- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
مسواک نرم کر دی، اور آپ ﷺ نے نہایت اچھی طرح مسواک کی۔ آپ ﷺ کے سامنے کٹورے میں پانی تھا۔ آپ ﷺ پانی میں دونوں ہاتھ ڈال کر چہرہ پونچھتے جاتے تھے۔ اور فرماتے جاتے تھے۔ لا الہ إلا اللہ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ موت کے لیے سختیاں ہیں۔ (صحیح بخاری ۲/۶۴۰)
مسواک سے فارغ ہوتے ہی آپ ﷺ نے ہاتھ یا انگلی اٹھائی ، نگاہ چھت کی طرف بلند کی۔ اور دونوں ہونٹوں پر کچھ حرکت ہوئی۔ حضرت عائشہ ؓ نے کان لگایا تو آپ ﷺ فرما رہے تھے: ''ان انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ہمراہ جنہیں تو نے انعام سے نوازا۔ اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، اور مجھے رفیقِ اعلیٰ میں پہنچا دے۔ اے اللہ! رفیق اعلیٰ ۔'' (صحیح بخاری باب مرض النبی ﷺ وباب آخرما تکلم النبی ﷺ ۲/۶۳۸ تا ۶۴۱) آخری فقرہ تین بار دہرایا، اور اسی وقت ہاتھ جھک گیا۔ اور آپ ﷺ رفیقِ اعلیٰ سے جا لاحق ہوئے۔ إناللہ وإنا إلیہ راجعون
یہ واقعہ ۱۲ ربیع الاول ۱۱ھ یوم دو شنبہ کو چاشت کی شدت کے وقت پیش آیا۔ اس وقت نبی ﷺ کی عمر تریسٹھ سال چار دن ہو چکی تھی۔
غمہائے بیکراں:
اس حادثہ دلفگار کی خبر فورا پھیل گئی، اہل مدینہ پر کوہ غم ٹوٹ پڑا۔ آفاق و اطراف تاریک ہو گئے۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ جس دن رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اس سے بہتر اور تابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اور جس دن رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اس سے زیادہ قبیح اور تاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ (دارمی، مشکوٰۃ ۲/۵۴۷۔ انہی حضرت انسؓ سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت ہے کہ جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے ہر چیز روشن ہو گئی۔ اور جس دن آپ ﷺ نے وفات پائی ہر چیز تاریک ہو گئی۔ اور ابھی ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے ہاتھ بھی نہ جھاڑے تھے، بلکہ آپ ﷺ کے دفن ہی میں مشغول تھے کہ اپنے دلوں کو بدلا ہوا محسوس کیا۔ (جامع ترمذی ۵/۵۸۸، ۵۸۹)
آپ ﷺ کی وفات پر حضرت فاطمہ ؓ نے فرطِ غم سے فرمایا:
یا أبتاہ، أجاب رباً دعاہ، یا أبتاہ، من جنۃ الفردوس مأواہ، یا أبتاہ، إلی جبریل ننعاہ (صحیح بخاری باب مرض النبی ﷺ ۲/۶۴۱)
''ہائے ابا جان! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا۔ ہائے ابا جان! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔ ہائے اباجان! ہم جبریل علیہ السلام کو آپ ﷺ کی موت کی خبر دیتے ہیں۔''
مسواک سے فارغ ہوتے ہی آپ ﷺ نے ہاتھ یا انگلی اٹھائی ، نگاہ چھت کی طرف بلند کی۔ اور دونوں ہونٹوں پر کچھ حرکت ہوئی۔ حضرت عائشہ ؓ نے کان لگایا تو آپ ﷺ فرما رہے تھے: ''ان انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ہمراہ جنہیں تو نے انعام سے نوازا۔ اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، اور مجھے رفیقِ اعلیٰ میں پہنچا دے۔ اے اللہ! رفیق اعلیٰ ۔'' (صحیح بخاری باب مرض النبی ﷺ وباب آخرما تکلم النبی ﷺ ۲/۶۳۸ تا ۶۴۱) آخری فقرہ تین بار دہرایا، اور اسی وقت ہاتھ جھک گیا۔ اور آپ ﷺ رفیقِ اعلیٰ سے جا لاحق ہوئے۔ إناللہ وإنا إلیہ راجعون
یہ واقعہ ۱۲ ربیع الاول ۱۱ھ یوم دو شنبہ کو چاشت کی شدت کے وقت پیش آیا۔ اس وقت نبی ﷺ کی عمر تریسٹھ سال چار دن ہو چکی تھی۔
غمہائے بیکراں:
اس حادثہ دلفگار کی خبر فورا پھیل گئی، اہل مدینہ پر کوہ غم ٹوٹ پڑا۔ آفاق و اطراف تاریک ہو گئے۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ جس دن رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اس سے بہتر اور تابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اور جس دن رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اس سے زیادہ قبیح اور تاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ (دارمی، مشکوٰۃ ۲/۵۴۷۔ انہی حضرت انسؓ سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت ہے کہ جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے ہر چیز روشن ہو گئی۔ اور جس دن آپ ﷺ نے وفات پائی ہر چیز تاریک ہو گئی۔ اور ابھی ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے ہاتھ بھی نہ جھاڑے تھے، بلکہ آپ ﷺ کے دفن ہی میں مشغول تھے کہ اپنے دلوں کو بدلا ہوا محسوس کیا۔ (جامع ترمذی ۵/۵۸۸، ۵۸۹)
آپ ﷺ کی وفات پر حضرت فاطمہ ؓ نے فرطِ غم سے فرمایا:
یا أبتاہ، أجاب رباً دعاہ، یا أبتاہ، من جنۃ الفردوس مأواہ، یا أبتاہ، إلی جبریل ننعاہ (صحیح بخاری باب مرض النبی ﷺ ۲/۶۴۱)
''ہائے ابا جان! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا۔ ہائے ابا جان! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔ ہائے اباجان! ہم جبریل علیہ السلام کو آپ ﷺ کی موت کی خبر دیتے ہیں۔''