• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حکمرانوں کی اندھی اطاعت اور اہل توحید پر خارجیت کی تہمت: مدخلیوں کے باطل منہج کا علمی محاسبہ

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
868
ری ایکشن اسکور
229
پوائنٹ
111
حکمرانوں کی اندھی اطاعت اور اہل توحید پر خارجیت کی تہمت: مدخلیوں کے باطل منہج کا علمی محاسبہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، وعلیٰ آلہ وصحبہ ومن اتبع ہداه إلیٰ یوم الدین۔ اما بعد!

یہ بات کسی صاحب علم سے مخفی نہیں کہ اہل باطل جب اہل حق کا علمی مقابلہ کرنے سے عاجز آتے ہیں تو دلیل کا جواب دلیل سے دینے کے بجائے القاب، تہمتوں اور الزامات کا سہارا لیتے ہیں۔ آج مدخلیوں کا سب سے محبوب ہتھکنڈا یہی ہے کہ جو شخص ان کے بنائے ہوئے "طاعت حکام" کے غیر متوازن تصور کو قبول نہ کرے، جو طاغوتی حکمرانوں کی ہر پالیسی پر خاموشی اختیار نہ کرے، جو شرک و باطل اور شریعت مخالف امور پر کتاب و سنت کی روشنی میں کلام کرے، اور جو حکمرانوں کو بھی اللہ کی شریعت کا پابند سمجھے، اس پر فورا "خارجی" کا لیبل چسپاں کر دیا جائے۔ یہ محض اہل توحید کو بدنام کرنے کا ایک نہایت گھٹیا حربہ ہے۔

شیخ ابو سلمان حسان حسین آدم الصومالی حفظہ اللہ تعالیٰ نے اسی خطرناک رویے پر نہایت واضح اور اصولی کلام کیا ہے۔ شیخ حسان حسین الصومالی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: «من أراد أن يتهم طائفةً بأنهم خوارج يجب عليه ثلاثة أمور» یعنی جو شخص کسی جماعت کو خوارج قرار دینا چاہتا ہے، اس پر تین امور لازم ہیں۔

ان تمام مدخلیوں کو چاہئے کہ پہلے خوارج کو پہچانیں، پھر کسی کو خارجی کہیں! شیخ ابو سلمان حسان حسین الصومالی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: «معرفة أصول الخوارج التي لا يصبح المرءُ خارجياً إلا بها وهي ثلاثة أصول» یعنی خوارج کے ان اصولوں کو جاننا ضروری ہے جن کے بغیر آدمی خارجی قرار نہیں پاتا۔

شیخ ابو سلمان الصومالی حفظہ اللہ خارجیت کے بنیادی امتیازات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «أن الخوارج يرون الخروج على الحاكم المسلم المقيم لشرع الله، ونحن لا نقول بهذا» یعنی خوارج اس مسلمان حاکم کے خلاف خروج کے قائل ہیں جو شریعت قائم کرتا ہے، جبکہ ہم اس کے قائل نہیں۔

پھر فرمایا: «أن الخوارج يكفرون بالعموم، ونحن لا نفعل ذلك» خوارج تکفیر بالعموم کرتے ہیں، جبکہ ہم ایسا نہیں کرتے۔ اور: «أن الخوارج يكفرون بالكبائر، ونحن لا نفعل ذلك» خوارج کبیرہ گناہوں کی وجہ سے تکفیر کرتے ہیں، جبکہ ہم ایسا نہیں کرتے۔

اب ان مدخلیوں سے پوچھا جائے جو ہر مخالف کو خارجی کہتے ہیں کہ ان تینوں میں سے کون سا اصل تم نے ثابت کیا؟ کیا تم نے کسی جماعت کے بارے میں یہ ثابت کیا کہ وہ ان مسلم حاکم کے خلاف خروج کو اپنا عقیدہ سمجھتی ہے جنہوں نے اللہ کی نازل کردہ شریعت کو قائم کیا ہوا ہے؟ کیا تم نے ثابت کیا کہ وہ تکفیر بالعموم کرتی ہے؟ کیا تم نے ثابت کیا کہ وہ کبیرہ گناہ کے مرتکب کو کافر سمجھتی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر تمہارا ’’خارجی‘‘ کہنا صرف تہمت ہے۔

افسوس کہ آج مدخلیوں نے خارجی کی تعریف ہی بدل دی ہے۔ ان کے نزدیک خارجی وہ ہے جو ان کے طاغوتی حکمرانوں کی پالیسی پر تنقید کرے، ان کے مظالم پر کلام کرے، ان کے کسی حکومتی اقدام کو غلط کہے، شریعت کے خلاف قانون پر اعتراض کرے، یا حکمرانوں کی اندھی اطاعت کے بجائے کتاب و سنت کی بات کرے! گویا ان کے ہاں خارجیت کی تعریف حکمران سے اختلاف کی مقدار سے ہوتی ہے، خارجیت کا تعلق عقائد و اصول سے ختم ہوگیا اور اس کا مدار حکمران کی خوشنودی پر رہ گیا ہے۔

یہاں ان مدخلیوں سے چند سوال ہیں جو ہر ناقد کو خارجی کہنے کے عادی ہو چکے ہیں: کیا تمہارے ان طاغوتی حکمران کی ہر پالیسی شرعی ہے؟ اگر نہیں، تو پھر اس پر شرعی اعتراض خارجیت کیسے ہوگیا؟ کیا تمہارے یہ طاغوتی حکمران معصوم ہے؟ کیا ان کے لیے قرآن و سنت سے بالا کوئی درجہ ہے؟ اگر نہیں، تو پھر ان کی اطاعت کو حق و باطل کا میزان کیوں بناتے ہو؟

آج مدخلیوں کا حال یہ ہوگیا ہے کہ خارجی ان کے نزدیک کوئی اعتقادی و منہجی نسبت نہیں رہی، بلکہ ہر مخالف کو خاموش کرانے کی سیاسی لاٹھی بن گئی ہے۔ جو مدخلیوں کے موقف سے اختلاف کرے وہ خارجی!، جو مدخلیوں کے پسندیدہ حکمرانوں کی پالیسی پر سوال کرے وہ خارجی! جو ان کے وضعی قانون پر شرعی اعتراض کرے وہ خارجی! جو حاکمیت میں اللہ تعالٰی کی توحید کے باب میں دو ٹوک گفتگو کرے وہ خارجی! یہ مدخلیوں کی حکمران پرستی والی خطرناک ذہنیت ہے۔

کیا کسی مسلمان کو خارجی بنانے کے لیے اب خوارج کے اصول ثابت کرنا ضروری نہیں، بلکہ صرف یہ کافی ہے کہ اس نے مدخلیوں کے ان طاغوتی حکمران کی پالیسی سے اختلاف کرلیا؟ اگر یہی خارجیت ہے تو پھر خارجی فرقے کی تاریخی و اعتقادی حقیقت کا کیا ہوگا؟

شیخ ابو سلمان الصومالی حفظہ اللہ دوسرا اصول بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: «أن يتحقق من نسبة الأفعال والأقوال المنسوبة إلى هذه الطائفة المتهمة» یعنی جس جماعت پر الزام لگایا جا رہا ہے، اس کی طرف منسوب کیے جانے والے اقوال و افعال کی نسبت کی تحقیق کی جائے۔

اور اس کے فورا بعد قرآن کی آیت پیش کرتے ہیں: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنْ جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا أَنْ تُصِيبُوا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلَىٰ مَا فَعَلْتُمْ نَادِمِينَ﴾ یعنی اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی سے کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔

لیکن آج مدخلیوں کا طریقہ دیکھیں کسی واٹس ایپ پیغام میں ایک جملہ پڑھا، کسی مخالف کی پوسٹ میں کوئی دعویٰ دیکھا، کسی حکمرانوں کے اندھ بھکت مولوی نے کہا کہ فلاں خارجی ہے، پھر بغیر تحقیق کے وہی بات آگے پھیلا دی۔ نہ اصل عبارت دیکھی، نہ سیاق دیکھا، نہ نسبت کی تحقیق کی، نہ صاحب قول سے پوچھا، نہ اصولی تطبیق کی!
اور پھر بڑے اطمینان سے کہتے ہیں: یہ خارجی ہے!

شیخ ابو سلمان الصومالی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: «أن يتأكد من تطابق أصول الطائفة أو أكثرها مع أصول الخوارج» یعنی یہ یقین کرنا ضروری ہے کہ اس جماعت کے اصول، یا ان میں سے اکثر اصول، خوارج کے اصولوں کے ساتھ مطابقت رکھتے ہیں۔

یہاں ان مدخلیوں کے لیے ایک ایسا اصول ہے جسے اگر وہ مان لیں تو ان کے ’’خارجی خارجی‘‘ کے نعرے کا بڑا حصہ ختم ہوجائے۔ کیونکہ کسی خارجی عقیدے کے ساتھ کسی جزوی بات میں اتفاق ہوجانا لازما خارجی ہونے کو مستلزم نہیں۔

علمی تحقیق میں دیکھا جاتا ہے یہ جماعت کن اصولوں پر قائم ہے؟ اس کا منہج کیا ہے؟ اس کے امتیازی اصول کیا ہیں؟ کیا وہ واقعی خوارج کے معروف اصولوں کو اختیار کرتی ہے؟
یہ نہیں دیکھا جاتا کہ اس نے میری پسندیدہ حکومت پر تنقید کیوں کی؟ یا اس نے فلاں حکمران کی تعریف کیوں نہیں کی؟ یہ کوئی شرعی میزان نہیں۔

کسی جماعت کی کسی بات کو خوارج کی کسی بات سے ملتا جلتا دیکھ لینا کافی نہیں۔ اصول دیکھو! منہج دیکھو! عقیدہ دیکھو! مجموعی موقف دیکھو! محض ایک مشترک جزوی بات سے پورے شخص یا جماعت کو خارجی بنا دینا قیاس فاسد ہے۔

ورنہ خوارج نے بھی تو قرآن پڑھا! کیا قرآن پڑھنے والا ہر شخص خارجی ہوگیا؟ خوارج نے بھی نماز پڑھی! کیا نمازی ہر شخص خارجی ہوگیا؟ خوارج نے بھی توحید کے بعض الفاظ استعمال کیے! کیا توحید کا ہر داعی خارجی ہوگیا؟ ہرگز نہیں۔ لہٰذا مشترک جزوی وصف اور مخصوص فرقہ وارانہ اصول میں فرق کرنا ہی علمی تحقیق ہے۔

لیکن جب کوئی شخص شرک کے خلاف کلام کرتا ہے، توحید کی دعوت دیتا ہے، کتاب و سنت کی طرف بلاتا ہے، اللہ کے حق تشریع و عبادت کو واضح کرتا ہے، اور باطل عقائد پر رد کرتا ہے تو مداخلہ فورا اسے خارجی کہنا شروع کر دیتے ہیں۔

یہ دراصل دعوت توحید سے بدگمانی پیدا کرنے کی سازش ہے۔ شیخ ابو سلمان الصومالی حفظہ اللہ نے خود اس الزام کی تاریخ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا: «ولا ننسى أن الإمامين ابن تيمية ومحمد بن عبدالوهاب قد أُتُهِما بهذه التهمة» یعنی یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ امام ابن تیمیہ اور امام محمد بن عبدالوهاب رحمہما اللہ دونوں پر بھی یہی الزام لگایا گیا تھا۔

پس کسی اہل توحید کو خارجی کہہ دینا کوئی نئی چیز نہیں۔ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو بھی مختلف اہل باطل نے بدعتی، مجسم، خارجی وغیرہ جیسے الزامات سے نوازا۔ امام محمد بن عبدالوهاب رحمہ اللہ کی دعوت توحید کو بھی مخالفین نے خوارج ہونے کی تہمتوں کے ذریعے بدنام کرنے کی کوشش کی۔ آج مداخلہ بھی اہل توحید سلفیوں کے خلاف یہی ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔

آخر میں شیخ ابو سلمان الصومالی حفظہ اللہ فرماتے ہیں: «تنبيه مهم: على الباحث أن يتحلى بالإنصاف والتجرد للحق» یعنی محقق کو چاہیے کہ انصاف اختیار کرے اور حق کے لیے ہر قسم کے تعصب سے پاک ہو۔ یہ تنبیہ ہر اس مدخلی کے لیے آئینہ ہے جو اپنے مخالف کو پہلے خارجی قرار دیتا ہے اور بعد میں اس کے خلاف دلیل تلاش کرتا ہے۔

اہل علم کا طریقہ یہ ہے کہ پہلے دلیل دیکھی جاتی ہے، پھر حکم لگایا جاتا ہے۔ متعصب مدخلیوں کا طریقہ اس کے برعکس ہے پہلے حکم لگاؤ، پھر دلیل تلاش کرو! اور اگر دلیل نہ ملے تو الزام کو بار بار دہراتے رہو، یہاں تک کہ عوام اسے حقیقت سمجھنے لگیں۔ یہی مدخلیوں کا پروپیگنڈا ہے۔

ہم ان مدخلیوں سے دو ٹوک سوال کرتے ہیں کہ تم جسے خارجی کہتے ہو، اس کے بارے میں کیا تم نے اس کے خارجی اصول ثابت کیے؟ کیا اس کے پورے منہج کو دیکھا؟ کیا خوارج کے مخصوص اصولوں کے ساتھ تطبیق کی؟ کیا اس کے خلاف تمہارے پاس واضح نصوص اور معتبر اقوال ہیں؟

اگر جواب نہیں ہے تو اللہ سے ڈرو! مسلمانوں پر ایسے القاب چسپاں کرنا کوئی معمولی معاملہ نہیں۔ اور خاص طور پر اہل توحید پر خارجیت کی تہمت محض اس لیے لگانا کہ وہ تمہارے پسندیدہ طاغوتی حکمرانوں کی اندھ بھکتی نہیں کرتے، بلکہ ان کے کفر پر خاموش رہنے سے انکار کرتے ہی؛ انتہائی خطرناک روش ہے۔ مدخلیوں کا اہل توحید سلفیوں پر پر خارجی کا لیبل لگا دینا جہالت اور منہجی افلاس ہے۔

شیخ ابو سلمان حسان حسین آدم الصومالی حفظہ اللہ کا یہ اصول ہمیشہ سامنے رہنا چاہیے «على الباحث أن يتحلى بالإنصاف والتجرد للحق» یعنی محقق کو انصاف اور حق کے لیے ہر تعصب سے پاک ہونا چاہیے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں حق کو حق سمجھ کر اس کی پیروی، باطل کو باطل سمجھ کر اس سے اجتناب، انصاف کے ساتھ حق بات کہنے، اور اہل توحید پر بے بنیاد تہمتوں سے محفوظ رہنے کی توفیق عطا فرمائے، اور ہمیں تعصب، ارجاء، مدخلیت اور طواغیت کی اندھی تقدیس سے محفوظ رکھے۔ آمین۔

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين، وصلى الله وسلم على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين۔
 
Top