• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حقِ تشریع اور موجودہ نظاموں کا شرعی حکم شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ کے بیان کی روشنی میں

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
830
ری ایکشن اسکور
226
پوائنٹ
111
حقِ تشریع اور موجودہ نظاموں کا شرعی حکم شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ کے بیان کی روشنی میں

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

آج کے دور میں پارلیمنٹوں، اسمبلیوں اور جمہوری ایوانوں کو حق تشریع دے کر طواغیت اپنی خواہشات، اکثریت کے ووٹ، اور مغربی افکار کی بنیاد پر حلال و حرام مقرر کرتے ہیں، پھر اسے آئین، قانون اور جمہوری اختیار کا نام دے دیا جاتا ہے، حالانکہ حقیقت میں یہ اللہ تعالیٰ کے حق حاکمیت میں شریک بننے کی کوشش ہے۔

اسی حقیقت کو شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ نے صراحت کے ساتھ بیان کرتے ہوئے فرمایا:

«فجعل التحليل والتحريم - وهو ما يعرف بلغة العصر بالتشريع - جعله عبادة لغير الله تعالى، فالمشرعون من دون الله تعالى فيما يسمى بالبرلمان أو يسمى بمجلس الأمة أو مجلس الشعب هؤلاء كفار خارجون من الإسلام، وإن زعموا أنهم من المسلمين، لماذا؟ لأنهم نازعوا الله عز وجل في أخص خصائصه عز وجل وهو التشريع، فشرعوا من دون الله.»

اللہ تعالیٰ نے حلال و حرام قرار دینے کو جسے آج کی زبان میں قانون سازی یا تشریع کہا جاتا ہے غیر اللہ کی عبادت قرار دیا ہے۔ لہٰذا وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ قانون سازی کرتے ہیں، جنہیں پارلیمنٹ، مجلس امت یا مجلس شعب کہا جاتا ہے، یہ سب اسلام سے خارج کفار ہیں، اگرچہ وہ اپنے آپ کو مسلمان ہی کیوں نہ کہتے ہوں۔ کیوں؟ اس لیے کہ انہوں نے اللہ عزوجل کی خصوصیات میں سے ایک خاصیت یعنی تشریع (قانون سازی) میں اللہ تعالیٰ کا مقابلہ کیا، چنانچہ انہوں نے اللہ کے علاوہ قانون سازی کی۔

[شرح كتاب التوحيد للشيخ تركي آل بن علي، ص : ١١٩]

7321.jpg

7319.jpg

یعنی قانون سازی کا حق اللہ کے سوا کسی اور کے لیے ماننا اور ان وضعی قوانین کو تسلیم کرنا غیر اللہ کی عبادت ہے۔ طواغیت عصر جو اللہ کی شریعت کو پس پشت ڈال کر وضعی قوانین نافذ کرتے ہیں؛ کبھی وہ سود کو قانونی تحفظ دیتے ہیں، کبھی زنا و بے حیائی کو شخصی آزادی کہتے ہیں، کبھی اللہ کے حدود و احکام کو ظلم و بربریت قرار دیتے ہیں، اور کبھی قرآن کے واضح احکام کو پارلیمنٹ کی اکثریت کے تابع بنا دیتے ہیں ان کا حکم شرعی شیخ ترکی بن مبارک البنعلی رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ :

«فالمشرعون من دون الله تعالى فيما يسمى بالبرلمان أو يسمى بمجلس الأمة أو مجلس الشعب هؤلاء كفار خارجون من الإسلام» یعنی جو لوگ اللہ کے علاوہ قانون سازی کرتے ہیں، خواہ وہ پارلیمنٹ میں ہوں یا مجلس عوام میں، وہ سبھی دائرہ اسلام سے خارج کفار ہیں، کیونکہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے خاص ترین حق یعنی تشریع میں شریک بننے کی کوشش کی۔

آج بہت سے لوگ جمہوریت کی مرضی کو وحی الٰہی پر مقدم کرتے ہیں۔ اگر پارلیمنٹ سود کو جائز قرار دے دے تو وہ قانون بن جاتا ہے، اگر وہ فحاشی کو تحفظ دے دے تو وہ حق بن جاتا ہے، اور اگر وہ اللہ کے نازل کردہ احکام کو معطل کر دے تو اسے ترقی کہا جاتا ہے۔

یہ دراصل جدید دور کی فرعونیت و نمرودیت ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے طاغوت اپنے آپ کو رب کہتے تھے، جبکہ آج کے طواغیت آئین اور جمہوریت کے پردے میں اللہ کے حق حاکمیت پر قبضہ کرتے ہیں۔

افسوس یہ ہے کہ بعض درباری مدخلی مرجئہ ان باطل نظاموں کو اسلامی رنگ دینے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِحکم صرف اللہ ہی کا ہے۔ اور فرمایا: ﴿وَلَا يُشْرِكُ فِي حُكْمِهِ أَحَدًاوہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

مومن کا عقیدہ یہ ہوتا ہے کہ شریعت کامل ہے، اللہ کا حکم سب سے اعلیٰ ہے اور انسانی عقل و خواہش کبھی بھی وحی الٰہی کا بدل نہیں بن سکتی۔ لہٰذا ہر اس نظام، قانون اور نظریے سے براءت ضروری ہے جو اللہ کے نازل کردہ حکم کے مقابلے میں کھڑا ہو یا انسانوں کو حق تشریع عطا کرے۔

اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو توحید پر ثابت قدم رکھے، انہیں طواغیت عصر کے فتنوں سے محفوظ فرمائے، اور امت مسلمہ کو دوبارہ کتاب و سنت کی حقیقی حاکمیت نصیب فرمائے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top