• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

حکمران آدھا گھنٹہ ٹیلی ویژن اسکرین پر آکر زنا کرے تب بھی اطاعت؟ عبدالعزیز الریس کے باطل موقف پر شیخ خالد الحایک کی شدید نکیر

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
834
ری ایکشن اسکور
227
پوائنٹ
111
حکمران آدھا گھنٹہ ٹیلی ویژن اسکرین پر آکر زنا کرے تب بھی اطاعت؟ عبدالعزیز الریس کے باطل موقف پر شیخ خالد الحایک کی شدید نکیر

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

الحمد لله رب العالمين، والصلاة والسلام على نبينا محمد وعلى آله وصحبه أجمعين، أما بعد:

عبدالعزیز الریس اور اس کے ہم فکر مداخلہ نے اطاعت حکام کے نام پر امت کے اندر ایسی ذہنیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے جس میں اللہ کی حدود پامال ہوتی رہیں، علانیہ فسق و فجور پھیلتا رہے، ظلم و فساد عام ہوتا رہے، مگر کسی کو زبان کھولنے کی اجازت نہ ہو۔ گویا ان کے نزدیک سب سے بڑا جرم زنا، ظلم اور معصیت نہیں بلکہ ان کے حکمران پر نکیر ہے۔

گویا مدخلیوں کے نزدیک یہ حکمران ہر قسم کے محاسبے، تنقید اور شرعی احتساب سے بالاتر ہو چکے ہیں۔ عبد العزیز الریس کہتا ہے کہ حاکم وقت خواہ وہ بادشاہ ہو یا کسی ریاست کا صدر اس کی اطاعت واجب ہے، چاہے «نصف ساعة يومياً يخرج خلالها على شاشة التلفاز ليزني ويشرب الخمر على الهواء مباشرة» ہر روز آدھے گھنٹے تک وہ براہ راست ٹیلی ویژن اسکرین پر آ کر زنا کر رہا ہو اور شراب پی رہا ہو۔

عبدالعزیز الریس کے اس موقف پر محدث العصر شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ نے سخت نکیر کرتے ہوئے فرمایا:

«عبدالعزيز الريّس من رؤوس "الجهمية" أخزاهم الله...الزنادقة الجدد.. انبطاح وتهوين للفجور في قلوب الخلق!! لكن السؤال: كيف تناصحه إذا كنت أمامه وهو يزني..؟!! إلا الحماقة أعيت من يداويها !!!»

عبدالعزیز الریس "جہمیہ" کے سرغنوں میں سے ہے، اللہ انہیں رسوا کرے۔ یہ نئے دور کے زنادقہ ہیں؛ جو لوگوں کے دلوں میں بے حیائی اور فجور کو معمولی اور ہلکا بنا کر پیش کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر تم کسی شخص کے سامنے موجود ہو اور وہ زنا کر رہا ہو، تو پھر تم اسے نصیحت کیسے کرو گے؟!! واقعی، حماقت ایک ایسی بیماری ہے کہ اس کا علاج کرنے والے بھی عاجز آ جاتے ہیں!

[قناة الدكتور خالد الحايك العامة]

الریس کے اسی باطل منہج کا رد کرتے ہوئے شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ نے عبدالعزیز الریس کو "من رؤوس الجهمية" قرار دیا اور اس کے موقف کو "تهوين للفجور في قلوب الخلق" یعنی لوگوں کے دلوں میں بدکاری کی قباحت کو کم کرنے کا ذریعہ بتایا۔ پھر فقہائے امت کے اقوال سے استدلال کرتے ہوئے واضح کیا کہ جب زنا کے ساتھ معروف شخص کی امامت صلاۃ محل نکیر ہے تو پوری امت کی قیادت کے معاملے میں اس سے بھی زیادہ حساسیت ہونی چاہیے۔

علامہ أبي القاسم بن أحمد البلوي التونسي المعروف بالبرزني رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

«مسألة: إمام معروف بالزنا إن اشتهر بذلك، فالصلاة خلفه باطلة، ولا تنبغي الصلاة خلفه ولا السكوت عنه بل يرفعون خبره للقاضي . قلت: ويكون الخبر بذلك لا تعريض ولا تصريح، لأنه قذف. وتقدم أنه يتخرج على إمامة الفاسق بجوارحه، وتقدم الخلاف فيها.»

مسئلہ: اگر کوئی امام زنا کے ساتھ معروف ہو اور اس کی یہ برائی مشہور ہو چکی ہو، تو اس کے پیچھے پڑھی جانے والی نماز باطل ہے۔ ایسے شخص کو امام بنا کر نماز نہیں پڑھنی چاہیے، نہ ہی اس کے معاملے میں خاموشی اختیار کی جائے، بلکہ اس کی خبر قاضی تک پہنچائی جائے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کی خبر ایسے نہ ہو جس میں نہ صراحت ہو اور نہ اشارہ، کیونکہ بصورت دیگر یہ قذف (تہمت) بن سکتا ہے۔ اور اس سے پہلے فاسق عملی کی امامت کے مسئلے اور اس میں موجود اختلاف کا ذکر گزر چکا ہے۔

[فتاوى البرزلي جامع مسائل الأحكام، ج : ١، ص : ٤٦٩]

7853.jpg

7851.jpg

علامہ أبو القاسم البرزلي رحمہ اللہ کی اس عبارت پر شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ نے تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا:

«إن كانت إمامة من عرف بالزنا في الصلاة باطلة!! فكيف بإمامة الأمة!!» یعنی اگر ایک ایسے شخص کی امامت صلاۃ باطل ہے جس کی زنا کی بات مشہور ہو چکی ہو!! تو پھر پوری امت کی امامت کیسے درست ہو سکتی ہے!!

اصل مصیبت یہ ہے کہ مداخلہ اطاعت حکام کے نام پر ایسی ذہنیت پیدا کر رہے ہیں جس میں ان کے حکمران کی ہر قسم کی کھلی بدکاری، ظلم، اور انحراف سب پس پشت چلے جاتے ہیں، جبکہ ساری غیرت صرف اس بات پر صرف ہوتی ہے کہ کوئی اس پر تنقید نہ کرے۔ اس طرز فکر کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام میں حق و باطل کی تمیز کمزور ہو جاتی ہے اور حکمران پرستی دین داری کی جگہ لے لیتی ہے۔

اسی پس منظر میں شیخ خالد الحایک حفظہ اللہ نے افسوس کے ساتھ کہا: «يا أمة ضحكت من جهلها الأمم.. أمة يتصدرها ويتكلم باسمها الأغبياء الجهال» اے وہ امت جس کی جہالت پر دوسری قومیں ہنستی ہیں! یہ وہ امت بن گئی ہے جس کے نمائندے اور ترجمان جاہل اور کم عقل لوگ بن بیٹھے ہیں، اور وہی اس کے نام پر گفتگو کر رہے ہیں!

حقیقت یہ ہے کہ مدخلیوں نے امت کو توحید، غیرت ایمانی، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر سے دور کرکے حکمران پرستی، شخصیت پرستی اور اندھی اطاعت کی طرف دھکیلنے میں بڑا کردار ادا کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے باطل اصولوں اور فاسد تاویلات کا علمی رد اور ان کے فکری انحرافات کی نشاندہی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں کتاب و سنت کے صحیح فہم، اعتدال، عدل اور حق گوئی کی توفیق عطا فرمائے، اور ہر قسم کے غلو، افراط و تفریط اور اندھی اطاعت و شخصیت پرستی سے محفوظ رکھے۔ آمین

وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين۔
 
Last edited:
Top