• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت علی رضی اللہ عنہ کہاں پیدا ہوئے تھے؟

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے بارے تو ملتا ہے کہ وہ بیت اللہ میں پیدا ہوئے ہیں اور اسی روایت میں یہ بھی ہے کہ ان سے پہلے یا ان کے بعد کوئی بھی بیت اللہ میں پیدا نہیں ہوا ہے لیکن امام حاکم کے بقول حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے بھی تاریخی روایات منسوب ہیں کہ ان کی ولادت بھی بیت اللہ میں ہوئی ہے۔ ڈاکٹر عبد اللہ الفقیہ لکھتے ہیں:
السؤال ؛ بسم الله هل صحيح أن سيدنا علياً ولد داخل الكعبة؟
الإجابة
الحمد لله والصلاة والسلام على رسول الله وعلى آله وصحبه أما بعد:
فالمولود الذي ولد بجوف الكعبة هو حكيم بن حزام رضي الله عنه، وهذا ما نقله أكثر المؤرخين، وذكر الإمام الحاكم في المستدرك أن مصعب بن عبد الله وهم حين قال عن حكيم بن حزام إنه لم يولد قبله ولا بعده في الكعبة أحد، ثم قال الحاكم: فقد تواترت الأخبار أن فاطمة بنت أسد ولدت أمير المؤمنين علي بن أبي طالب كرم الله وجهه في جوف الكعبة. انتهى.
والله أعلم.

اکثر مورخین نے حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ کہا ہے۔ امام حاکم رحمہ اللہ نے مصعب بن عبد اللہ سے ایک روایت نقل کی ہے کہ حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ کے بعد اور ان سے پہلے بیت اللہ میں کسی بھی پیدائش نہیں ہوئی ہے۔ یہ روایت نقل کرنے کے بعد امام حاکم رحمہ اللہ نے کہا ہے کہ اس بارے بھی متواتر خبریں موجود ہیں کہ حضرت فاطمہ بنت اسد نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو بیت اللہ میں جنم دیا تھا۔
بعض اہل علم نے یہ نکتہ بھی اٹھایا کہ اس طرح سے کوئی فضیلت ثابت نہیں ہوتی ہے بلکہ اس سے تو بیت اللہ نجس قرار پاتا ہے کیونکہ نفاس والی پاک نہیں ہوتی اور اس کا بیت اللہ میں ہونا درست نہیں ہے اوردوسرا نفاس کے خون سے بھی بیت اللہ کے نجس ہونے کا پہلو بھی نکلتا ہے۔
خلاصہ کلام یہی ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے کوئی مستند روایت موجود نہیں ہے کہ ان کی پیدائش بھی بیت اللہ میں ہی ہوئی ہے اور اگر ایسی کوئی روایت صحیح سند کے ساتھ موجود ہوتی تو امام حاکم رحمہ اللہ اس کا تذکرہ بھی کر دیتے۔ واللہ اعلم بالصواب
 
Top