• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم خانہء نبوت

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
۱۱۔ حضرت میمونہ بنت حارث ؓ :
یہ ام الفضل لبابہ بنت حارث ؓ کی بہن تھیں۔ ان سے رسول اللہ ﷺ نے ذی قعدہ ۷ھ میں عمرہ قضاء سے فارغ ہونے ... اور صحیح قول کے مطابق احرام سے حلال ہونے ...کے بعد شادی کی، اور مکہ سے ۹ میل دور مقام سرف میں انھیں رخصت کرایا۔ ۶۱ھ اور کہا جاتا ہے کہ ۶۳ھ میں وہیں ان کی وفات بھی ہوئی۔ اور وہیں دفن بھی کی گئیں۔ ان کی قبر کی جگہ آج بھی وہاں معروف ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
یہ گیارہ بیویاں ہوئیں جو رسول اللہ ﷺ کے عقد نکاح میں آئیں۔ اور آپ ﷺ کی صحبت و رفاقت میں رہیں۔ ان میں سے دو بیویاں، یعنی حضرت خدیجہ اور حضرت زینب ام المساکینؓ کی وفات آپ ﷺ کی زندگی ہی میں ہوئی۔ اور نو بیویاں آپ ﷺ کی وفات کے بعد حیات رہیں۔ ان کے علاوہ دو اور خواتین جو آپ ﷺ کے پاس رخصت نہیں کی گئیں۔ ان میں سے ایک قبیلہ بنو کلاب سے تعلق رکھتی تھیں۔ اور ایک قبیلہ کندہ سے، یہی قبیلہ کِنْدہ والی خاتون جونیہ کی نسبت سے معروف ہیں۔ ان کا آپ ﷺ سے عقد ہوا تھا یا نہیں، اور ان کا نام و نسب کیا تھا اس بارے میں اہل سیر کے درمیان بڑے اختلافات ہیں جن کی تفصیل کی ہم کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔
جہاں تک لونڈیوں کا معاملہ ہے تو مشہور یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دو لونڈیوں کو اپنے پاس رکھا۔ ایک ماریہ قبطیہ کو جنہیں مقوقس فرمانروائے مصر نے بطور ہدیہ بھیجا تھا۔ ان کے بطن سے آپ ﷺ کے صاحبزادے ابراہیم پیدا ہوئے۔ جو بچپن ہی میں ۲۸ یا ۲۹ شوال ۱۰ھ مطابق ۲۷ جنوری ۶۳۲ء کو مدینہ کے اندر انتقال کر گئے۔
دوسری لونڈی ریحانہ بنت زید تھیں۔ جو یہود کے قبیلہ بنی نضیر یا بنی قریظہ سے تعلق رکھتی تھیں۔ یہ بنو قریظہ کے قیدیوں میں تھیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انہیں اپنے لیے منتخب فرمایا تھا، اور وہ آپ ﷺ کے زیردست تھیں۔ ان کے بارے میں بعض محققین کا خیال ہے کہ انہیں نبی ﷺ نے بحیثیت لونڈی نہیں رکھا تھا بلکہ آزاد کر کے شادی کر لی تھی لیکن ابن قیم کی نظر میں پہلا قول راجح ہے۔ ابو عبیدہ نے ان دو لونڈیوں کے علاوہ مزید دو لونڈیوں کا ذکر کیا ہے۔ جس میں سے ایک کا نام جمیلہ بتایا جاتا ہے، جو کسی جنگ میں گرفتار ہو کر آئی تھیں۔ اور دوسری کوئی اور لونڈی تھیں جنہیں حضرت زینب بنت جحش نے آپ کو ہبہ کیا تھا۔ (زاد المعاد ۱/۲۹)
یہاں ٹھہر کر رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ کے ایک پہلو پر ذرا غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آپ ﷺ نے اپنی جوانی کے نہایت پر قوت اور عمدہ ایام، یعنی تقریباً تیس برس صرف ایک بیوی پر اکتفا کرتے ہوئے گذار دیے۔ اور وہ بھی ایسی بیوی پر جو تقریباً بڑھیا تھی، یعنی پہلے حضرت خدیجہ اور پھر حضرت سودہؓ پر۔ تو کیا یہ تصور کسی بھی درجے میں معقول ہو سکتا ہے کہ اس طرح اتنا عرصہ گذار دینے کے بعد جب آپ ﷺ بڑھاپے کی دہلیز پر پہنچ گئے تو
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
آپ کے اندر یکایک جنسی قوت اس قدر بڑھ گئی کہ آپ کو پے در پے نو شادیاں کرنی پڑیں۔ جی نہیں! آپ ﷺ کی زندگی کے ان دونوں حصوں پر نظر ڈالنے کے بعد کوئی بھی ہوش مند آدمی اس تصور کو معقول تسلیم نہیں کر سکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اپنی بہت ساری شادیاں کچھ دوسرے ہی اغراض و مقاصد کے تحت کی تھیں۔ جو عام شادیوں کے مقررہ مقصد سے بہت ہی زیادہ عظیم القدر اور جلیل المرتبہ تھے۔
اس کی توضیح یہ ہے کہ آپ ﷺ نے حضرت عائشہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہما سے شادی کر کے حضرت ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ رشتہ مصاہرت قائم کیا، اسی طرح حضرت عثمانؓ سے پے در پے دو صاحبزادیوں حضرت رقیہ پھر حضرت امِ کلثوم کی شادی کر کے اور حضرت علیؓ سے اپنی لخت جگر حضرت فاطمہ ؓ کی شادی کر کے جو رشتہائے مُصَاہرت قائم کیے ان کا مقصود یہ تھا کہ آپ ان چاروں بزرگوں سے اپنے تعلقات نہایت پختہ کر لیں، کیونکہ یہ چاروں بزرگ پیچیدہ ترین مراحل میں اسلام کے لیے فدا کاری و جاں سپاری کا جو امتیازی وصف رکھتے تھے وہ معروف ہے۔
عرب کا دستور تھا کہ وہ رشتہ مصاہرت کا بڑا احترام کرتے تھے۔ ان کے نزدیک دامادی کا رشتہ مختلف قبائل کے درمیان قربت کا ایک اہم باب تھا۔ اور داماد سے جنگ لڑنا اور محاذ آرائی کرنا بڑے شرم اور عار کی بات تھی۔ اس دستور کو سامنے رکھ کر رسول اللہ ﷺ نے چند شادیاں اس مقصد سے کیں کہ مختلف افراد اور قبائل کی اسلام دشمنی کا زور توڑ دیں۔ اور ان کے بغض و نفرت کی چنگاری بجھا دیں۔ چنانچہ حضرت اُم سلمہ ؓ قبیلہ بنی مخزوم سے تعلق رکھتی تھیں جو ابو جہل اور خالد بن ولیدؓ کا قبیلہ تھا۔ جب نبی ﷺ نے ان سے شادی کرلی تو خالد بن ولیدؓ میں وہ سختی نہ رہی جس کا مظاہرہ وہ احد میں کر چکے تھے۔ بلکہ تھوڑے ہی عرصہ بعد انہوں نے اپنی مرضی خوشی اور خواہش سے اسلام قبول کر لیا۔ اسی طرح جب ابو سفیان کی صاحبزادی حضرت ام حبیبہ سے شادی کر لی تو پھر ابو سفیان آپ کے مد مقابل نہ آیا۔ اور جب حضرت جویریہ اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہما آپ ﷺ کی زوجیت میں آ گئیں۔ تو قبیلہ بنی المصطلق اور قبیلہ بنی نضیر نے محاذ آرائی چھوڑ دی۔ حضور کے عقد میں ان دونوں بیویوں کے آنے کے بعد تاریخ میں ان کے قبیلوں کی کسی شورش اور جنگی تگ و دَو کا سراغ نہیں ملتا۔ بلکہ حضرت جویریہؓ تو اپنی قوم کے لیے ساری عورتوں سے زیادہ بابرکت ثابت ہوئیں۔ کیونکہ جب رسول اللہ ﷺ نے ان سے شادی کر لی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ان کے ایک سو گھرانوں کو جو قید میں تھے آزاد کر دیا۔ اور کہا کہ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے سسرالی ہیں۔ ان کے دلوں پر اس احسان کا جو زبردست اثر ہوا ہو گا وہ ظاہر ہے۔
ان سب سے بڑی اور عظیم بات یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک اَن گھڑ قوم کو تربیت دینے، اس کا تزکیۂ نفس کرنے اور تہذیب و تمدن سکھا نے پر مامور تھے۔ جو تہذیب و ثقافت سے، تمدن کے لوازمات کی پابندی سے اور معاشرے کی تشکیل و تعمیر میں حصہ لینے کی ذمہ داریوں سے بالکل نا آشنا تھی۔ اور اسلامی معاشرے کی تشکیل جن اصولوں کی بنیاد پر کرنی تھی ان میں مردوں اور عورتوں کے اختلاط کی گنجائش نہ تھی۔ لہٰذا عام اختلاط کے اس اصول کی پابندی کرتے ہوئے عورتوں کی براہ راست تربیت نہیں کی جا سکتی تھی۔ حالانکہ ان کی تعلیم و تربیت کی ضرورت مردوں سے کچھ کم اہم اور ضروری نہ تھی بلکہ کچھ زیادہ ہی ضروری تھی۔
اس لیے نبی ﷺ کے پاس صرف یہی ایک سبیل رہ گئی تھی کہ آپ ﷺ مختلف عمر اور لیاقت کی اتنی عورتوں کو منتخب فرما لیں جو اس مقصد کے لیے کافی ہوں۔ پھر آپ ﷺ انہیں تعلیم و تربیت دیدیں، ان کا تزکیہ نفس فرما دیں۔ انہیں احکام شریعت سکھلا دیں۔ اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے اس طرح آراستہ کر دیں کہ وہ دیہاتی اور شہری، بوڑھی اور جوان ہر طرح کی عورتوں کی تربیت کر سکیں اور انہیں مسائل شریعت سکھا سکیں۔ اور اس طرح عورتوں میں تبلیغ کی مہم کے لیے کافی ہو سکیں۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ نبی ﷺ کے خانگی حالات کو امت تک پہنچانے کا سہرا زیادہ تر ان امہات المومنین ہی کے سر ہے ان میں بھی بالخصوص وہ امہات المومنین جنہوں نے طویل عمر پائی۔ مثال کے طور پر حضرت عائشہؓ۔ کہ انہوں نے نبی ﷺ کے افعال و اقوال خوب خوب روایت کیے ہیں۔
نبی ﷺ کا ایک نکاح ایک ایسی جاہلی رسم توڑنے کے لیے بھی عمل میں آیا تھا جو عرب معاشرہ میں پُشتہا پُشت سے چلی آ رہی تھی، اور بڑی پختہ ہو چکی تھی۔ یہ رسم تھی کسی کو متبنیٰ بنانے کی۔ متبنیٰ کو جاہلی دور میں وہی حقوق اور حرمتیں حاصل تھیں جو حقیقی بیٹے کو ہوا کرتی ہیں۔ پھر یہ دستور اور اصول عرب معاشرے میں اس قدر جڑ پکڑ چکا تھا کہ اس کا مٹانا آسان نہ تھا لیکن یہ اصول ان بنیادوں اور اصولوں سے نہایت سختی کے ساتھ ٹکراتا تھا جنہیں اسلام نے نکاح، طلاق، میراث اور دوسرے معاملات میں مقرر فرمایا تھا۔ اس کے علاوہ جاہلیت کا یہ اصول اپنے دامن میں بہت سے ایسے مفاسد اور فواحش بھی لیے ہوئے تھا جن سے معاشرے کو پاک کرنا اسلام کے اولین مقاصد میں سے تھا۔ لہٰذا اس جاہلی اصول کو توڑنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کی شادی حضرت زینب بنت جحشؓ سے فرما دی۔ حضرت زینبؓ پہلے حضرت زیدؓ کے عقد میں تھیں۔ جو رسول اللہ ﷺ کے مُتبنیٰ (منہ بولے بیٹے) تھے۔ اور زید بن محمد کہے جاتے تھے، مگر دونوں میں نباہ مشکل ہو گیا اور حضرت زیدؓ نے طلاق دینے کا ارادہ کر لیا۔ اور رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں گفتگو بھی کی یہ وہ وقت تھا جب تمام کفار رسول اللہ ﷺ کے خلاف محاذ آرا تھے۔
ادھر رسول اللہ ﷺ حالات کے اشارے یا اللہ تعالیٰ کے خبر دینے سے یہ بات جان چکے تھے کہ اگر زیدؓ نے طلاق دی تو آپ ﷺ کو حضرت زینبؓ کی عدت گذرنے کے بعد ان سے شادی کا حکم دیا جائے گا۔ اور اس لیے رسول اللہ ﷺ کو بجا طور پر یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر انہی حالات میں یہ شادی کرنی پڑ گئی تو منافقین، مشرکین، اور یہود بات کا بتنگڑ بنا کر آپ ﷺ کے خلاف سخت پروپیگنڈہ کریں گے۔ اور سادہ لوح مسلمانوں کو طرح طرح کے وسوسوں میں مبتلا کر کے ان پر برے اثرات ڈالیں گے۔ اس لیے حضرت زیدؓ نے جب حضرت زینبؓ کو طلاق دینے کے اپنے ارادے کے بارے میں رسول اللہ ﷺ سے گفتگو کی تو آپ ﷺ نے انہیں حکم دیا کہ حضرت زینبؓ سے نباہ کریں۔ اور انھیں طلاق نہ دیں تاکہ ان مشکل حالات میں اس شادی کا مرحلہ پیش نہ آئے۔
لیکن اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی۔ اور اس نے آپ ﷺ کو عتاب فرمایا۔ ارشاد ہوا:
وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّـهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّـهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ ۖ (۳۳: ۳۷)
''اور جب آپ اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے انعام کیا ہے، اور آپ ﷺ نے انعام کیا ہے (یعنی حضرت زیدؓ سے) کہ تم اپنے اوپر اپنی بیوی کو روک رکھو۔ اور اللہ سے ڈرو۔ اور آپ ﷺ اپنے نفس میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔ اور آپ لوگوں سے ڈر رہے تھے حالانکہ اللہ زیادہ مستحق تھا کہ آپ ﷺ اس سے ڈرتے۔''
بالآخر حضرت زیدؓ نے حضرت زینبؓ کو طلاق دے ہی دی۔ پھر ان کی عدت گذر گئی تو ان سے رسول اللہ ﷺ کی شادی کا فیصلہ نازل ہوا، اللہ نے آپ ﷺ پر یہ نکاح لازم کر دیا تھا۔ اور کوئی اختیار اور گنجائش نہیں چھوڑی تھی۔ اس سلسلے میں نازل ہونے والی آیت کریمہ یہ ہے :
فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرً‌ا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَ‌جٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرً‌ا ۚ (۳۳:۳۷)
''جب زید نے اس سے اپنی ضرورت پوری کر لی تو ہم نے اس کی شادی آپ ﷺ سے کر دی تاکہ مومنین پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں پر کوئی حرج نہ رہ جائے جبکہ وہ منہ بولے بیٹے ان سے اپنی حاجت پوری کر لیں۔''
اس کا مقصد یہ تھا کہ منہ بولے بیٹوں سے متعلق جاہلی اصول عملاً بھی توڑ دیا جائے، جس طرح اس سے پہلے اس ارشاد کے ذریعہ قولاً توڑا جا چکا تھا۔
ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّـهِ ۚ (۳۳: ۵)
''انہیں ان کے باپ کی نسبت سے پکارو، یہی اللہ کے نزدیک زیادہ انصاف کی بات ہے۔''
مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّ‌جَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّ‌سُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا (۳۳: ۴۰)
''محمد، تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، بلکہ اللہ کے رسول اور خاتم النبیین ہیں۔''
اس موقع پر یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیے کہ جب معاشرے میں کوئی رواج اچھی طرح جڑ پکڑ لیتا ہے تو محض بات کے ذریعے اسے مٹانا یا اس میں تبدیلی لانا بیشتر اوقات ممکن نہیں ہوا کرتا۔ بلکہ جو شخص اس کے خاتمے یا تبدیلی کا داعی ہو اس کا عملی نمونہ موجود رہنا بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ صلح حدیبیہ کے موقع پر مسلمانوں کی طرف سے جس حرکت کا ظہور ہوا اس سے اس حقیقت کی بخوبی وضاحت ہوتی ہے۔ اس موقع پر کہاں تو مسلمانوں کی فدا کاری کا یہ عالم تھا کہ جب عروہ بن مسعود ثَقفی نے انہیں دیکھا تو دیکھا کہ رسول اللہ ﷺ کا تھوک اور کھنکار بھی ان میں سے کسی نہ کسی صحابی کے ہاتھ ہی میں پڑ رہا ہے۔ اور جب آپ ﷺ وضو فرماتے ہیں تو صحابہ کرام آپ ﷺ کے وضو سے گرنے والا پانی لینے کے لیے اس طرح ٹوٹے پڑ رہے ہیں کہ معلوم ہوتا ہے آپس میں الجھ پڑیں گے۔ جی ہاں! یہ وہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جو درخت کے نیچے موت یا عدم فرار پر بیعت کرنے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جا رہے تھے اور یہ وہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تھے جن میں ابو بکر و عمر جیسے جاں نثاران رسول بھی تھے۔ لیکن انہی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو -- جو آپ پر مر مٹنا اپنی انتہائی سعادت و کامیابی سمجھتے تھے -- جب آپ ﷺ نے صلح کا معاہدہ طے کر لینے کے بعد حکم دیا کہ اٹھ کر اپنی ہدی (قربانی کے جانور) ذبح کر دیں تو آپ ﷺ کے حکم کی بجا آوری کے لیے کوئی ٹس سے مس نہ ہوا۔ یہاں تک کہ آپ ﷺ قلق و اضطراب سے دوچار ہو گئے۔ لیکن جب حضرت ام سلمہ ؓ نے آپ ﷺ کو مشورہ دیا کہ آپ ﷺ اٹھ کر چپ چاپ اپنا جانور ذبح کر دیں، اور آپ ﷺ نے ایسا ہی کیا تو ہر شخص آپ ﷺ کے طرز عمل کی پیروی کے لیے دوڑ پڑا۔ اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم نے لپک لپک کر اپنے جانور ذبح کر دیے۔ اس واقعہ سے سمجھا جا سکتا ہے کہ کسی پختہ رواج کو مٹانے کے لیے قول اور عمل کے اثرات میں کتنا زیادہ فرق ہے۔ اس لیے متبنی کا جاہلی اصول عملی طور پر توڑنے کے لیے آپ ﷺ کا نکاح آپ کے منہ بولے بیٹے حضرت زید کی مطلقہ سے کرایا گیا۔
اس نکاح کا عمل میں آنا تھا کہ منافقین نے آپ ﷺ کے خلاف نہایت وسیع پیمانے پر جھوٹے پروپیگنڈے شروع کر دیے۔ اور طرح طرح کے وسوسے اور افواہیں پھیلائیں جس کے کچھ نہ کچھ اثرات سادہ لوح مسلمانوں پر بھی پڑے۔ اس پروپیگنڈے کو تقویت پہنچانے کے لیے ایک ''شرعی'' پہلو بھی منافقین کے ہاتھ آ گیا تھا کہ حضرت زینب آپ کی پانچویں بیوی تھیں۔ جبکہ مسلمان بیک وقت چار بیویوں سے زیادہ کی حلت جانتے ہی نہ تھے۔ ان سب کے علاوہ پروپیگنڈہ کی اصل جان یہ تھی کہ حضرت زید، رسول اللہ ﷺ کے بیٹے سمجھے جاتے تھے۔ اور بیٹے کی بیوی سے شادی کرنا نہایت گندی فحش کاری تھی۔ بالآخر اللہ تعالیٰ نے سورہ احزاب میں ان دونوں موضوع سے متعلق کافی شافی آیات نازل کیں اور صحابہ کو معلوم ہو گیا کہ اسلام میں منہ بولے بیٹے کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور یہ کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ نہایت بلند پایہ اور مخصوص مقاصد کے تحت اپنے رسول ﷺ کو خصوصیت کے ساتھ شادی کی تعداد کے سلسلے میں اتنی وسعت دی ہے جو کسی اور کو نہیں دی گئی ہے۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,589
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
امہات المومنین کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کی رہائش نہایت شریفانہ، باعزت، بلند پایہ اور عمدہ انداز کی تھی۔ ازواج مطہرات بھی شرف، قناعت، صبر، تواضع، خدمت اور ازدواجی حقوق کی نگہداشت کا مرقع تھیں۔ حالانکہ آپ بڑی روکھی پھیکی اور سخت زندگی گذار رہے تھے جسے برداشت کر لینا دوسروں کے بس کی بات نہیں۔ حضرت انسؓ کا بیان ہے کہ مجھے علم نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی میدے کی نرم روٹی کھائی ہو یہاں تک اللہ سے جا ملے۔ اور نہ آپ ﷺ نے اپنی آنکھ سے کبھی بھُنی ہوئی بکری دیکھی۔ (صحیح بخاری ۲/۹۵۶) حضرت عائشہ ؓ کا بیان ہے کہ دو دو ماہ گذر جاتے، تیسرے مہینے کا چاند نظر آ جاتا اور رسول اللہ ﷺ کے گھر میں آگ نہ جلتی۔ حضرت عروہؓ نے دریافت کیا کہ تب آپ لوگ کیا کھاتی تھیں؟ فرمایا کہ بس دو کالی چیزیں، یعنی کھجور اور پانی۔ (صحیح بخاری ۲/۹۵۶) اس مضمون کی احادیث بکثرت ہیں۔
اس تنگی و ترشی کے باوجود ازواج مطہرات سے کوئی لائق عتاب حرکت صادر نہ ہوئی -- صرف ایک دفعہ ایسا ہوا اور وہ بھی اس لیے کہ ایک تو انسانی فطرت کا تقاضا ہی کچھ ایسا ہے۔ دوسرے اسی بنیاد پر کچھ احکامات مشروع کرنے تھے --- چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اسی موقع پر آیت تخییر نازل فرمائی۔ جو یہ تھی۔
يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُل لِّأَزْوَاجِكَ إِن كُنتُنَّ تُرِ‌دْنَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا فَتَعَالَيْنَ أُمَتِّعْكُنَّ وَأُسَرِّ‌حْكُنَّ سَرَ‌احًا جَمِيلًا ﴿٢٨﴾ وَإِن كُنتُنَّ تُرِ‌دْنَ اللَّـهَ وَرَ‌سُولَهُ وَالدَّارَ‌ الْآخِرَ‌ةَ فَإِنَّ اللَّـهَ أَعَدَّ لِلْمُحْسِنَاتِ مِنكُنَّ أَجْرً‌ا عَظِيمًا ﴿٢٩﴾ (۳۳: ۲۸،۲۹)
''اے نبی! اپنی بیویوں سے کہہ دو کہ اگر تم دنیا کی زندگی اور زینت چاہتی ہو تو آؤ۔ میں تمہیں ساز و سامان دے کر بھلائی کے ساتھ رخصت کر دوں۔ اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول اور دارِ آخرت کو چاہتی ہو تو بے شک! اللہ نے تم میں سے نیکوکاروں کے لیے زبردست اجر تیار کر رکھا ہے۔''
اب ان ازواج مطہرات کے شرف اور عظمت کا اندازہ کیجیے کہ ان سب نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کو ترجیح دی۔ اور ان میں سے کوئی ایک بھی دنیا کی طرف مائل نہ ہوئیں۔
اسی طرح سوکنوں کے درمیان جو واقعات روز مرہ کا معمول ہوا کرتے ہیں، ازواج، مطہرات کے درمیان کثرت تعداد کے باوجود اس طرح کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آئے۔ اور وہ بھی بتقاضے بشریت۔ اور اس پر بھی جب اللہ تعالیٰ نے عتاب فرمایا تو دوبارہ اس طرح کی کسی حرکت کا ظہور نہیں ہوا۔ سورۂ تحریم کی ابتدائی پانچ آیات میں اسی کا ذکر ہے۔
اخیر میں یہ عرض کر دینا بھی بیجا نہ ہو گا کہ ہم اس موقع پر تعددِ ازواج کے موضوع پر بحث کی ضرورت نہیں سمجھتے۔ کیونکہ جو لوگ اس موضوع پر سب سے زیادہ لے دے کرتے ہیں۔ یعنی باشندگانِ یورپ وہ خود جس طرح کی زندگی گذار رہے ہیں، جس تلخی و بدبختی کا جام نوش کر رہے ہیں، جس طرح کی رسوائیوں اور جرائم میں لت پت ہیں، اور تعددِ ازواج کے اصول سے منحرف ہو کر جس قسم کے رنج والم اور مصائب کا سامنا کر رہے ہیں وہ ہر طرح کی بحث و جدل سے مستغنی کر دینے کے لیے کافی ہے۔ اہل یورپ کی بد بختانہ زندگی تعدد ازواج کے اصول کے مبنی برحق ہونے کی سب سے سچی گواہ ہے اور اصحابِ نظر کے لیے اس میں بڑی عبرت ہے۔
 
Top