ابو داؤد
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 27، 2020
- پیغامات
- 855
- ری ایکشن اسکور
- 227
- پوائنٹ
- 111
خلیجی حکمرانوں کے بارے میں شیخ فارس آل شويل الزهراني رحمہ اللہ کی وضاحت
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الحمد للہ رب العالمین، والصلاة والسلام على أشرف الأنبياء والمرسلین، وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔ أما بعد:
حکمرانوں کے اسلام و کفر کے احکام، ان کے ولایت و اطاعت کے ضوابط، اور ان سے متعلق عقیدہ کے مسائل اہل سنت والجماعت کے نہایت اہم اور بنیادی ابواب میں سے ہیں۔ یہ مسئلہ محض سیاسی یا دنیاوی نہیں بلکہ دین و توحید کا مرکزی مسئلہ ہے۔ آج کل مدخلی فرقے نے امت مسلمہ کو توحید خالص سے دور کر کے حکمران پرستی، شخصیت پرستی اور طواغیت کی اندھی اطاعت کی گمراہ کن راہ پر دھکیل دیا ہے۔
یہ طاغوت کے درباری مدخلی علماء موجودہ حکمرانوں و سیاستدانوں کو ہر قسم کے شرعی محاسبے، تنقید اور احتساب سے بالاتر قرار دیتے ہیں، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے کسی مخلوق کو اس مرتبے پر فائز نہیں کیا۔ ان کے نزدیک حکمران چاہے کتنا ہی کفر و ظلم و فسق کا ارتکاب کرے، اس پر زبان کھولنا حرام اور خروج سمجھا جاتا ہے۔ یہ سراسر گمراہی اور طاغوت کی حمایت ہے۔
لہٰذا اس اہم مسئلے میں صحیح سلفی علماء کی رہنمائی حاصل کرنا نہایت ضروری ہے۔ ذیل میں ہم شیخ فارس آل شويل الزهراني رحمہ اللہ (جو سعودی عرب کے ان چند جری علماء میں سے تھے جنہوں نے طاغوتی نظام کے خلاف کلمہ حق بلند کیا اور اسی راستے میں شہید ہوئے) کا ایک واضح اور صریح بیان پیش کرتے ہیں، جس میں انہوں نے جزیرہ عرب کے حکمرانوں کا شرعی حکم بیان کیا ہے۔
شیخ فارس آل شويل الزهراني رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
«إن طواغيت الحكم الجاثمين على صدر الأمة في جزيرة العرب هم كفرة مرتدون؛ كفرة لأنهم لا يحكمون بما أنزل الله، وكفرة لأنهم يحتكمون إلى شرائع الكفر الطاغوتية والقوانين الوضعية من دون شرع الله»
جزیرہ عرب میں امت کے سینے پر مسلط طاغوتی حکمران سب کے سب کافر اور مرتد ہیں؛ اس لیے کہ وہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے۔ وہ کافر ہیں کیونکہ وہ اللہ کی شریعت کے بجائے طاغوتی قوانین اور انسانی وضعی قوانین کی طرف رجوع کرتے ہیں۔
«وكفرة لأنهم هم أنفسهم يشرعون التشريع المضاهي لشرع الله تعالى، وكفرة لأنهم ينسبون لأنفسهم كثيرًا من خصائص وصفات الإلهية، وكفرة لأنهم حللوا الحرام وحرموا الحلال، وكفرة لأنهم يحاربون الله ورسوله والمؤمنين، وكفرة لأنهم يصدون الناس عن دين الله تعالى وعن التوحيد والإيمان»
وہ کافر ہیں کیونکہ وہ خود ایسے قوانین بناتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی شریعت کا مقابلہ کرتے ہیں۔ وہ کافر ہیں کیونکہ وہ اپنے لیے الوہیت کی بہت سی خصوصیات اور صفات ثابت کرتے ہیں۔ وہ کافر ہیں کیونکہ انہوں نے حرام کو حلال اور حلال کو حرام قرار دیا ہے۔ وہ کافر ہیں کیونکہ وہ اللہ، اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اہل ایمان سے جنگ کرتے ہیں۔ وہ کافر ہیں کیونکہ وہ لوگوں کو اللہ کے دین، توحید اور ایمان سے روکتے ہیں۔
«وكفرة لأنهم يكرهون ما أنزل الله، وكفرة لأنهم يسخرون من دين الله ومن أوليائه، وكفرة لأنهم يباركون الشرك الأكبر ويقرونه ولا يغيرونه ولا يسمحون بتغييره، وأقرب مثال على ذلك ما حدث في المدينة النبوية من قبل الروافض الأنجاس»
وہ کافر ہیں کیونکہ وہ اللہ کی نازل کردہ شریعت کو ناپسند کرتے ہیں۔ وہ کافر ہیں کیونکہ وہ اللہ کے دین اور اس کے حمایتیوں کا مذاق اڑاتے ہیں۔ وہ کافر ہیں کیونکہ وہ شرک اکبر کی سرپرستی کرتے ہیں، اسے برقرار رکھتے ہیں، اس کے خاتمے کی کوشش نہیں کرتے اور نہ ہی اسے ختم کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔ اس کی قریب ترین مثال وہ واقعہ ہے جو مدینہ نبوی میں ناپاک روافض کی جانب سے پیش آیا۔
«وكفرة لأنهم موالون لأعداء الأمة من اليهود والصليبيين والمرتدين، فهم لأجل هذا كفار مرتدون، لا يشك في كفرهم إلا كل من أعمى الله بصره وبصيرته»
وہ کافر ہیں کیونکہ وہ امت کے دشمنوں، یعنی یہود، صلیبیوں اور مرتدین سے دوستی رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان تمام وجوہات کی بنا پر وہ کافر اور مرتد ہیں۔ ان کے کفر میں صرف وہی شخص شک کرے گا جس کی بصیرت اور بینائی اللہ تعالیٰ نے سلب کر لی ہو۔
«فإن جادلتم أو خالفتم في خصلة من هذه الخصال الكفرية، فإنه لا يمكن أن يحصل خلاف على مجموع هذه النواقض للإيمان، وتبرئة الطواغيت منها.»
اگر تم ان کی ان کفریہ خصلتوں میں سے کسی ایک خصلت کے بارے میں بحث یا اختلاف بھی کرو، تب بھی ان تمام نواقض الايمان کے مجموعے میں اختلاف کی کوئی گنجائش نہیں رہتی، اور ان طاغوتوں کو ان امور سے بری قرار نہیں دیا جا سکتا۔
«ولذا يجب جهادهم وقتالهم وفضحهم والتبرؤ منهم. قال ابن حجر رحمه الله: إذا وقع من السلطان الكفر الصريح فلا تجوز طاعته في ذلك، بل تجب مجاهدته لمن قدر عليها.»
لہٰذا ان کے خلاف جہاد کرنا، ان سے قتال کرنا، ان کا پردہ فاش کرنا اور ان سے براءت اختیار کرنا واجب ہے۔ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جب کوئی حکمران صریح کفر میں واقع ہو جائے تو اس کی اطاعت جائز نہیں رہتی، بلکہ جو شخص قدرت رکھتا ہو، اس پر اس کے خلاف جہاد کرنا واجب ہے۔ [انتهى كلامه]
یہ تھا شیخ فارس آل شويل الزهراني رحمہ اللہ کا صریح اور واضح بیان، جس میں انہوں نے جزیرہ عرب کے طاغوتی حکمرانوں کے کفر و ارتداد کی متعدد وجوہات ذکر کی ہیں۔ لہذا جو شخص ان طاغوتی حکمرانوں کی چاپلوسی و اندھ بھکتی کرتا ہے یا ان کا جھوٹا دفاع کرتا ہے اس کا خود ایمان خطرے میں ہے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ شیخ فارس آل شويل الزهراني رحمہ اللہ پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے، ان کی شہادت کو قبول فرمائے، ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنا دے، اور انہیں انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ اعلیٰ علیین میں جگہ عطا فرمائے۔ آمین۔
وآخر دعوانا أن الحمد للہ رب العالمین، وصلی اللہ وسلم وبارک على نبینا محمد وعلى آلہ وصحبہ أجمعین۔