• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خلیجی ممالک کی چاپلوسی کرنے والوں کے نام شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ کا پیغام

ابو داؤد

مشہور رکن
شمولیت
اپریل 27، 2020
پیغامات
803
ری ایکشن اسکور
224
پوائنٹ
111
خلیجی ممالک کی چاپلوسی کرنے والوں کے نام شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ کا پیغام

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الحمد للّٰہ وحدہ، والصلاۃ والسلام علی من لا نبی بعدہ، وعلی آلہ وصحبہ ومن اتبع ہداہ۔

ہندوستان و پاکستان کے دیسی مدخلیوں نے خود کو اس درجے کی ذلت آمیز چاپلوسی و فکری غلامی میں مبتلا کر لیا ہے کہ وہ خلیجی حکمرانوں خصوصاً سعودیہ کی اندھ بھکتی کو دین اور منہج کا حصہ سمجھ بیٹھے ہیں۔ یہ سیاست دانوں کے جوتے چاٹنے میں اس قدر آگے نکل چکے ہیں کہ نہ حقائق دیکھتے ہیں نہ زمینی حالات پر غور کرتے ہیں۔ دوسری طرف حقیقت یہ ہے کہ خود سعودیہ کے اندر علمی طبقے کی صورتحال نہایت تشویشناک ہے، جہاں متعدد سلفی علماء پر سختیاں، پابندیاں اور قید و بند کی صورتیں سامنے آتی رہی ہیں۔

شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ اس حقیقت کو نہایت سخت الفاظ میں بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

السعودية الآن في سجونها نحو خمسمائة داع إلى الله سبحانه وتعالى: وهي تريد أن تحرق بلدنا كما احترقت بلدها : كثير من الدعاة إلى الله يريدون أن يهربوا إلى أمريكا هنالك من السعوديين ويريدون أن يهربوا إلى السودان إلى أي بلد لأنها أصبحت مقبرة العلماء.

سعودیہ میں اس وقت تقریباً پانچ سو کے قریب اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے والے داعی جیلوں میں بند ہیں۔ اور سعودیہ والے یہ چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک (یمن) میں بھی اسی طرح آگ لگا دے جیسے ان کا اپنا ملک جل رہا ہے۔ بہت سے داعیانِ الی اللہ، جو سعودی باشندوں میں سے ہیں، اب امریکہ یا سوڈان بلکہ کسی بھی ملک کی طرف بھاگ کر بچ نکلنا چاہتے ہیں، کیونکہ وہ ملک اب علماء کے لیے ایک قبرستان بن چکا ہے۔


[المصارعة مقبل الوادعي، ص : ٤٧٥]

5833.jpg

5834.jpg

سعودیہ میں ایک طرف سلفی علماء کرام کو قید و بند اور مبینہ ظلم و سختیوں کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف حکومتی پالیسیوں کی اندھی تائید اور چاپلوسی کو منہج کا لبادہ پہنا کر پیش کرنے والے ذلیل مدخلیوں کو اہم مناصب پر فائز کر کے وہاں مدخلیت کے فکری رجحان کو پھیلایا جا رہا ہے۔

حتی کہ مدینہ یونیورسٹی جیسے اداروں سے ایسے فکری غلام تیار کر کے مختلف ممالک میں بھیجے جا رہے ہیں جو حکمرانوں کی غلامانہ چاپلوسی اور ہر پالیسی کی توجیہ کو ہی "منہجِ سلف" قرار دیتے ہیں۔ اور آنکھیں بند کیے اسی امریکا نواز ریاست کے قصیدے پڑھنے سے نہیں تھکتے۔ مزید سنگین بات یہ ہے کہ یہی ریاست یمن کے بارے میں بھی ایسی پالیسیاں رکھتی ہے جن سے تباہی اور بربادی کے خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ اسی کا پردہ چاک کرتے ہوئے شیخ مقبل بن ہادی الوادعی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

ثم بعد ذلك نسمع من بعض أصحاب البشون من يقول دولتنا خير الدول وحكومتنا خير الحكومات، أنت مغفل يا هذا دولتك مثل الدول ومثل الحكومات، لكن قل شعبنا أحسن الشعوب يعني المجتمع الرجال مثلا في نجد وفي الحجاز، وهؤلاء بقى بقية صالحة طيبة فيهم خير

پھر اس کے بعد ہم سعودیہ کے بعض سادہ لوح لوگوں میں سے یہ بات سنتے ہیں کہ "ہماری ریاست سب سے بہتر ریاست ہے اور ہماری حکومت سب سے بہترین حکومت ہے"۔ اے شخص! تم دھوکے میں ہو، تمہاری ریاست بھی دوسری ریاستوں کی طرح ہے اور تمہاری حکومت بھی دوسری حکومتوں جیسی ہے۔ ہاں، یہ کہو کہ ہماری قوم بہترین قوموں میں سے ہے، یعنی معاشرہ مثلاً نجد اور حجاز کے لوگ ان میں اب بھی نیک اور صالح لوگ موجود ہیں، ان میں خیر باقی ہے۔


[المصارعة مقبل الوادعي، ص : ٤٧٥]

مدخلیوں کا حال یہ ہے کہ انہوں نے اپنی تمام تر توانائی خلیجی ممالک کے سیاستدانوں کی اندھ بھکتی میں کھپا دی ہے۔ نہ انہیں امت کے حقیقی مسائل سے سروکار ہے، نہ دین اسلام سے، نہ اصلاحِ معاشرہ سے بلکہ ان کا اصل مشن یہی بن چکا ہے کہ عوام کو بھی اسی اندھی عقیدت اور حکمرانوں کی غیر مشروط اطاعت کا عادی بنا دیا جائے۔

آپ ہندستان کے ان مدینہ یونیورسٹی سے نکلے دیسی مدخلیوں کا حال دیکھ لیجیے اجمل منظور سنگھی، علیم کلیم برادر، نارائن پوری جیسے بےغیرت مدخلیوں نے اپنی ساری زندگی خلیجی ممالک کے سیاستدانوں کے جوتے چاٹنے میں جھونک دی ہیں، اور اسی اندھی عقیدت کو اہل حدیث عوام میں بھی پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے ہاں بس ایک ہی مشن ہے کہ ہر حال میں حکمرانوں کی اندھ بھکتی کی جائے اور لوگوں کو بھی اسی مدخلیت کی فکری غلامی میں مبتلا کر دیا جائے۔

بہرحال مدخلیوں کا سعودیہ کو کوئی شرعی و اسلامی ریاست بنا کر پیش کرنا صریح دھوکہ ہے؛ یہ بھی دوسری ریاستوں کی طرح ایک امریکی غلام ریاست ہے، جس میں غلط پالیسیاں اور بیرونی اثرات سب موجود ہیں۔ مدخلیوں کا اسے "خیر الدول" اور "بہترین حکومت” کہنا اندھی عقیدت اور چاپلوسی کی علامت ہے جس پر شیخ مقبل بن ہادی الوادعی تنبیہ کی ہے البتہ حکومت اور عوام میں فرق ہے سعودیہ کے اندر، خصوصاً نجد جیسے علاقوں میں آج بھی ایسے موحدین موجود ہیں جن میں دینداری نمایاں ہیں ان میں خیر ہے۔

وما علینا الا البلاغ
 
Top