• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی تاریخ شہادت

شمولیت
فروری 14، 2011
پیغامات
9,403
ری ایکشن اسکور
26,349
پوائنٹ
995
نہیں ۲۶ ذوالحج بتائی گئی ہے
بہت سارے لوگ کہتے ہیں کہ ۲۶ ذوالحج ہے
چہار شنبہ 27 ذی الحجہ 23ھ کو آپ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تھے۔ اور یکم محرم سنہ 24ھ کو ہفتہ کے دن فوت ہوکر مدفون ہوئے۔ (تاریخ اسلام، جلداول۔ص440)
اور یہی بات البدایۃ والنہایۃ جلدہفتم ص176 پر بھی موجود ہے۔
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
چہار شنبہ 27 ذی الحجہ 23ھ کو آپ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تھے۔ اور یکم محرم سنہ 24ھ کو ہفتہ کے دن فوت ہوکر مدفون ہوئے۔ (تاریخ اسلام، جلداول۔ص440)
اور یہی بات البدایۃ والنہایۃ جلدہفتم ص176 پر بھی موجود ہے۔
جناب گزارش ہے کہ تاریخ کی اکثر کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ محرم سے پہلے ہی ان کی وفات ہو گئی تھی چناچہ حافظ ابن حجر لکھتے ہیں :أميرالمؤمنين مشهور جم المناقب استشهد في ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين
وولي الخلافة عشر سنين ونصفا
تقریب التہذیب
حضرت عمر کے ذوالحج میں فوت ہونے یہ واضح موقف ابن حجر نے اپنایا ہے ، اور ابن اثیر رحمہ اللہ نے تو صراحت کے ساتھ لکھا ہے :طعن عمر يوم الأربعاء لأربع ليال بقين من ذي الحجة سنة ثلاث وعشرين ودفن يوم الأحد صباح هلال المحرم سنة أربع وعشرين وكانت خلافته عشر سنين وخمسة أشهر وأحدا وعشرين يوما وقال عثمان بن محمد الأخنسي هذا وهم
یعنی حضرت عمر کا یکم محرم کے دن فوت ہونے کا موقف وہم ہے ،اسی بات کو آگے بڈھاتے ہوئے وہ لکھتے ہیں :
توفي عمر لأربع ليال بقين من ذي الحجة وبويع عثمان يوم الاثنين لليلة بقيت من ذي الحجة
حضرت عمر محرم سے چار دم پہلے فوت ہو گئے تھے اورحضرت عثمان کی سوموار کو ہوئی جب ذوالحج کی ایک رات باقی تھی(اسد الغابۃ:3ج،545
اسی
 

حافظ عمران الہی

سینئر رکن
شمولیت
اکتوبر 09، 2013
پیغامات
2,101
ری ایکشن اسکور
1,451
پوائنٹ
344
چہار شنبہ 27 ذی الحجہ 23ھ کو آپ رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے تھے۔ اور یکم محرم سنہ 24ھ کو ہفتہ کے دن فوت ہوکر مدفون ہوئے۔ (تاریخ اسلام، جلداول۔ص440)
اور یہی بات البدایۃ والنہایۃ جلدہفتم ص176 پر بھی موجود ہے۔
مشہور مورخ ابن خلدون نے لکھا ہے :
ولم يزل يذكر الله إلى أن توفى ليلة الاربعاء لثلاث بقين من ذى الحجة سنة ثلاث وعشرين
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان کی وفات 32 ذواالحج کو ہوئی
 

اسحاق سلفی

فعال رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اگست 25، 2014
پیغامات
6,372
ری ایکشن اسکور
2,514
پوائنٹ
791
@اسحاق سلفی

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
اس کی تحقیق درکار ہے کہ کونسا دن ہے شہادت کا؟؟
نامور مؤرخ ،اور جرح و تعدیل کے مستند امام شمس الدین الذہبی اپنی بے مثال کتاب ’’ تذهيب تهذيب الكمال ‘‘میں لکھتے ہیں کہ:

عمر شهيد.jpg


اور سیدنا امیر المومنین عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی سیرت و فضائل پر نویں صدی ہجری ۔۔یعنی آج سے پانچ سو سال قبل لکھی گئی جامع ،مفصل کتاب
(( محض الصواب في فضائل أمير المؤمنين عمر بن الخطاب )) میں ذہبی رحمہ اللہ کے اسی قول کو سر فہرست نقل کیا ہے :

’’ قال الذهبي: "استشهد يوم الأربعاء لأربع أو ثلاث بقين من ذي الحجة، سنة ثلاث وعشرين من الهجرة، وهو ابن ثلاث وستين سنة على الصحيح ‘‘
 

عدیل سلفی

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 21، 2014
پیغامات
1,710
ری ایکشن اسکور
423
پوائنٹ
197
جزاک اللہ خیرا اسحاق سلفی بھائی

اللہ سبحان و تعالی آپکے علم میں اضافہ فرمائے

آمین
 
Top