• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم حیات طیبہ کا آخری باب رفیق اعلیٰ کی جانب

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
مسواک نرم کر دی، اور آپ ﷺ نے نہایت اچھی طرح مسواک کی۔ آپ ﷺ کے سامنے کٹورے میں پانی تھا۔ آپ ﷺ پانی میں دونوں ہاتھ ڈال کر چہرہ پونچھتے جاتے تھے۔ اور فرماتے جاتے تھے۔ لا الہ إلا اللہ، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ موت کے لیے سختیاں ہیں۔ (صحیح بخاری ۲/۶۴۰)
مسواک سے فارغ ہوتے ہی آپ ﷺ نے ہاتھ یا انگلی اٹھائی ، نگاہ چھت کی طرف بلند کی۔ اور دونوں ہونٹوں پر کچھ حرکت ہوئی۔ حضرت عائشہ ؓ نے کان لگایا تو آپ ﷺ فرما رہے تھے: ''ان انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ہمراہ جنہیں تو نے انعام سے نوازا۔ اے اللہ! مجھے بخش دے، مجھ پر رحم کر، اور مجھے رفیقِ اعلیٰ میں پہنچا دے۔ اے اللہ! رفیق اعلیٰ ۔'' (صحیح بخاری باب مرض النبی ﷺ وباب آخرما تکلم النبی ﷺ ۲/۶۳۸ تا ۶۴۱) آخری فقرہ تین بار دہرایا، اور اسی وقت ہاتھ جھک گیا۔ اور آپ ﷺ رفیقِ اعلیٰ سے جا لاحق ہوئے۔ إناللہ وإنا إلیہ راجعون
یہ واقعہ ۱۲ ربیع الاول ۱۱ھ یوم دو شنبہ کو چاشت کی شدت کے وقت پیش آیا۔ اس وقت نبی ﷺ کی عمر تریسٹھ سال چار دن ہو چکی تھی۔
غمہائے بیکراں:
اس حادثہ دلفگار کی خبر فورا پھیل گئی، اہل مدینہ پر کوہ غم ٹوٹ پڑا۔ آفاق و اطراف تاریک ہو گئے۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ جس دن رسول اللہ ﷺ ہمارے ہاں تشریف لائے اس سے بہتر اور تابناک دن میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ اور جس دن رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی اس سے زیادہ قبیح اور تاریک دن بھی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ (دارمی، مشکوٰۃ ۲/۵۴۷۔ انہی حضرت انسؓ سے ان الفاظ کے ساتھ بھی روایت ہے کہ جس دن رسول اللہ ﷺ مدینہ تشریف لائے ہر چیز روشن ہو گئی۔ اور جس دن آپ ﷺ نے وفات پائی ہر چیز تاریک ہو گئی۔ اور ابھی ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اپنے ہاتھ بھی نہ جھاڑے تھے، بلکہ آپ ﷺ کے دفن ہی میں مشغول تھے کہ اپنے دلوں کو بدلا ہوا محسوس کیا۔ (جامع ترمذی ۵/۵۸۸، ۵۸۹)
آپ ﷺ کی وفات پر حضرت فاطمہ ؓ نے فرطِ غم سے فرمایا:
یا أبتاہ، أجاب رباً دعاہ، یا أبتاہ، من جنۃ الفردوس مأواہ، یا أبتاہ، إلی جبریل ننعاہ (صحیح بخاری باب مرض النبی ﷺ ۲/۶۴۱)
''ہائے ابا جان! جنہوں نے پروردگار کی پکار پر لبیک کہا۔ ہائے ابا جان! جن کا ٹھکانہ جنت الفردوس ہے۔ ہائے اباجان! ہم جبریل علیہ السلام کو آپ ﷺ کی موت کی خبر دیتے ہیں۔''
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
حضرت عمرؓ کا موقف:
وفات کی خبر سن کر حضرت عمرؓ کے ہوش جاتے رہے۔ انہوں نے کھڑے ہو کر کہنا شروع کیا: کچھ منافقین سمجھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات ہو گئی لیکن حقیقت یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی وفات نہیں ہوئی، بلکہ آپ ﷺ اپنے رب کے پاس تشریف لے گئے ہیں۔ جس طرح موسیٰ بن عمران علیہ السلام تشریف لے گئے تھے۔ اور اپنی قوم سے چالیس رات غائب رہ کر ان کے پاس پھر واپس آ گئے تھے۔ حالانکہ واپسی سے پہلے کہا جا رہا تھا کہ وہ انتقال کر چکے ہیں۔
اللہ کی قسم! رسول اللہ ﷺ بھی ضرور پلٹ کر آئیں گے۔ اور ان لوگوں کے ہاتھ پاؤں کاٹ ڈالیں گے جو سمجھتے ہیں کہ آپ ﷺ کی موت واقعہ ہو چکی ہے۔ (ابن ہشام ۲/۶۵۵)
حضرت ابو بکرؓ کا موقف:
ادھر حضرت ابو بکرؓ سنح میں واقع اپنے مکان سے گھوڑے پر سوار ہو کر تشریف لائے۔ اور اُتر کر مسجد نبوی میں داخل ہوئے۔ پھر لوگوں سے کوئی بات کیے بغیر سیدھے حضرت عائشہ ؓ کے پاس گئے، اور رسول اللہ ﷺ کا قصد فرمایا، آپ ﷺ کا جسدِ مُبارک دھار دار یمنی چادر سے ڈھکا ہوا تھا۔ حضرت ابو بکرؓ نے رُخ انور سے چادر ہٹائی۔ اور اسے چوما اور روئے۔ پھر فرمایا: میرے ماں باپ آپ ﷺ پر قربان، اللہ آپ ﷺ پر دو موت جمع نہیں کرے گا۔ جو موت آپ ﷺ پر لکھ دی گئی تھی وہ آپ ﷺ کو آ چکی۔
اس کے بعد ابو بکرؓ باہر تشریف لائے۔ اس وقت بھی حضرت عمرؓ لوگوں سے بات کر رہے تھے۔ حضرت ابو بکرؓ نے ان سے کہا: عمر! بیٹھ جاؤ۔ حضرت عمرؓ نے بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ ادھر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حضرت عمرؓ کو چھوڑ کر حضرت ابو بکرؓ کی طرف متوجہ ہو گئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا:
أما بعد: من کان منکم یعبد محمداً ﷺ فإن محمداً قد مات ومن کان منکم یعبد اللہ فإن اللہ حي لایموت قال اللہ
وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَ‌سُولٌ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِهِ الرُّ‌سُلُ ۚ أَفَإِن مَّاتَ أَوْ قُتِلَ انقَلَبْتُمْ عَلَىٰ أَعْقَابِكُمْ ۚ وَمَن يَنقَلِبْ عَلَىٰ عَقِبَيْهِ فَلَن يَضُرَّ‌ اللَّـهَ شَيْئًا ۗ وَسَيَجْزِي اللَّـهُ الشَّاكِرِ‌ينَ (۳: ۱۴۴)
''اما بعد! تم میں سے جو شخص محمد ﷺ کی پوجا کرتا تھا تو (وہ جان لے) کہ محمد ﷺ کی موت واقع ہو چکی ہے۔ اور تم میں سے جو شخص اللہ کی عبادت کرتا تھا تو یقینا اللہ ہمیشہ زندہ رہنے والا ہے۔ کبھی نہیں مرے گا، اللہ کا ارشاد ہے۔ محمد (ﷺ) نہیں ہیں مگر رسول ہی۔ ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گذر
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
چکے ہیں تو کیا اگر وہ (محمد ﷺ) مر جائیں یا ان کی موت واقع ہو جائے یا وہ قتل کر دیے جائیں تو تم لوگ اپنی ایڑ کے بل پلٹ جاؤ گے؟ اور جو شخص اپنی ایڑ کے بل پلٹ جائے تو (یاد رکھے کہ) وہ اللہ کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور عنقریب اللہ شکر کرنے والوں کو جزا دے گا۔''
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جو اب تک فرطِ غم سے حیران و ششدر تھے انہیں حضرت ابو بکرؓ کا یہ خطاب سن کر یقین آ گیا کہ رسول اللہ ﷺ واقعی رحلت فرما چکے ہیں۔ چنانچہ حضرت ابن عباسؓ کا بیان ہے کہ واللہ! ایسا لگتا تھا گویا لوگوں نے جانا ہی نہ تھا کہ اللہ نے یہ آیت نازل کی ہے۔ یہاں تک کہ ابو بکرؓ نے اس کی تلاوت کی تو سارے لوگوں نے ان سے یہ آیت اخذ کی۔ اور اب جس کسی انسان کو میں سنتا تو وہ اسی کو تلاوت کر رہا ہوتا۔
حضرت سعیدؓ بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا: واللہ! میں نے جوں ہی ابو بکرؓ کو یہ آیت تلاوت کرتے ہوئے سنا خاک آلود ہو کر رہ گیا۔ (یا میری پیٹھ ٹوٹ کر رہ گئی) حتیٰ کہ میرے پاؤں مجھے اٹھا ہی نہیں رہے تھے اور حتیٰ کہ ابو بکر کو اس آیت کی تلاوت کرتے سن کر میں زمین کی طرف لڑھک گیا۔ کیونکہ میں جان گیا کہ واقعی نبی ﷺ کی موت واقع ہو چکی ہے۔ (صحیح بخاری ۲/۶۴۰، ۶۴۱)
تجہیز و تکفین اور تدفین:
ادھر نبی ﷺ کی تجہیز و تکفین سے پہلے ہی آپ ﷺ کی جانشینی کے معاملے میں اختلاف پڑ گیا۔ سقیفہ بنی ساعدہ میں مہاجرین و انصار کے درمیان بحث و مناقشہ ہوا، حجت و گفتگو ہوئی۔ سوال و جواب ہوا۔ اور بالآخر حضرت ابو بکرؓ کی خلافت پر اتفاق ہو گیا۔ اس کام میں دو شنبہ کا باقی ماندہ دن گذر گیا۔ اور رات آ گئی۔ لوگ نبی ﷺ کی تجہیز و تکفین کے بجائے اس دوسرے کام میں مشغول رہے۔ پھر رات گذر گئی۔ اور منگل کی صبح ہوئی۔ اس وقت تک آپ ﷺ کا جسد مبارک ایک دھار دار یمنی چادر سے ڈھکا بستر ہی پر رہا۔ گھر کے لوگوں نے باہر سے دروازہ بند کر دیا تھا۔
منگل کے روز آپ ﷺ کو کپڑے اتارے بغیر غسل دیا گیا۔ غسل دینے والے حضرات یہ تھے۔ حضرت عباس، حضرت علی، حضرت عباس کے دو صاحبزادگان فضل اور قثم رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام شقران، حضرت اسامہ بن زید اور اوس بن خولی رضی اللہ عنہم ۔ حضرت عباس، فضل اور قثم آپ ﷺ کی کروٹ بدل رہے تھے۔ حضرت اسامہ اور شقران رضی اللہ عنہما پانی بہا رہے تھے۔ حضرت علیؓ غسل دے رہے تھے۔ اور حضرت اوسؓ نے آپ ﷺ کو اپنے سینے سے ٹیک رکھا تھا۔ (ابن ماجہ ۱/۵۲۱)
آپ ﷺ کو پانی اور بیر کی پتی سے تین غسل دیا گیا۔ اور قباء میں واقع سعد بن خیثمہ کے غرس نامی کنویں سے غسل دیا گیا۔ آپ ﷺ اس کا پانی پیا کرتے تھے۔ (تفصیل طبقات ابن سعد ۲/۲۷۷،۲۸۱ میں ملاحظہ ہو۔)
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
اس کے بعد آپ ﷺ کو تین سفید یمنی چادروں میں کفنایا گیا۔ ان میں کرتا اور پگڑی نہ تھی۔ (صحیح بخاری ۱/۱۶۹ جنائز باب الثیاب البیض للکفن ، فتح الباری ۳/۱۶۲،۱۶۷ ،۱۶۸حدیث نمبر ۱۲۶۴، ۱۲۷۱،۱۲۷۲،۱۲۷۳، ۱۲۷۳، ۱۳۸۷، صحیح مسلم: جنائز، باب کفن المیت ۱/۳۰۶ حدیث نمبر ۴۵) بس آپ ﷺ کو چادروں ہی میں لپیٹ دیا گیا تھا۔
آپ ﷺ کی آخری آرام گاہ کے بارے میں بھی صحابہ کرام کی رائیں مختلف تھیں، لیکن حضرت ابو بکرؓ نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ کوئی نبی بھی نہیں اٹھایا گیا مگر اس کی تدفین وہیں ہوئی جہاں اٹھایا گیا۔ اس فیصلے کے بعد حضرت ابو طلحہؓ نے آپ ﷺ کا وہ بستر اٹھایا جس پر آپ ﷺ کی وفات ہوئی تھی۔ اور اسی کے نیچے قبر کھودی۔ قبر لحد والی (بغلی) کھودی گئی تھی۔
اس کے بعد باری باری دس دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حجرہ شریف میں داخل ہو کر نماز جنازہ پڑھی۔ کوئی امام نہ تھا۔ سب سے پہلے آپ ﷺ کے خانوادہ (بنو ہاشم) نے نماز جنازہ پڑھی۔ پھر مہاجرین نے، پھر انصار نے، پھر مردوں کے بعد عورتوں نے، اور ان کے بعد بچوں نے۔ (مؤطا امام مالک، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی دفن المیت ۱/۲۳۱ طبقات ابن سعد ۲/۲۸۸ - ۲۹۲)
نماز جنازہ پڑھنے میں منگل کا پورا دن گذر گیا، اور چہار شنبہ (بدھ) کی رات آ گئی۔ رات میں آپ ﷺ کے جسد پاک کو سپردِ خاک کیا گیا۔ چنانچہ حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی تدفین کا علم نہ ہوا، یہاں تک کہ ہم نے بدھ کی رات کے درمیانی اوقات میں (اور ایک روایت کے مطابق، آخر رات میں) پھاؤڑوں کی آواز سنی۔ (مسند احمد ۶/۶۲، ۲۷۴۔ واقعہ وفات کی تفصیل کے لیے دیکھئے صحیح بخاری باب مرض النبی ﷺ اور اس کے بعد کے چند ابواب مع فتح الباری، نیز صحیح مسلم، مشکوٰۃ المصابیح، باب وفاۃ النبی ﷺ، ابن ہشام ۲/۶۴۹ تا ۶۶۵۔ تلقیح فہوم اہل الاثر ص ۳۸، ۳۹۔ رحمۃ للعالمین ۱/۲۷۷ تا ۲۸۶۔ اوقات کی تعیین بالعموم رحمۃ للعالمین سے لی گئی ہے)
****​
 
Top