کہا خدا کی قسم! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، میں نے ایک خواب دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا نچلاحصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے، (العروۃ) مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے، ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی، یہ خواب جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو باغ تم نے دیکھا ہے، وہ تواسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کاستون ہے اور عروہ (گھنادرخت) العروۃ الوثقی ہے اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے، یہ بزرگ حضرت عبداللہ بن سلام تھے اورمجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ان سے معاذ نے بیان کیا ان سے ابن عون نے بیان کیا ان سے محمدنے ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے انہوں نے منصف (خادم) کے بجائے وصیف کا لفظ ذکر کیا۔
حدثنا عبد الله بن يوسف، قال سمعت مالكا، يحدث عن أبي النضر، مولى عمر بن عبيد الله عن عامر بن سعد بن أبي وقاص، عن أبيه، قال ما سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول لأحد يمشي على الأرض إنه من أهل الجنة. إلا لعبد الله بن سلام قال وفيه نزلت هذه الآية { وشهد شاهد من بني إسرائيل} الآية. قال لا أدري قال مالك الآية أو في الحديث.
ہم سے عبداللہ بن یوسف نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ میں نے امام مالک سے سنا، وہ عمربن عبیداللہ کے مولیٰ ابونضر کے واسطے سے بیان کرتے ہیں، وہ عامر بن سعد بن ابی وقاص سے اور ان سے ان کے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ کے سوا اور کسی کے متعلق یہ نہیں سنا کہ وہ اہل جنت میں سے ہیں، بیان کیا کہ آیت ((وشهد شاهد من بني إسرائيل)) (الاحقاف: 10) انہیں کے بارے میں نازل ہوئی تھی (راوی حدیث عبداللہ بن یوسف نے) بیان کیا کہ آیت کے نزول کے متعلق مالک کا قول ہے یا حدیث میں اسی طرح تھا۔
حدیث نمبر: 3813
حدثني عبد الله بن محمد، حدثنا أزهر السمان، عن ابن عون، عن محمد، عن قيس بن عباد، قال كنت جالسا في مسجد المدينة، فدخل رجل على وجهه أثر الخشوع، فقالوا هذا رجل من أهل الجنة. فصلى ركعتين تجوز فيهما ثم خرج، وتبعته فقلت إنك حين دخلت المسجد قالوا هذا رجل من أهل الجنة. قال والله ما ينبغي لأحد أن يقول ما لا يعلم وسأحدثك لم ذاك رأيت رؤيا على عهد النبي صلى الله عليه وسلم فقصصتها عليه، ورأيت كأني في روضة ـ ذكر من سعتها وخضرتها ـ وسطها عمود من حديد، أسفله في الأرض وأعلاه في السماء، في أعلاه عروة فقيل له ارقه. قلت لا أستطيع. فأتاني منصف فرفع ثيابي من خلفي، فرقيت حتى كنت في أعلاها، فأخذت بالعروة، فقيل له استمسك. فاستيقظت وإنها لفي يدي، فقصصتها على النبي صلى الله عليه وسلم قال " تلك الروضة الإسلام، وذلك العمود عمود الإسلام، وتلك العروة عروة الوثقى، فأنت على الإسلام حتى تموت ". وذاك الرجل عبد الله بن سلام. وقال لي خليفة حدثنا معاذ، حدثنا ابن عون، عن محمد، حدثنا قيس بن عباد، عن ابن سلام، قال وصيف مكان منصف.
ہم سے عبداللہ بن محمد نے بیان کیا، کہا ہم سے ازہرسمان نے بیان کیا، ان سے ابوعوانہ نے، ان سے محمد نے اور ان سے قیس بن عبادنے بیان کیا کہ میں مسجدنبوی میں بیٹھا ہوا تھا کہ ایک بزرگ مسجد میں داخل ہوئے جن کے چہرے پرخشوع وخضوع کے آثار ظاہر تھے لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنتی لوگوں میں سے ہیں، پھر انہوں نے دو رکعت نماز مختصرطریقہ پر پڑھی اور باہر نکل گئے میں بھی ان کے پیچھے ہو لیا اور عرض کیا کہ جب آپ مسجد میں داخل ہوئے تھے تو لوگوں نے کہا کہ یہ بزرگ جنت والوں میں سے ہیں، اس پر انہوں نے کہا خدا کی قسم! کسی کے لیے ایسی بات زبان سے نکالنا مناسب نہیں ہے جسے وہ نہ جانتا ہو اور میں تمہیں بتاؤں گا کہ ایسا کیوں ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، میں نے ایک خواب دیکھا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اسے بیان کیا میں نے خواب یہ دیکھا تھا کہ جیسے میں ایک باغ میں ہوں، پھر انہوں نے اس کی وسعت اور اس کے سبزہ زاروں کا ذکر کیا اس باغ کے درمیان میں ایک لوہے کا ستون ہے جس کا نچلاحصہ زمین میں ہے اور اوپر کا آسمان پر اور اس کی چوٹی پر ایک گھنا درخت ہے، (العروۃ) مجھ سے کہا گیا کہ اس پر چڑھ جاؤ میں نے کہا کہ مجھ میں تو اتنی طاقت نہیں ہے اتنے میں ایک خادم آیا اور پیچھے سے میرے کپڑے اس نے اٹھائے تو میں چڑھ گیا اور جب میں اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تو میں نے اس گھنے درخت کو پکڑ لیا مجھ سے کہا گیا کہ اس درخت کو پوری مضبوطی کے ساتھ پکڑ لے، ابھی میں اسے اپنے ہاتھ سے پکڑے ہوئے تھا کہ میری آنکھ کھل گئی، یہ خواب جب میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو باغ تم نے دیکھا ہے، وہ تواسلام ہے اور اس میں ستون اسلام کاستون ہے اور عروہ (گھنادرخت) العروۃ الوثقی ہے اس لیے تم اسلام پر مرتے دم تک قائم رہو گے، یہ بزرگ حضرت عبداللہ بن سلام تھے اورمجھ سے خلیفہ نے بیان کیا ان سے معاذ نے بیان کیا ان سے ابن عون نے بیان کیا ان سے محمدنے ان سے قیس بن عباد نے بیان کیا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے انہوں نے منصف (خادم) کے بجائے وصیف کا لفظ ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 3814
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن سعيد بن أبي بردة، عن أبيه، أتيت المدينة فلقيت عبد الله بن سلام ـ رضى الله عنه ـ فقال ألا تجيء فأطعمك سويقا وتمرا، وتدخل في بيت ثم قال إنك بأرض الربا بها فاش، إذا كان لك على رجل حق فأهدى إليك حمل تبن، أو حمل شعير أو حمل قت، فلا تأخذه، فإنه ربا. ولم يذكر النضر وأبو داود ووهب عن شعبة البيت.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، انہوں نے کہا، آو تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک (باعظمت) مکان میں داخل ہو گے (کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابربھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے، نضر ابوداؤد اور وہب نے (اپنی روایتوں میں) البیت (گھر) کا ذکر نہیں کیا۔
کتاب مناقب الانصآر صحیح بخاری
حدثنا سليمان بن حرب، حدثنا شعبة، عن سعيد بن أبي بردة، عن أبيه، أتيت المدينة فلقيت عبد الله بن سلام ـ رضى الله عنه ـ فقال ألا تجيء فأطعمك سويقا وتمرا، وتدخل في بيت ثم قال إنك بأرض الربا بها فاش، إذا كان لك على رجل حق فأهدى إليك حمل تبن، أو حمل شعير أو حمل قت، فلا تأخذه، فإنه ربا. ولم يذكر النضر وأبو داود ووهب عن شعبة البيت.
ہم سے سلیمان بن حرب نے بیان کیا، کہا ہم سے شعبہ نے، ان سے سعید بن ابی بردہ نے اور ان سے ان کے والد نے کہ میں مدینہ منورہ حاضر ہوا تو میں نے عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی، انہوں نے کہا، آو تمہیں میں ستو اور کھجور کھلاؤں گا اور تم ایک (باعظمت) مکان میں داخل ہو گے (کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی اس میں تشریف لے گئے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارا قیام ایک ایسے ملک میں ہے جہاں سودی معاملات بہت عام ہیں اگر تمہارا کسی شخص پر کوئی حق ہو اور پھر وہ تمہیں ایک تنکے یا جو کے ایک دانے یا ایک گھاس کے برابربھی ہدیہ دے تو اسے قبول نہ کرنا کیونکہ وہ بھی سود ہے، نضر ابوداؤد اور وہب نے (اپنی روایتوں میں) البیت (گھر) کا ذکر نہیں کیا۔
کتاب مناقب الانصآر صحیح بخاری