• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
5,006
ری ایکشن اسکور
9,809
پوائنٹ
773
صحيح البخاري (5/ 163) رقم 4351
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الواحد، عن عمارة بن القعقاع بن شبرمة، حدثنا عبد الرحمن بن أبي نعم، قال: سمعت أبا سعيد الخدري، يقول: بعث علي بن أبي طالب رضي الله عنه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن بذهيبة في أديم مقروظ، لم تحصل من ترابها، قال: فقسمها بين أربعة نفر، بين عيينة بن بدر، وأقرع بن حابس، وزيد الخيل، والرابع: إما علقمة وإما عامر بن الطفيل، فقال رجل من أصحابه: كنا نحن أحق بهذا من هؤلاء، قال: فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «ألا تأمنوني وأنا أمين من في السماء، يأتيني خبر السماء صباحا ومساء»، قال: فقام رجل غائر العينين، مشرف الوجنتين، ناشز الجبهة، كث اللحية، محلوق الرأس، مشمر الإزار، فقال يا رسول الله اتق الله، قال: «ويلك، أولست أحق أهل الأرض أن يتقي الله» قال: ثم ولى الرجل، قال خالد بن الوليد: يا رسول الله، ألا أضرب عنقه؟ قال: «لا، لعله أن يكون يصلي» فقال خالد: وكم من مصل يقول بلسانه ما ليس في قلبه، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إني لم أومر أن أنقب عن قلوب الناس ولا أشق بطونهم» قال: ثم نظر إليه وهو مقف، فقال: «إنه يخرج من ضئضئ هذا قوم يتلون كتاب الله رطبا، لا يجاوز حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية»، وأظنه قال: «لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل ثمود»
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نعیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ یمن سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دئیے ہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے۔ ان سے (کان کی) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ رضی اللہ عنہم تھے یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اس پر کہا کہ ان لوگوں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور اس کی جو آسمان پر ہے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا، تہبند اٹھائے ہوئے تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے ڈرئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تجھ پر، کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟ راوی نے بیان کیا پھر وہ شخص چلا گیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو اس پر خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حکم نہیں ہوا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔ راوی نے کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں ان کے دور میں ہوا تو ثمود کی قوم کی طرح ان کو بالکل قتل کر ڈالوں گا۔
 
شمولیت
مئی 23، 2013
پیغامات
213
ری ایکشن اسکور
381
پوائنٹ
90
صحيح البخاري (5/ 163) رقم 4351
حدثنا قتيبة، حدثنا عبد الواحد، عن عمارة بن القعقاع بن شبرمة، حدثنا عبد الرحمن بن أبي نعم، قال: سمعت أبا سعيد الخدري، يقول: بعث علي بن أبي طالب رضي الله عنه إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم من اليمن بذهيبة في أديم مقروظ، لم تحصل من ترابها، قال: فقسمها بين أربعة نفر، بين عيينة بن بدر، وأقرع بن حابس، وزيد الخيل، والرابع: إما علقمة وإما عامر بن الطفيل، فقال رجل من أصحابه: كنا نحن أحق بهذا من هؤلاء، قال: فبلغ ذلك النبي صلى الله عليه وسلم فقال: «ألا تأمنوني وأنا أمين من في السماء، يأتيني خبر السماء صباحا ومساء»، قال: فقام رجل غائر العينين، مشرف الوجنتين، ناشز الجبهة، كث اللحية، محلوق الرأس، مشمر الإزار، فقال يا رسول الله اتق الله، قال: «ويلك، أولست أحق أهل الأرض أن يتقي الله» قال: ثم ولى الرجل، قال خالد بن الوليد: يا رسول الله، ألا أضرب عنقه؟ قال: «لا، لعله أن يكون يصلي» فقال خالد: وكم من مصل يقول بلسانه ما ليس في قلبه، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «إني لم أومر أن أنقب عن قلوب الناس ولا أشق بطونهم» قال: ثم نظر إليه وهو مقف، فقال: «إنه يخرج من ضئضئ هذا قوم يتلون كتاب الله رطبا، لا يجاوز حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية»، وأظنه قال: «لئن أدركتهم لأقتلنهم قتل ثمود»
ہم سے قتیبہ بن سعید نے بیان کیا، کہا ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے عمارہ بن قعقاع بن شبرمہ نے بیان کیا، ان سے عبدالرحمٰن بن ابی نعیم نے بیان کیا، کہا کہ میں نے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے سنا وہ کہتے تھے کہ یمن سے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیری کے پتوں سے دباغت دئیے ہوئے چمڑے کے ایک تھیلے میں سونے کے چند ڈلے بھیجے۔ ان سے (کان کی) مٹی بھی ابھی صاف نہیں کی گئی تھی۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ سونا چار آدمیوں میں تقسیم کر دیا۔ عیینہ بن بدر، اقرع بن حابس، زید بن خیل اور چوتھے علقمہ رضی اللہ عنہم تھے یا عامر بن طفیل رضی اللہ عنہ تھے۔ آپ کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے اس پر کہا کہ ان لوگوں سے زیادہ ہم اس سونے کے مستحق تھے۔ راوی نے بیان کیا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم مجھ پر اعتبار نہیں کرتے حالانکہ اس اللہ نے مجھ پر اعتبار کیا ہے جو آسمان پر ہے اور اس کی جو آسمان پر ہے وحی میرے پاس صبح و شام آتی ہے۔ راوی نے بیان کیا کہ پھر ایک شخص جس کی آنکھیں دھنسی ہوئی تھیں، دونوں رخسار پھولے ہوئے تھے، پیشانی بھی ابھری ہوئی تھی، گھنی داڑھی اور سر منڈا ہوا، تہبند اٹھائے ہوئے تھا، کھڑا ہوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! اللہ سے ڈرئیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ افسوس تجھ پر، کیا میں اس روئے زمین پر اللہ سے ڈرنے کا سب سے زیادہ مستحق نہیں ہوں؟ راوی نے بیان کیا پھر وہ شخص چلا گیا۔ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کیوں نہ اس شخص کی گردن مار دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نہیں شاید وہ نماز پڑھتا ہو اس پر خالد رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ بہت سے نماز پڑھنے والے ایسے ہیں جو زبان سے اسلام کا دعویٰ کرتے ہیں اور ان کے دل میں وہ نہیں ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا حکم نہیں ہوا ہے کہ لوگوں کے دلوں کی کھوج لگاؤں اور نہ اس کا حکم ہوا کہ ان کے پیٹ چاک کروں۔ راوی نے کہا پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس (منافق) کی طرف دیکھا تو وہ پیٹھ پھیر کر جا رہا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کی نسل سے ایک ایسی قوم نکلے گی جو کتاب اللہ کی تلاوت بڑی خوش الحانی کے ساتھ کرے گی لیکن وہ ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ دین سے وہ لوگ اس طرح نکل چکے ہوں گے جیسے تیر جانور کے پار نکل جاتا ہے اور میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اگر میں ان کے دور میں ہوا تو ثمود کی قوم کی طرح ان کو بالکل قتل کر ڈالوں گا۔
جزاک اللہ خیر شیخ کفایت اللہ بھائی- اللہ پاک آپ ک علم میں بہت بہت بہت بہت بہت وسعتیں عطا فرمائے-امین
 
Top