• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خبر کے لفظ کے ذریعے امر اور نہی کا بیان: و خبر کی متواتر اور آحاد میں تقسیم: ا(صول الفقہ)

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,454
پوائنٹ
306
خبر کے لفظ کے ذریعے امر اور نہی کا بیان:

خبر کے لفظ کے ذریعے امر اور نہی احکام میں طلب کے لفظ کے ذریعے امر اور نہی کی طرح ہوتے ہیں۔ دونوں قسموں کی مثالیں آپ کے حضور پیش کی جارہی ہیں:

1 خبر کے لفظ کے ذریعے امر کی مثال: اللہ سبحانہ وتعالیٰ کا یہ فرمان عالی مقام ہے:

﴿ وَالْمُطَلَّقَاتُ يتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلاثَةَ قُرُوءٍ ﴾ [البقرة:228] اور طلاق یافتہ عورتیں اپنے نفسوں کے ساتھ تین حیض تک انتظار کریں۔ (یعنی عدت گزاریں)

اسی طرح اللہ رب العالمین کا یہ فرمان عالی شان ہے: ﴿ وَالْوَالِدَاتُ يرْضِعْنَ أَوْلادَهُنَّ حَوْلَينِ كَامِلَينِ ﴾ [البقرة:233] مائیں اپنے بچوں کو دو سال مکمل دودھ پلائیں۔

نبی کریمﷺ کا یہ فرمان مبارک بھی اسی قاعدہ کی مثال ہے: «من مات وعليه صيام صام عنه وليه» جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ اس کے ذمے کچھ روزے رکھنے باقی تھے ، تو اس کی طرف سے اس کا ولی (وارث) روزے رکھے۔

2 خبر کے لفظ کے ذریعے نہی کی مثال: اللہ رب العزت کا یہ فرمان ذیشان ہے: ﴿ فَلا رَفَثَ وَلا فُسُوقَ وَلا جِدَالَ فِي الْحَجِّ ﴾ [البقرة:197] تو حج کے دنوں میں نہ تو اپنی عورتوں کی مائل ہونا ہے، نہ گناہ کرنا ہے اور نہ ہی جھگڑا کرنا ہے۔

اسی طرح نبی کریم ﷺ کا یہ فرمان عالی ہے: «لا ضرر ولا ضرار» نہ نقصان دینا ہے اور نہ نقصان اُٹھانا ہے۔

اسی کی ایک مثال نبی کریمﷺ کا وہ فرمان مبارک بھی ہے جو آپ ﷺ نے عمروبن حزم کی خط میں لکھ کر بھیجا تھا کہ : «وأن لا يمس القرآن إلا طاهر» اور یہ کہ قرآن مجید کو پاک صاف آدمی کے علاوہ کوئی نہ چھوئے۔

ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
 

ناصر رانا

رکن مکتبہ محدث
شمولیت
مئی 09، 2011
پیغامات
1,171
ری ایکشن اسکور
5,454
پوائنٹ
306
خبر کی متواتر اور آحاد میں تقسیم:

خبردینے والے تک خبر کے پہنچنے کے اعتبار سے اس کی دو قسمیں ہیں:

۱۔ متواتر ۲۔ آحاد

متواتر:


تعریف: لغت میں اس کا مطلب ہے: ایک دوسرے کے پیچھے مسلسل آنے والا۔

اصطلاح میں اس خبر کو متواتر کہتے ہیں جس کو ایک ایسی کثیر جماعت روایت کررہی ہو جن کا جھوٹ پر اتفاق اور موافقت کرلینا عادتاً محال ہو، وہ اپنے جیسی جماعت سے ہی روایت کررہی ہو اور آخر تک ایسے ہی سلسلہ جاری ہو، یہ سب کام محسوس ہو۔

متواتر کی شروط:

کسی خبر کے متواتر ہونے کےلیے چار شرطیں ہیں:

۱۔ یہ کہ اس خبر کے راوی کثیر تعداد میں ہوں۔

۲۔ ان سب کا جھوٹ پر اتفاق اور موافقت کرلینا عادتاً محال ہو۔

۳۔ جہاں سے خبر چلی ہے ، وہاں سے لے کر خبر دینے والے تک مذکورہ بالا دونوں شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔

۴۔ ان رواۃ کا علم مشاہدہ یا سماع پر مبنی ہو۔

خبر متواتر کی اقسام:


خبر متواتر کی دو قسمیں ہیں:

متواتر لفظی: یہ وہ خبر متواتر ہے جس کے تمام راوی معین الفاظ نقل کرنے میں مشترک ہوں۔ جیسا کہ یہ حدیث خبر متواترلفظی کی مثال ہے: «من كذب علي متعمدًا فليتبوأ مقعده من النار» جو شخص جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولے ، اسے اپنا ٹھکانہ جہنم میں بنا لینا چاہیے۔ اسی طرح یہ حدیث بھی خبر متواتر لفظی کی مثال ہے: «المرء مع من أحب» آدمی اسی کے ساتھ ہوتا ہے جس سے محبت کرتا ہے۔

متواتر معنوی: وہ خبر متواتر ہے جس کے راوی الفاظ نقل کرنے میں مختلف ہوں، لیکن ان سب کا معنی ومفہوم ایک جیسا ہو۔ جیسا کہ نبی کریمﷺ کے حوض کے بارے میں اور موزوں پر مسح کرنے کے بارے میں احادیث ہیں ۔

علم کی اس نوع کا بیان جس کا خبر متواتر فائدہ دیتی ہے:​

خبر متواتر یقینی علم کا فائدہ دیتی ہے جس کے مان لینے میں انسان ایسا مجبور ہوتا ہے کہ اس کا انکار کرنا اس کے لیے ممکن نہیں ہوتا۔یہی بات حق ہے۔ کیونکہ ہم دوردراز کے مقامات جنہیں ہم نے کبھی نہیں دیکھا، ماضی میں گزرے ہوئے اشخاص کے بارے میں قطعی طور پر بتاتے ہیں ، اور ہمارا یہ یقین ہر قسم کے شک وشبہ سے پاک ہوتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کہ ہم نے خود مشاہدہ کیا ہوا ہے۔

ترجمہ کتاب تسہیل الوصول از محمد رفیق طاہر
 
Top