• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے فضائل کا بیان

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
سب سے پہلے اپنے جواب پر غور کیجئے۔۔۔
ایکطرف آپ خود اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ کتاب اللہ کے بعد۔۔۔۔۔۔۔ الخ
دوسری طرف اپنے ہی دعوٰی سے خود دستبردار ہورہے ہیں۔۔۔
میرے پچھلے جوابات کو آپ ایک بار پھر سے پڑھیں۔۔۔

اب یہاں پر سمجھنے والی بات کیا ہے۔۔۔
ہم میں اور آپ میں جو فرق ہے کہ بالکل واضح ہے۔۔۔
آپ ہم پر اعتراض کرتے ہیں ہم اس کا رد پیش کرتے ہیں۔۔۔
آپ پر اگر آپ کی کتابوں یا آپ کے معصومیں کے فرمامین میں سے کچھ پیش کردیا جائے۔۔۔
تو جان چھڑانے کو کہتے ہیں کہ مجھے چیک کرنا ہوگا۔۔۔
کہ لکھا ہوا ہے بھی کہ نہیں۔۔۔
میں بذات خود نہیں چاہ رہا کے تناؤ کی سی کیفیت پیدا ہو۔۔۔
ورنہ صحیح ثمانیہ کی کتب میں سے بہت سی چیزیں ایسی ہیں۔۔۔
جو منظرعام پر آئیں تو پر اعتراضات کرکے الجھاؤ میں پھنسانے والے۔۔۔
منہ چھپائے پھریں گے۔۔۔ لہذا جیسا کہ میں نے پہلے کہا تھا۔۔۔
کے حدیث کو فضائل تک رکھیں۔۔۔ زیادہ آگے ناجائیں۔۔۔
اور یہ حدیث ذہن نشین کرلیں کے غزہ بدر میں شامل ہونے والوں کے۔۔۔
اگلے اور پچھلے تمام گناہ معاف۔۔۔ لہذا آگے دیکھیں۔۔۔
یہ دعویٰ آپ ہی حضرات کا ہے کہ کتاب اللہ کے بعد ۔۔۔۔۔۔الخ
لیکن جب ایسی کتاب سے گواہی پیش کرنے کی بات کی جاتی ہے تو پہلوتہی کرتے ہوئے منہ چھپایا جاتا ہے
بڑا ہی زبردست انداز ہے رد پیش کرنے کا کہ پوسٹ ہی ڈیلیٹ کردی جاتی ہے
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
کیا یہ صحیح بخاری کی گواہی پر اعتراض ہے ؟؟
یہاں تو پوسٹ ہی ڈیلیٹ کردی گئی ۔ مسکراہٹ
آپ نے اپنی پوسٹ میں فقط ایک جملہ لکھا تھا۔ اور اس میں بھی ہماری بار بار کی تنبیہ کے باوجود اہل بیت کے لئے انبیاء والے القابات استعمال کئے ہیں۔ آپ کی پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کی وجہ وہی ہے۔ اب آپ کا اعتراض۔ وہ یہ ہے کہ:
معاف کیجئے گا امام بخاری نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ فاطمہ (رضی اللہ عنہا) کسی سے اپنے وصال تک ناراض رہیں وہ کون ہے ؟؟؟
جی بالکل۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کتب اہل تشیع کے مطابق فاطمہ رضی اللہ عنہا کس سے ناراض رہیں۔

alal sharai title.jpg


01.jpg


02.JPG




03.JPG
 

اسحاق

مشہور رکن
شمولیت
جون 25، 2013
پیغامات
894
ری ایکشن اسکور
2,131
پوائنٹ
196
وقال النبي صلى الله عليه وسلم ‏"‏ فاطمة سيدة نساء أهل الجنة ‏"‏‏.‏
اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان کہ فاطمہ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں۔
حدیث نمبر: 3767

حدثنا أبو الوليد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ حدثنا ابن عيينة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عمرو بن دينار،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن ابن أبي مليكة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن المسور بن مخرمة ـ رضى الله عنهما ـ أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ فاطمة بضعة مني،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فمن أغضبها أغضبني ‏"‏‏.
ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا ہم سے ابن عیینہ نے بیان کیا، ان سے عمرو بن دینار نے، ان سے ابن ابی ملیکہ نے اور ان سے حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ایک ٹکڑا ہے جس نے اسے ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔
کتاب فضائل اصحاب النبی صحیح بخاری
جزاک الله خیرا
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,347
پوائنٹ
437
حدثنا ابو اليمان اخبرنا شعيب عن الزهري قال:‏‏‏‏ حدثني علي بن حسين ان المسور بن مخرمة قال:‏‏‏‏ إن عليا خطب بنت ابي جهل فسمعت بذلك فاطمة فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت:‏‏‏‏ يزعم قومك انك لا تغضب لبناتك ، وهذا علي ناكح بنت ابي جهل فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمعته حين تشهد يقول:‏‏‏‏ " اما بعد انكحت ابا العاص بن الربيع فحدثني وصدقني وإن فاطمة بضعة مني وإني اكره ان يسوءها والله لا تجتمع بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبنت عدو الله عند رجل واحد " ، فترك علي الخطبة ، وزاد محمد بن عمرو بن حلحلة عن ابن شهاب عن علي بن الحسين عن مسور سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وذكر صهرا له من بني عبد شمس فاثنى عليه في مصاهرته إياه فاحسن قال:‏‏‏‏ " حدثني فصدقني ووعدني فوفى لي
علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کو (جو مسلمان تھیں) پیغام نکاح دیا، اس کی اطلاع جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی خاطر (جب انہیں کوئی تکلیف دے) کسی پر غصہ نہیں آتا۔ اب دیکھئیے یہ علی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ پڑھتے سنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امابعد: میں نے ابوالعاص بن ربیع سے (زینب رضی اللہ عنہا کی، آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی) شادی کرائی تو انہوں نے جو بات بھی کہی اس میں وہ سچے اترے اور بلاشبہ فاطمہ بھی میرے (جسم کا)ایک ٹکڑا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی اسے تکلیف دے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔ محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ابن شہاب سے یہ اضافہ کیا ہے، انہوں نے علی بن حسین سے اور انہوں نے مسور رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے بنی عبدشمس کے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا اور حقوق دامادی کی ادائیگی کی تعریف فرمائی۔ پھر فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات بھی کہی سچی کہی اور جو وعدہ بھی کیا پورا کر دکھایا۔ (صحیح بخاری كتاب فضائل الصحابة حدیث نمبر: ٣٨٢٩)۔۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
آپ نے اپنی پوسٹ میں فقط ایک جملہ لکھا تھا۔ اور اس میں بھی ہماری بار بار کی تنبیہ کے باوجود اہل بیت کے لئے انبیاء والے القابات استعمال کئے ہیں۔ آپ کی پوسٹ ڈیلیٹ کرنے کی وجہ وہی ہے۔ اب آپ کا اعتراض۔ وہ یہ ہے کہ:

جی بالکل۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کتب اہل تشیع کے مطابق فاطمہ رضی اللہ عنہا کس سے ناراض رہیں۔

228 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں

229 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں

230 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں



231 اٹیچمنٹ کو ملاحظہ فرمائیں
میرا سوال صحیح بخاری سے متعلق تھا بہت تلاش کے بعد وہ مجھے مل گئی ہے اس لئے میں ہی وہ روایت صحیح بخاری سے پیش کردیتا ہوں

صحیح بخاری
کتاب فرض الخمس
باب: خمس کے فرض ہونے کا بیان
حدیث نمبر : 3093​
فقال لها أبو بكر إن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال ‏"‏ لا نورث ما تركنا صدقة ‏"‏‏.‏ فغضبت فاطمة بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم فهجرت أبا بكر،‏‏‏‏ فلم تزل مهاجرته حتى توفيت وعاشت بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم ستة أشهر‏.‏ قالت وكانت فاطمة تسأل أبا بكر نصيبها مما ترك رسول الله صلى الله عليه وسلم من خيبر وفدك وصدقته بالمدينة،‏‏‏‏ فأبى أبو بكر عليها ذلك،‏‏‏‏ وقال لست تاركا شيئا كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعمل به إلا عملت به،‏‏‏‏ فإني أخشى إن تركت شيئا من أمره أن أزيغ‏.‏ فأما صدقته بالمدينة فدفعها عمر إلى علي وعباس،‏‏‏‏ فأما خيبر وفدك فأمسكها عمر وقال هما صدقة رسول الله صلى الله عليه وسلم كانتا لحقوقه التي تعروه ونوائبه،‏‏‏‏ وأمرهما إلى من ولي الأمر‏.‏ قال فهما على ذلك إلى اليوم‏.‏
ترجمہ از داؤد راز
ابو بکرصدیق رضی اللہ عنہ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے (اپنی حیات میں) فرمایا تھا کہ ہمارا (گروہ انبیاء علیہم السلام کا) ورثہ تقسیم نہیں ہوتا ' ہمارا ترکہ صدقہ ہے۔ فاطمہ رضی اللہ عنہا یہ سن کر غصہ ہو گئیں اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے ترک ملاقات کی اور وفات تک ان سے نہ ملیں۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد چھ مہینے زندہ رہی تھیں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خیبر اور فدک اور مدینہ کے صدقے کی وراثت کا مطالبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے کیا تھا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سے انکار تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی بھی ایسے عمل کو نہیں چھوڑ سکتا جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی زندگی میں کرتے رہے تھے۔ (عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ) پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مدینہ کا جو صدقہ تھا وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت علی اور حضرت عباس رضی اللہ عنہما کو (اپنے عہد خلافت میں) دے دیا۔ البتہ خیبر اور فدک کی جائیداد کو عمر رضی اللہ عنہ نے روک رکھا اور فرمایا کہ یہ دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صدقہ ہیں اور ان حقوق کے لئے جو وقتی طور پر پیش آتے یا وقتی حادثات کے لئے رکھی تھیں۔ یہ جائیداد اس شخص کے اختیار میں رہیں گی جو خلیفہ وقت ہو۔ زہری نے کہا ' چنانچہ ان دونوں جائدادوں کا انتظام آج تک (بذریعہ حکومت) اسی طرح ہوتا چلا آتا ہے۔​
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
حدثنا ابو اليمان اخبرنا شعيب عن الزهري قال:‏‏‏‏ حدثني علي بن حسين ان المسور بن مخرمة قال:‏‏‏‏ إن عليا خطب بنت ابي جهل فسمعت بذلك فاطمة فاتت رسول الله صلى الله عليه وسلم فقالت:‏‏‏‏ يزعم قومك انك لا تغضب لبناتك ، وهذا علي ناكح بنت ابي جهل فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فسمعته حين تشهد يقول:‏‏‏‏ " اما بعد انكحت ابا العاص بن الربيع فحدثني وصدقني وإن فاطمة بضعة مني وإني اكره ان يسوءها والله لا تجتمع بنت رسول الله صلى الله عليه وسلم وبنت عدو الله عند رجل واحد " ، فترك علي الخطبة ، وزاد محمد بن عمرو بن حلحلة عن ابن شهاب عن علي بن الحسين عن مسور سمعت النبي صلى الله عليه وسلم وذكر صهرا له من بني عبد شمس فاثنى عليه في مصاهرته إياه فاحسن قال:‏‏‏‏ " حدثني فصدقني ووعدني فوفى لي
علی رضی اللہ عنہ نے ابوجہل کی لڑکی کو (جو مسلمان تھیں) پیغام نکاح دیا، اس کی اطلاع جب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو ہوئی تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور عرض کیا کہ آپ کی قوم کا خیال ہے کہ آپ کو اپنی بیٹیوں کی خاطر (جب انہیں کوئی تکلیف دے) کسی پر غصہ نہیں آتا۔ اب دیکھئیے یہ علی ابوجہل کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتے ہیں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو خطاب فرمایا: میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ پڑھتے سنا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امابعد: میں نے ابوالعاص بن ربیع سے (زینب رضی اللہ عنہا کی، آپ کی سب سے بڑی صاحبزادی) شادی کرائی تو انہوں نے جو بات بھی کہی اس میں وہ سچے اترے اور بلاشبہ فاطمہ بھی میرے (جسم کا)ایک ٹکڑا ہے اور مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی بھی اسے تکلیف دے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ کی بیٹی اور اللہ تعالیٰ کے ایک دشمن کی بیٹی ایک شخص کے پاس جمع نہیں ہو سکتیں۔ چنانچہ علی رضی اللہ عنہ نے اس شادی کا ارادہ ترک کر دیا۔ محمد بن عمرو بن حلحلہ نے ابن شہاب سے یہ اضافہ کیا ہے، انہوں نے علی بن حسین سے اور انہوں نے مسور رضی اللہ عنہ سے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ نے بنی عبدشمس کے اپنے ایک داماد کا ذکر کیا اور حقوق دامادی کی ادائیگی کی تعریف فرمائی۔ پھر فرمایا کہ انہوں نے مجھ سے جو بات بھی کہی سچی کہی اور جو وعدہ بھی کیا پورا کر دکھایا۔ (صحیح بخاری كتاب فضائل الصحابة حدیث نمبر: ٣٨٢٩)۔۔
فائدہ

1۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ شریعت کے قاعدے اہل بیت اطہار کے لئے الگ ہیں کیونکہ عام لوگ ایک ہی وقت میں چار شادیاں کرسکتے ہیں لیکن بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سوکن نہیں آسکتی
2۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اللہ کے دشمن کی بیٹی کا درجہ بنت رسول اللہ کے مقابلے پر کچھ بھی نہیں
3۔ مولا علی علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان "‏ فاطمة بضعة مني،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فمن أغضبها أغضبني ‏"‏‏ پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے دشمن کی بیٹی سے شادی کا ارادہ ترک کردیا بلکہ بنت رسول کی موجودگی میں کسی بھی عورت سے بھی شادی نہیں کی

اب سوال پھر وہی ہے دیگر لوگوں نے اس فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فراموش کرکے بنت رسول کو کیوں تا وقت وصال ناراض رکھا ۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,347
پوائنٹ
437
فائدہ

1۔اس روایت سے معلوم ہوا کہ شریعت کے قاعدے اہل بیت اطہار کے لئے الگ ہیں کیونکہ عام لوگ ایک ہی وقت میں چار شادیاں کرسکتے ہیں لیکن بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر سوکن نہیں آسکتی
حضرت جعفر صادق اور حضرت امام محمد باقر بن زین العابدین کے واضح احکامات اور فرمودات ہیں کہ " جس عورت نے ایک بار متعہ کیا وہ فضیلت میں اس متعہ کے عوض امام حسین تک پہنچ جائے گی اور دوبارہ متعہ کرنے سے اسکا مرتبہ امام حسن تک , تین دفعہ متعہ کرنے سے وہ امام علی تک اور چار مرتبہ متعہ سے رسول کے مرتبہ تک وہ متعہ یافتہ عورت پہنچ جائے گی ۔....... فرمایا صادق نے کہ" مستحب ہے مرد کے لیے کہ وہ تزویج متعہ کرے اور نہیں درست مرد کے لیے تم سے کہ وہ دنیا سے نکلے بغیر متعہ کئے ہرچند کہ یک بارگی ہی کیوں نہ ہو "(اصلاح الرسوم ص ۱۶۳) تحفۃ العوام میں حدیث ہے کہ عذاب نہ کیا جائے گا اس مرد وعورت پر جو متعہ کرے اور افضل بات ہے کہ عفیفہ عورت متعہ کرے ۔* تاریخی حقائق کی رو سے حضرت عبد اللہ بن حسن اور اس کے بعد مصعب بن زبیر سے طلاق ملنے کے بعد سکینہ بنت الحسین نے کئی نکاح دائمی ومنقطع (متعہ) کیے (تاریخ تواریخ والآغانی جلد ۱۴)
(شواہد الصادقین , مصنف حکیم سید احمد الموسوی ص ۹۲ بحوالہ نور نعمانیہ ۔ نور طہارت وصلواۃ ص ۲۳)

اور فرمایا صادق نے کہ نہیں ہے کوئی مرد جو متعہ کرے پھر غسل کرے, مگر یہ خدا خلق کرے گا ہر قطرہء غسل سے ستر لاکھ ملائکہ کو جو متعہ کرنے والے کے لیے تاقیامت استغفار کریں گے اور لعنت بھیجا کریں گے تا قیامت ان لوگوں پر جو اس متعہ سے اجتناب کرتے ہیں اور اس سے دور رہتے ہیں (اصلاح الرسوم ص ۱۶۳)

2۔ اسلام قبول کرنے کے بعد بھی اللہ کے دشمن کی بیٹی کا درجہ بنت رسول اللہ کے مقابلے پر کچھ بھی نہیں۔

یہ بات سمجھ نہیں آئی۔۔۔ وضاحت پلیز۔۔۔
3۔ مولا علی علیہ السلام نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فرمان "‏ فاطمة بضعة مني،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ فمن أغضبها أغضبني ‏"‏‏ پر عمل کرتے ہوئے اللہ کے دشمن کی بیٹی سے شادی کا ارادہ ترک کردیا بلکہ بنت رسول کی موجودگی میں کسی بھی عورت سے بھی شادی نہیں کی

مگر وفات کے رسول علیہ السلام کے بعد علی رضی اللہ عنہ نے اور کتنے نکاح کئے؟؟؟۔۔۔
اب سوال پھر وہی ہے دیگر لوگوں نے اس فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فراموش کرکے بنت رسول کو کیوں تا وقت وصال ناراض رکھا۔۔۔

اسلاف میں سے کسی نے یہ سوال اُٹھایا؟؟؟۔۔۔ جنت کے سرداروں میں سے کسی نے یہ اعتراض اٹھایا۔۔۔ شیرخدا نے یہ سوال اٹھایا؟؟؟۔۔۔ جب انہوں نے نہیں اٹھایا تو آج کا رافضی شیعہ کیوں اٹھا رہا ہے؟؟؟۔۔۔ کیا اس کے پاس علم اور فہم اسلاف سے زیادہ ہے۔۔۔ پہلے نقطے کا جواب پڑھ لیں۔۔۔
 

شاکر

تکنیکی ناظم
رکن انتظامیہ
شمولیت
جنوری 08، 2011
پیغامات
6,595
ری ایکشن اسکور
21,402
پوائنٹ
891
اب سوال پھر وہی ہے دیگر لوگوں نے اس فرمان مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فراموش کرکے بنت رسول کو کیوں تا وقت وصال ناراض رکھا ۔
واقعی اہم سوال ہے۔ معلوم نہیں حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کیوں بنت رسول کو ناراض کیا؟
حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ تو چلیں پرائے تھے۔ علی رضی اللہ عنہ تو اپنے تھے۔ پھر بھی بنت رسول کو ناراض کر کے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو ناراض کر گئے (نعوذباللہ)۔
آپ کے اصول پر حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی وعید کی زد میں آتے ہیں۔ ان کے بارے میں کچھ ارشاد فرمائیں۔
 

حرب بن شداد

سینئر رکن
شمولیت
مئی 13، 2012
پیغامات
2,150
ری ایکشن اسکور
6,347
پوائنٹ
437
آپ کے اصول پر حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی وعید کی زد میں آتے ہیں۔
ان کی زد میں تو نعوذباللہ، اللہ رب العزت بھی آئے ہوئے ہیں بدا کا عقیدہ کے اللہ بھول جاتا ہے۔۔۔
یہ ان ظالموں کی کُتب میں موجود ہے۔۔۔
آگے سے کہتے ہیں ہم مسلمان ہیں۔۔۔
اور صحیح بخاری پر اعتراض پیش کرتے ہیں۔۔۔
اتنی حقیقت جاننے کے بعد بھی اگر اللہ نے ہدایت سے محروم رکھ چھوڑا ہے۔۔۔
تو اللہ کی پکڑ ہم سے پہلے کی قوموں کی شکل میں مثال کے طور پر قرآن میں موجود ہے۔۔۔
 

بہرام

مشہور رکن
شمولیت
اگست 09، 2011
پیغامات
1,173
ری ایکشن اسکور
439
پوائنٹ
132
حضرت جعفر صادق اور حضرت امام محمد باقر بن زین العابدین کے واضح احکامات اور فرمودات ہیں کہ " جس عورت نے ایک بار متعہ کیا وہ فضیلت میں اس متعہ کے عوض امام حسین تک پہنچ جائے گی اور دوبارہ متعہ کرنے سے اسکا مرتبہ امام حسن تک , تین دفعہ متعہ کرنے سے وہ امام علی تک اور چار مرتبہ متعہ سے رسول کے مرتبہ تک وہ متعہ یافتہ عورت پہنچ جائے گی ۔....... فرمایا صادق نے کہ" مستحب ہے مرد کے لیے کہ وہ تزویج متعہ کرے اور نہیں درست مرد کے لیے تم سے کہ وہ دنیا سے نکلے بغیر متعہ کئے ہرچند کہ یک بارگی ہی کیوں نہ ہو "(اصلاح الرسوم ص ۱۶۳) تحفۃ العوام میں حدیث ہے کہ عذاب نہ کیا جائے گا اس مرد وعورت پر جو متعہ کرے اور افضل بات ہے کہ عفیفہ عورت متعہ کرے ۔* تاریخی حقائق کی رو سے حضرت عبد اللہ بن حسن اور اس کے بعد مصعب بن زبیر سے طلاق ملنے کے بعد سکینہ بنت الحسین نے کئی نکاح دائمی ومنقطع (متعہ) کیے (تاریخ تواریخ والآغانی جلد ۱۴)
(شواہد الصادقین , مصنف حکیم سید احمد الموسوی ص ۹۲ بحوالہ نور نعمانیہ ۔ نور طہارت وصلواۃ ص ۲۳)

اور فرمایا صادق نے کہ نہیں ہے کوئی مرد جو متعہ کرے پھر غسل کرے, مگر یہ خدا خلق کرے گا ہر قطرہء غسل سے ستر لاکھ ملائکہ کو جو متعہ کرنے والے کے لیے تاقیامت استغفار کریں گے اور لعنت بھیجا کریں گے تا قیامت ان لوگوں پر جو اس متعہ سے اجتناب کرتے ہیں اور اس سے دور رہتے ہیں (اصلاح الرسوم ص ۱۶۳)
غیر متعلق ہے اس لئے ایگنور
 
Top