ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 921
- ری ایکشن اسکور
- 232
- پوائنٹ
- 111
حکومتی افواج کی حمایت کرنے اور وعظ و نصیحت کے وقت اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق اڑانے والوں کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
سوال: السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اللہ کے کلمے کی سربلندی کے لیے کوشش کرنے اور اس کی سربلندی کی خاطر لڑنے والے تمام لوگوں کے نام! اللہ کی قسم! میں اللہ کی خاطر آپ سب سے محبت کرتا ہوں۔ میں اپنے ایک بھائی کے ساتھ کام کرتا ہوں، اور میرا یہ بھائی بھی ان لوگوں میں شامل ہے جن کا ذکر میں آگے کرنے والا ہوں۔
میرا سوال یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہیں جو لبنان میں موحد مسلمانوں کو قتل کرنے اور گرفتار کرنے کے سلسلے میں فوج کی حمایت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد امن قائم کرنا، پرامن زندگی کو یقینی بنانا اور انتہاپسندی کا راستہ روکنا ہے۔ ان کی مراد انتہاپسندی سے سلفی جماعت ہے۔
جب ہم ان لوگوں کے سامنے شرعی دلائل، احادیث نبویہ اور قرآن کریم کی آیات پیش کرتے ہیں تو وہ ان دلائل اور دین کا مذاق اڑاتے ہیں۔ کیا ایسے لوگ کافر ہو جاتے ہیں؟ کیا ان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، ان کی صحبت اختیار کرنا یا انہیں سلام کرنا جائز ہے، خواہ وہ ہمارے قریبی رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں؟
میری گزارش ہے کہ شیخ ابو محمد المقدسی یا نگرانی کرنے والی کمیٹی جلد از جلد میرے سوال کا جواب دے، کیونکہ میں اپنے اسی بھائی کے ساتھ کام کرتا ہوں جس کے متعلق میں نے بتایا ہے کہ وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہے۔ ایسی صورت میں میرے لیے کیا کرنا ضروری ہے؟
جواب: وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! اللہ تعالیٰ آپ سے بھی محبت فرمائے، جس کی خاطر آپ نے ہم سے محبت کی، اور زمین میں آپ کے لیے قبولیت پیدا فرمائے۔
بسم اللہ، تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں، اور درود و سلام ہو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر۔ حمد و صلاۃ کے بعد!
اے میرے سوال کرنے والے بھائی! جان لو کہ موالات سے مراد محبت، دوستی، پیروی اور زبان و ہتھیار کے ذریعے حمایت و مدد کرنا ہے۔ یہ موالات مسلمانوں کے لیے ہونی چاہیے، اور اسے کفار کے لیے صرف کرنا دین سے ارتداد ہے۔
یہ بات معلوم ہے کہ مسلمانوں کے ممالک میں اقتدار پر قابض طاغوتی حکومتیں، نیز ان کی افواج، سب کفر و ارتداد کے گروہوں میں شامل ہیں۔ ان کی موالات درست نہیں، بلکہ ان سے براءت اختیار کرنا واجب ہے۔
لہٰذا لبنانی فوج سے موالات رکھنا، اس کی حمایت کرنا اور موحدین کو قتل کرنے اور گرفتار کرنے میں اس کی مدد کرنا صریح ارتداد ہے۔ امن قائم کرنے، پرامن زندگی کو یقینی بنانے اور انتہاپسندی کا راستہ روکنے جیسے جو بھی جواز وہ پیش کرتے ہیں، ان میں سے کوئی چیز بھی کسی صورت اس عمل کو جائز نہیں بنا سکتی۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: {بَشِّرِ الْمُنَافِقِينَ بِأَنَّ لَهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا الَّذِينَ يَتَّخِذُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ أَيَبْتَغُونَ عِنْدَهُمُ الْعِزَّةَ فَإِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّهِ جَمِيعًا}
’’منافقوں کو خوش خبری دے دیجیے کہ ان کے لیے دردناک عذاب ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دوست اور حمایتی بناتے ہیں۔ کیا وہ ان کے پاس عزت تلاش کرتے ہیں؟ پس بے شک تمام عزت اللہ ہی کے لیے ہے۔‘‘ [النساء: 138-139]
رہا اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مذاق اڑانا، تو یہ بھی کفر بواح ہے، اور ہمارے پاس اس کے متعلق اللہ تعالیٰ کی طرف سے واضح دلیل موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: {وَلَئِنْ سَأَلْتَهُمْ لَيَقُولُنَّ إِنَّمَا كُنَّا نَخُوضُ وَنَلْعَبُ قُلْ أَبِاللَّهِ وَآيَاتِهِ وَرَسُولِهِ كُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُونَ لَا تَعْتَذِرُوا قَدْ كَفَرْتُمْ بَعْدَ إِيمَانِكُمْ}
’’اور اگر آپ ان سے پوچھیں تو وہ ضرور کہیں گے کہ ہم تو محض باتیں کر رہے تھے اور دل لگی کر رہے تھے۔ کہہ دیجیے: کیا تم اللہ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑا رہے تھے؟ بہانے مت بناؤ، تم اپنے ایمان کے بعد کفر کر چکے ہو۔‘‘ [التوبہ: 65-66]
یہ آیات اس شخص کے کفر پر صریح نص ہیں جو اللہ تعالیٰ، اس کی آیات اور اس کے رسول کا مذاق اڑاتا ہے، خواہ اس کا مذاق اڑانا محض باتوں، ہنسی مذاق اور دل لگی کے طور پر ہو، نہ کہ کسی عقیدے کی بنیاد پر یا کسی چیز کو حلال سمجھتے ہوئے۔
لہٰذا جس شخص کے سامنے کسی مسئلے کے متعلق اللہ تعالیٰ کی آیات اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پیش کی جائیں، پھر وہ ان دونوں کا، یا دین کی کسی بات یا اس کے احکام میں سے کسی حکم کا مذاق اڑائے، تو وہ کافر اور مرتد ہے۔
جس شخص کی حالت یہ ہو، اس کے ساتھ نہ مجلس جمائی جائے، نہ اس کی صحبت اختیار کی جائے، نہ اسے سلام کیا جائے اور نہ اس کے ساتھ میل جول رکھا جائے، سوائے اس مقصد کے کہ اسے دعوت دین دی جائے۔ مختصر یہ کہ ایسے شخص سے براءت کا اظہار کرنا واجب ہے، خواہ وہ قریبی رشتہ داروں میں سے ہی کیوں نہ ہو۔
البتہ اگر مذکورہ لوگوں میں سے کسی کے ساتھ کام کرنا کسی جائز کام کی نوعیت کا ہو، مثلا تجارت، اور اس کام میں کفار کی حمایت یا ان کی مدد شامل نہ ہو، تو ایسا کام حرام نہیں، بشرطیکہ اس کے ساتھ کام کرنے سے اس کے ساتھ بے تکلفی، ہنسی مذاق، دلی میلان اور اس کی طرف جھکاؤ پیدا نہ ہو، یا اس طرح کے دوسرے افعال صادر نہ ہوں جو انس و الفت، میل جول اور طویل صحبت کے نتیجے میں پیدا ہوتے ہیں۔
تاہم بہتر یہی ہے کہ ایسے شخص کے ساتھ کام کرنے سے اجتناب کیا جائے، خصوصا جب اس کے علاوہ کسی دوسرے کام کا موقع بھی دستیاب ہو۔
لیکن اے ہمارے بھائی! ہم آپ کو یہ نصیحت کرتے ہیں کہ پہلے اچھی طرح تحقیق کر لیں کہ جن لوگوں کا آپ نے ذکر کیا ہے، ان کا مذاق واقعی اللہ تعالیٰ کی آیات اور احادیث نبویہ ہی کا تھا، نہ کہ آپ کے اپنے فہم کا نتیجہ؛ خصوصا اس صورت میں جب آپ کی اپنی سمجھی ہوئی بات درست اور راجح نہ ہو۔
اگر ان کی طرف سے یہ بات بحث و تکرار اور باہمی مناظرے کے دوران صادر ہوئی ہو، تو ایسی صورت میں محض جھگڑے اور نفسانی خواہشات کی بنا پر ان کی تکفیر کرنے میں جلد بازی نہیں کرنی چاہیے، بلکہ ان کے اقوال و افعال کی اچھی طرح جانچ پڑتال کرنی چاہیے اور جب ان کی باتوں میں مختلف احتمالات کی گنجائش ہو تو ان کی حقیقت کی پوری تحقیق کرنی چاہیے۔
اور توفیق اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہے۔
جواب دینے والے : شیخ ابو الولید المقدسی
رکن اللجنہ الشرعيہ منبر التوحيد والجهاد
تاریخ اشاعت: 9 اکتوبر 2009ء
رکن اللجنہ الشرعيہ منبر التوحيد والجهاد
تاریخ اشاعت: 9 اکتوبر 2009ء