• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حنفیوں کا خود ساختہ اصول

کفایت اللہ

عام رکن
شمولیت
مارچ 14، 2011
پیغامات
4,999
ری ایکشن اسکور
9,803
پوائنٹ
773
اب جب ایک امام جس کے علم و فضل پر دنیا گواہ ہو وہ اس حدیث پر عمل پیرا ہو تو کیا یہ شبہہ پیدا نہیں ہوتا؟ (اصول سے ہٹ کر)
امام کے اس حدیث پرعمل پیرا ہونے کی کیا دلیل ہے؟
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
752
پوائنٹ
290
امام کے اس حدیث پرعمل پیرا ہونے کی کیا دلیل ہے؟

اس کے مطابق عمل اور اپنا مسلک اس کے مطابق کرنا۔ کوئی لازمی نہیں ہے کہ امام نے اسی حدیث کو سنا ہو۔ لیکن اس کا شبہ تو موجود ہے نا۔
میرا مطلب اس حدیث سے نہیں ہے جسے امام نے خود روایت کیا ہو۔ بلکہ وہ تمام احادیث جو اس دور میں تھیں یا کم از کم اس امام کے بلاد میں سنی سنائی جاتی تھیں۔ کیا اس بات کا قوی امکان نہیں ہے کہ اس امام نے بھی انہیں سنا ہوگا جبکہ ہم جانتے ہیں کہ ائمہ ان پر غور کیا کرتے تھے۔ پھر ہمیں ایک حدیث ایسی ملتی ہے جس کے مطابق امام کا عمل بھی ہے تو یہ امکان زیادہ قوی ہو جاتا ہے۔
ہاں اصول سخت ہوا کرتے ہیں اس لیے ان میں اس قسم کی باتوں کی گنجائش نہیں ہوتی۔ البتہ جہاں کسی بھی امام پر اعتراض ہو کہ اس نے اپنے مسلک کی بنیاد فلاں ضعیف حدیث پر رکھی ہے وہاں ہم یہ بات دفاع میں کہہ سکتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے اس بارے میں شیخ صاحب؟
 

عبدہ

سینئر رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
نومبر 01، 2013
پیغامات
2,035
ری ایکشن اسکور
1,230
پوائنٹ
425
جب ایک امام جس کے علم و فضل پر دنیا گواہ ہو وہ اس حدیث پر عمل پیرا ہو تو کیا یہ شبہہ پیدا نہیں ہوتا؟ (اصول سے ہٹ کر)
محترم شیخ صاحب ایک بات پوچھنی ہے کہ میں نے آج کے دور میں بھی پرانے اہل حدیث کو دیکھا ہے کہ وہ بہت سی ضعیف احادیث کو صحیح کہ رہے ہوتے ہیں اور ہمارے آج کے محدث مثلا مبشر ربانی حفظہ اللہ، زبیر علی زئی رحمہ اللہ وغیرہ کی جدید تحقیق کے مطابق ہمارے پرانے اسلاف کی اکثر احادیث ضعیف قرار دے دی گئی ہیں اللہ آپ کو جزائے خیر دے امین
محترم شیخ صاحب مجھے بھی یہی اشکال ہے کہ جب آج کے ہمارے محدثین جن احادیث کو ضعیف کہ رہے ہیں انکو ہمارے ہی پرانے علماء نے جب ضعیف کہا ہوا تھا تو ہم اپنے پرانے علماء کو غلط نہیں کہتے تو کیا ہمیں انصاف کرتے ہوئے اشماریہ بھائی کی بات کی بھی تصدیق نہیں کرنی چاہئے کہ ہو سکتا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے جس حدیث کو صحیح سمجھا ہو وہ بعد میں ضعیف ثابت ہوئی ہو اللہ آپ کو جزائے خیر دے امین
 

اشماریہ

سینئر رکن
شمولیت
دسمبر 15، 2013
پیغامات
2,682
ری ایکشن اسکور
752
پوائنٹ
290
محترم شیخ صاحب مجھے بھی یہی اشکال ہے کہ جب آج کے ہمارے محدثین جن احادیث کو ضعیف کہ رہے ہیں انکو ہمارے ہی پرانے علماء نے جب ضعیف کہا ہوا تھا تو ہم اپنے پرانے علماء کو غلط نہیں کہتے تو کیا ہمیں انصاف کرتے ہوئے اشماریہ بھائی کی بات کی بھی تصدیق نہیں کرنی چاہئے کہ ہو سکتا ہے کہ امام ابوحنیفہ نے جس حدیث کو صحیح سمجھا ہو وہ بعد میں ضعیف ثابت ہوئی ہو اللہ آپ کو جزائے خیر دے امین
جزاک اللہ عبدہ بھائی لیکن میری بات میں تھوڑا سا فرق ہے۔
کیا یہ ممکن نہیں کہ امام ابو حنیفہ یا امام مدینہ رحمہما اللہ کے دور میں ایک حدیث صحیح رواۃ سے تھی لیکن بعد کے دور میں اس کی آگے کی سند میں کوئی ضعیف راوی آگیا اور ہم اس کی وجہ سے اس حدیث کو رد کر رہے ہیں؟ اب انہوں نے جو عمل کیا وہ اس کے صحیح ہونے کی بنیاد پر کیا اور ہم اس کو رد کر کے انہیں متہم بھی کر رہے ہیں کہ انہوں نے بلاحدیث یا ضعیف حدیث کی وجہ سے عمل کیا ہے۔
 
Top