ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 857
- ری ایکشن اسکور
- 228
- پوائنٹ
- 111
حضرت علیؓ نے قاتلین عثمان ؓ کے کہنے پر حضرت معاویہؓ کو معزول کیا تھا
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على سيدنا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:
حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت کے بعد امت مسلمہ ایک عظیم فتنے سے دوچار ہوئی، جس کے نتیجے میں ایسے سیاسی اور انتظامی فیصلے سامنے آئے جن کے اثرات اسلامی تاریخ پر نہایت گہرے مرتب ہوئے۔ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے اپنی شہر آفاق کتاب البداية والنهاية میں ان واقعات کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ البداية والنهاية میں سیدنا معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے حالات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
«أَنْ مُعَاوِيَةَ كَانَ يَكْتُبُ الْوَحْيَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الله على وسلم مَعَ غَيْرِهِ مِنْ كُتَّابِ الْوَحْيِ رضي الله عنه، وَلَمَّا فُتِحَتِ الشَّامُ وَلَّاهُ عُمَرُ نِيَابَةَ دِمَشْقَ بَعْدَ أَخِيهِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ وَأَقَرَّهُ عَلَى ذَلِكَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ وَزَادَهُ بِلَادًا أُخْرَى»
معاویہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے وحی لکھنے والے کاتبین وحی میں سے ایک تھے، اور آپ کے ساتھ دیگر صحابہ کرام بھی وحی لکھا کرتے تھے۔ جب شام فتح ہوا تو عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کے بعد معاویہ رضی اللہ عنہ کو دمشق کا گورنر مقرر فرمایا۔ پھر عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بھی انہیں اسی منصب پر برقرار رکھا، بلکہ مزید دوسرے علاقے بھی ان کی عملداری میں شامل کر دیے۔
یہ اس بات کی واضح دلیل ہے کہ دو خلفائے راشدین، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی دیانت، صلاحیت اور انتظامی اہلیت پر مکمل اعتماد رکھتے تھے۔ شام جیسا وسیع اور حساس صوبہ مسلسل ان کے سپرد رہنا ان کے حسن انتظام اور اعتماد خلافت کا بین ثبوت ہے۔
اسی مقام پر حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے دور کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
«وَلَمَّا وَلِيَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ الْخِلَافَةَ أَشَارَ عَلَيْهِ كَثِيرٌ مِنْ أُمَرَائِهِ، مِمَّنْ بَاشَرَ قَتْلَ عُثْمَانَ، أَنْ يَعْزِلَ مُعَاوِيَةَ عَنِ الشَّامِ، وَيُوَلِّيَ عَلَيْهَا سَهْلَ بْنَ حَنِيفٍ، فَعَزَلَهُ فَلَمْ يَنْتَظِمْ لَهُ عَزْلُهُ، وَالْتَفَّ عَلَى مُعَاوِيَةَ جَمَاعَةٌ مِنَ أَهْلِ الشَّامِ وَمَانَعَ عَلِيًّا عَنْهَا»
جب علی رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو ان کے متعدد امراء، جن میں وہ لوگ بھی شامل تھے جنہوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں عملی شرکت کی تھی، انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو مشورہ دیا کہ معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کی گورنری سے معزول کر دیا جائے اور ان کی جگہ سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ کو مقرر کر دیا جائے۔چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول کر دیا، لیکن یہ معزولی نافذ نہ ہو سکی۔ اہل شام کی ایک بڑی جماعت معاویہ رضی اللہ عنہ کے گرد جمع ہوگئی اور انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو شام پر اپنا اقتدار قائم کرنے سے روک دیا۔
پھر حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کا موقف حافظ ابن کثیر نے ان الفاظ میں نقل کیا ہے:
«وَقَدْ قَالَ: لَا أُبَايِعُهُ حَتَّى يُسَلِّمَنِي قَتَلَةَ عُثْمَانَ، فَإِنَّهُ قُتِلَ مَظْلُومًا، وَقَدْ قَالَ اللَّهُ تَعَالَى وَمَنْ قُتِلَ مَظْلُومًا فَقَدْ جَعَلْنَا لِوَلِيِّهِ سُلْطَانًا [الْإِسْرَاءِ: ٣٣].»
یعنی میں اس وقت تک بیعت نہیں کروں گا جب تک عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل میرے حوالے نہ کیے جائیں، کیونکہ وہ مظلومانہ طور پر شہید کیے گئے ہیں، جبکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: اور جو شخص مظلومانہ طور پر قتل کیا جائے تو ہم نے اس کے وارث کو (قصاص کا) اختیار دیا ہے۔(سورۃ الإسراء: ٣٣)
[البداية والنهاية - ت التركي، ج : ١١، ص : ١٤٦-١٤٧، الناشر: دار هجر للطباعة والنشر والتوزيع والإعلان]
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ نے البداية والنهاية میں تصریح کی ہے کہ جب حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ منصب خلافت پر فائز ہوئے تو ان کے بعض امراء «مِمَّنْ بَاشَرَ قَتْلَ عُثْمَانَ» جنہوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل میں عملی شرکت کی تھی، انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو شام کی ولایت سے معزول کرنے کا مشورہ دیا۔ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انہیں معزول فرمایا، لیکن «فَلَمْ يَنْتَظِمْ لَهُ عَزْلُهُ» یہ معزولی نافذ نہ ہو سکی، کیونکہ اہل شام حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ متحد رہے۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتل حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں موجود تھے جیسے مالک اشتر و محمد بن ابی بکر وغیرہ اس کی تائید دیگر مصادر سے بھی ہوتی ہے۔ مصنف ابن ابی شیبہ میں اس تعلق سے روایت موجود ہے، جسے اہل علم نے حسن قرار دیا ہے۔ اسی طرح مودودی نے بھی خلافت و ملوکیت میں اس حقیقت کو تسلیم کیا ہے کہ قاتلین عثمان حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں شامل تھے۔
چنانچہ مودودی لکھتا ہے :
"انھوں نے مالک بن حارث الاشتر اور محمد بن ابی بکر کو گورنری کے عہدے تک دے دیے، درآں حالیکہ قتل عثمان رضی اللہ عنہ میں ان دونوں صاحبوں کا جو حصہ تھا وہ سب کو معلوم ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پورے زمانہ خلافت میں ہم کو صرف یہی ایک کام ایسا نظر آتا ہے جس کو غلط کہنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔"
[خلافت و ملوکیت، ص : ١٤٦]
البتہ یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ قاتلین عثمان اور باغی گروہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے لشکر میں موجود تھے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ان کے فعل سے راضی تھے یا ان کے جرم کی تائید کرتے تھے۔
لیکن سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا محض قاتلین کے مشورہ پر سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو معزول کرنے کا فیصلہ بلکل درست ثابت نہیں ہوا۔ قاتلین عثمان ؓ، باغیوں اور خارجیوں کے سبب آپس میں جنگیں ہوئیں، خود سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی انہوں نے ہی شہید کیا۔
آخر میں جن قاتلین نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو معزول کروایا تھا سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان سب کو دنیا سے ہی معزول کر دیا۔ مالک اشتر و محمد بن ابی بکر و دیگر قاتلین سب دنیا سے معزول ہوئے۔
اور علی رضی اللہ عنہ جنہوں نے معاویہ رضی اللہ عنہ کو معزول کیا تھا انہیں کے بیٹے حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہما نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو پھر خلافت دے کر امیر المومنین بنایا اور امت سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کی خلافت پر مجتمع ہوئی، اور اسی سال کو تاریخ میں عام الجماعة کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ واقعہ امت کے اتحاد کا ایک اہم تاریخی باب ہے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم وبارك على نبينا محمد، وعلى آله وصحبه أجمعين۔
Last edited: