باب في الرؤيا
باب: خواب کا بیان۔
سنن ابی داود ،باب الرویا
حدیث نمبر: 5020
حدثنا احمد بن حنبل حدثنا هشيم اخبرنا يعلى بن عطاء عن وكيع بن عدس عن عمه ابي رزين قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " الرؤيا على رجل طائر ما لم تعبر فإذا عبرت وقعت قال: واحسبه قال: ولا تقصها إلا على واد او ذي راي ".
ابورزین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خواب پرندے کے پیر پر ہوتا ہے ۱؎ جب تک اس کی تعبیر نہ بیان کر دی جائے، اور جب اس کی تعبیر بیان کر دی جاتی ہے تو وہ واقع ہو جاتا ہے“۔ میرا خیال ہے آپ نے فرمایا ”اور اسے اپنے دوست یا کسی صاحب عقل کے سوا کسی اور سے بیان نہ کرے“۔
(صحیح)
تخریج دارالدعوہ: سنن الترمذی/الرؤیا ۶ (۲۲۷۸)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ۶ (۳۹۱۴)، (تحفة الأشراف: ۱۱۱۷۴)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۴/۱۰، ۱۱، ۱۲، ۱۳) سنن الدارمی/الرؤیا ۱۱ (۲۱۹۴)
وضاحت: ۱؎ : یعنی تعبیر بیان کئے جانے تک اس خواب کے لئے جائے قرار اور ٹھہراؤ نہیں ہوتا۔
-------------------------------------------------
سَمِعْتُ أَبَا قَتَادَةَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: "الرُّؤْيَا مِنَ اللَّهِ، وَالْحُلْمُ مِنَ الشَّيْطَانِ، فَإِذَا رَأَى أَحَدُكُمْ شَيْئًا يَكْرَهُهُ، فَلْيَنْفُثْ عَنْ يَسَارِهِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ لِيَتَعَوَّذْ مِنْ شَرِّهَا، فَإِنَّهَا لَا تَضُرُّهُ".
ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: ”خواب اللہ کی طرف سے ہوتے ہیں اور برے خیالات شیطان کی طرف سے، لہٰذا جب تم میں سے کوئی (خواب میں) ایسی چیز دیکھے جسے وہ ناپسند کرتا ہے، تو اپنے بائیں جانب تین بار تھوکے، پھر اس کے شر سے پناہ طلب کرے تو یہ اسے نقصان نہیں پہنچائے گا“۔
تخریج دارالدعوہ: صحیح البخاری/ الطب ۳۹ (۵۷۴۷)، التعبیر ۳ (۶۹۸۴)، ۱۰ (۶۹۹۵)، ۱۴ (۷۰۰۵)، ۴۶ (۷۰۴۴)، صحیح مسلم/الرؤیا ح ۱ (۲۶۶۱)، سنن الترمذی/الرؤیا ۵ (۲۲۷۷)، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ۳ (۳۹۰۹)، موطا امام مالک/الرؤیا ۱ (۴)، مسند احمد (۵/۲۹۶، ۳۰۳، ۳۰۴، ۳۰۵، ۳۰۹)، سنن الدارمی/الرؤیا ۵ (۲۱۸۷)، (تحفة الأشراف: ۱۲۱۳۵) (صحیح)