ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 893
- ری ایکشن اسکور
- 231
- پوائنٹ
- 111
حوثی سرغنہ حسین بدر الدین الحوثی کی زبانی ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی اہانت اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی گستاخی
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام علیٰ رسولہ الأمین، وعلیٰ آلہ وصحبہ أجمعین۔ أما بعد:
آج بعض لوگ حوثی گروہ کے سیاسی نعروں، مزاحمت اور سامراج دشمنی کے جھوٹے اور فریب کار پردے میں اس کے کافرانہ، گستاخانہ اعتقادی منہج پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن کسی فرقے یا جماعت کا حقیقی تعارف اس کے سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ اس کے اصولی لٹریچر، عقائد اور اکابر کے صریح اقوال سے ہوتا ہے۔
حوثی گروہ کے قائد و سرغنہ حسین بدر الدین الحوثی نے اپنی دروس میں ابو بکر صدیق، عمر بن خطاب اور ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہم پر صریح سبّ، طعن اور توہین کی ہے۔ لہٰذا اہل سنت کا ایسے گروہ کے تعلق سے خاموش رہنا اور اسے محض سیاسی اختلاف قرار دینا دین کے ساتھ کھلی خیانت اور صحابہ کی حرمت پر حملے کی خاموش حمایت کے مترادف ہے۔
حسین بدر الدین الحوثی کہتا ہے:
«من الذي مسخ صورة هذا العالم؟ إنهما الشيخان أبو بكر وعمر وعمر بالذات، عمر بالذات هو مهندس هذا العمل، فالعالم الذي نحن فيه الآن، وجه العالم الآن هو وجه أبي بكر وعمر فعلا، ليس عالم محمد رسول الله صلى الله عليه وعلى آله وسلم، ليس عالم الإسلام، ليس عالم علي عليه السلام.»
اس عالم کی صورت کس نے مسخ کی؟ وہ دونوں شیخین ابو بکر اور عمر ہیں، اور بالخصوص عمر ہی، عمر ہی اس کام کا معمار ہے۔ پس آج ہم جس عالم میں رہ رہے ہیں، آج دنیا کا جو چہرہ ہے، حقیقتا وہ ابو بکر اور عمر کا چہرہ ہے؛ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عالم نہیں، یہ اسلام کا عالم نہیں، اور یہ علی علیہ السلام کا عالم بھی نہیں۔
[دروس من هدي القرآن الكريم، سورة المائدة - الدرس (٤)، ص: ٤]
ذرا غور کیجیے کہ الزام کس پر ہے اور زبان کس قدر بے باک، گستاخ، طعن آمیز اور توہین آمیز ہے! جس ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں اپنے قرب و اعتماد سے نوازا، جسے امت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اپنا خلیفہ تسلیم کیا، اور جس کی فضیلت نصوص صحیحہ میں ثابت ہے، اسے اسلامی عالم کی صورت بگاڑنے والا قرار دیا جا رہا ہے۔
اور جس عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بے شک اگلی امتوں میں محدثون (جنھیں الہام حاصل تھا) ہوتے تھے اور اگر اس امت میں ان میں سے کوئی ہوتا تو عمر بن الخطاب ہوتے۔ اور فرمایا اے عمر! بے شک شیطان تجھ سے ڈرتا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا «إنَّ اللَّهَ جعلَ الحقَّ على لسانِ عمرَ وقلبِهِ» بے شک اللہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے دل و زبان پر حق جاری کر رکھا ہے۔ ایسے عظیم صحابی اور خلیفہ راشد کو یہ مرتد حوثی مسخ شدہ عالم کا معمار قرار دے رہا ہے!
اور اس سے بھی آگے بڑھ کر ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ مرتد حسین بدر الدین الحوثی کہتا ہے:
«ليس هناك ما يمكن أن يكون في الصورة مبرراً ليأتي هؤلاء الذين يتولون عائشة، ويرفعونها فوق سيدة نساء العالمين، فوق فاطمة الزهراء، وفوق خديجة، يأتون بمبرر حقيقي لعائشة في خروجها تقاتل الإمام علياً ... وتفسد دولة الإسلام وتدعو الأمة إلى حربه، ما هو المبرر؟ لا شيء، بغير حق.»
اس صورت حال میں کوئی ایسی چیز موجود نہیں جو ان لوگوں کے لیے کوئی جواز فراہم کرسکے جو عائشہ کی حمایت کرتے ہیں، اور انہیں تمام جہان کی عورتوں کی سردار فاطمہ زہراء اور خدیجہ سے بھی بلند مقام دیتے ہیں۔ وہ عائشہ کے اس خروج کے لیے کوئی حقیقی جواز پیش نہیں کرسکتے جس میں وہ امام علی سے لڑنے کے لیے نکلیں، اسلام کی ریاست کو بگاڑیں اور امت کو ان کے خلاف جنگ کی دعوت دیں۔ کیا جواز ہے؟ کوئی نہیں، وہ ناحق تھیں۔
[دروس من هدي القرآن الكريم، سورة آل عمران - الدرس (٤)، ص: ١٤]
یہاں حوثی فکر کا اصل زہر اور زیادہ نمایاں ہوجاتا ہے۔ یہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا «يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ أَحَبُّ النَّاسِ إِلَيْكَ؟» لوگوں میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب کون ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:«عَائِشَةُ» عائشہ۔
جس خاتون کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی محبوب ترین شخصیتوں میں شمار کیا، اس کے بارے میں ایسی زبان استعمال کرنا اور انہیں "اسلامی ریاست کو بگاڑنے والی" قرار دینا انتہائی سنگین جرم اور دین کے ساتھ دشمنی کا اظہار ہے۔ ایسے لوگوں کا شرعی حکم امام دار الہجرہ مالک بن انس رحمہ اللہ کے حوالے سے حافظ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ نے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے:
قَالَ أَبُو مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ: نا أَحْمَدُ بْنُ إسْمَاعِيلَ بْنِ دُلَيْمٍ الْحَضْرَمِيُّ نا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْخَلَّاصِ نا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ شَعْبَانَ نا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْهَاشِمِيُّ ثَنْي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْبَاغَنْدِيُّ نا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ قَالَ: سَمِعْت مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ يَقُولُ: مَنْ سَبَّ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ جُلِدَ، وَمَنْ سَبَّ عَائِشَةَ قُتِلَ، قِيلَ لَهُ: لِمَ يُقْتَلُ فِي عَائِشَةَ؟ قَالَ: لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ فِي عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا {يَعِظُكُمُ اللَّهُ أَنْ تَعُودُوا لِمِثْلِهِ أَبَدًا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ} [النور: ١٧].
امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو شخص ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کو سبّ کرے، اسے کوڑے مارے جائیں۔ اور جو عائشہ رضی اللہ عنہا کو سبّ کرے، اسے قتل کیا جائے۔ پوچھا گیا: عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں ایسا شخص کیوں قتل کیا جائے گا؟ فرمایا: اس لیے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا کہ اگر تم مومن ہو تو ایسی حرکت کبھی نہ کرنا۔
[المحلّى بالآثار، ج : ١٢، ص : ٤٤٠]
یعنی جو شخص عائشہ رضی اللہ عنہا پر الزام یا طعن کرے، وہ درحقیقت قرآن کی آیات کی مخالفت کرتا ہے۔ حافظ ابن حزم اندلسی رحمہ اللہ نے فرماتے ہیں «وَهِيَ رِدَّةٌ تَامَّةٌ، وَتَكْذِيبٌ لِلَّهِ تَعَالَى فِي قَطْعِهِ بِبَرَاءَتِهَا» یہ مکمل ارتداد ہے، اور اللہ تعالیٰ کی اس قطعی براءت کی تکذیب ہے جو اس نے ان کی براءت کے بارے میں فرمائی۔ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا پر سبّ کرنے والے کو امام اہل السنۃ مالک بن انس رحمہ اللہ نے واجب القتل قرار دیا ہے۔ پس حوثی سرغنہ حسین بدر الدین الحوثی مرتد ہے اور جلد اور قتل دونوں سزاؤں کی مستحق ہے۔
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم قرآن و سنت کی روشنی میں محترم ہیں۔ امہات المؤمنین رضی اللہ عنہن اہل ایمان کی مائیں ہیں۔ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما خلفائے راشدین اور جلیل القدر صحابہ ہیں۔ اور کسی جماعت، تحریک، انقلاب، مزاحمت یا سیاسی نعرے کی خاطر صحابہ کرام اور امہات المؤمنین کی تنقیص، توہین یا گستاخی کو قبول نہیں کیا جاسکتا۔
اے اللہ! ہمارے دلوں میں اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کی سچی محبت پیدا فرما، ہمیں غلو و جفا دونوں سے محفوظ فرما، کتاب و سنت پر ثابت قدم رکھ، اور ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی اتباع اور باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب کی توفیق عطا فرما۔ آمین
وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمين، وصلى اللہ وسلم وبارک على نبينا محمد، وعلى آلہ وصحبہ أجمعين۔