Aamir
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 16، 2011
- پیغامات
- 13,382
- ری ایکشن اسکور
- 17,099
- پوائنٹ
- 1,033
خود کشی ایک بزدلانہ عمل
عبدالرحمان اثری حیدرآباد
خودکشی ایک بزدلانہ عمل
دنیا آزمائش وامتحان کی جگہ ہے اسکے اندر انسان پر مختلف حالات آتے ہیں کبھی تو قابل رشک دور سے گذر رہا ھوتا ہے انسان کی زندگی کا موسم بہار ہوتا ہے طرح طرح کی خوشیاں یکے بعد دیگرے اسکے آنگن میں چلی آتی ہیں
حالات کا دھارہ بدلتا ہے انسان کو وقت ابتلاء اپنی آغوش میں لے لیتا ہے انسان زبون حالی کی طرف جانا شروع ہوجاتا ہے
اب ان آزمائش کی گھڑیوں میں انسان کو انتھائی صبر سے گزرنا ھوگا آنے والے حالات کو تقدیر کی قضا تصور کرتے ھوئے زندگی کا حصہ گردانتے ہوئے برداشت کرنا ھوگا ویسے بھی مصائب وتکالیف کا علاج صبر ہے اوران کا ڈٹ کرمقابلہ کرنا ہے نہ کہ خودکشی
افسوس آج کا معاشرہ غربت وتنگدستی کا علاج اپنے معصوم سے پھول جیسے بچے کو بکری کے بچے کے مانند بازار لاکر" کون خریدے گا یہ بچہ "کی صدائیں بلند کرنے میں سمجھ بیٹھا ہے
یا اسکو اس کا علاج اپنے آپ اور گھر والوں کو موت کی ننید سلانے میں نظر آتا ہے
یہ تو بزدلی کا کام ہے جلدی ھمت ہارنے والا کام ہے انسان کودنیا میں رہنے کے لیئے بلند حوصلوں کی ضرورت ہے
آج ہمارے معاشرے میں خودکشی زورافزوں ہے کئی ایک واقعات دیکھنے وسننے کوملتے ہیں کبھی غربت کے مارے آدمی گھر والوں سمیت اپنے آپ کو مارڈالتا ہے ،کبھی اپنے معصوم بچون کو بجلی کے کرنٹ کا لقمہ بنا دیتا ہے
شاید اسکی نظر میں اس غربت کا واحد علاج یہی خود سوزی ہے
ان واقعات کو بڑا اچھالا جارھا ہے اس کا ایک نقصان یہ ہے کہ وہ تنگدست وپریشان حال شخص جس کی سوچ میں اپنی غربت ومصیبت کا یہ بھیانک حل نھیں تھا اب وہ بھی اس بارے میں سوچے گا وہ بھی اپنی جان کے درپے لگ جائے گا
حالانکہ ان واقعات کی پرزور مذمت کرنا ہماری ذمہ داری بنتی ہے
اس انداز سے مصیبتوں کا حل سوچنے والوں کی بھرپور حوصلہ شکنی کی جائے انکو یہ بتایا جائے کہ اتار چڑھاؤ زندگی کا حصہ ہے لھذا آپ جواں ہمت بن کر اس طرح کی ناموافق موجوں کو اپنے آپ سے ٹکرانے دو یہ وقتی طورپراٹھنے والی دھندلاھٹ ہے جو کچھ ہی وقت کے بعد فضا میں محلول ہوکر رہ جائے گی اور دوبارہ آپ کی زندگی کی گاڑی اپنی شاھراہ پر خود ہی گامزن ہوجائے گی
لیکن یہ سب کچھ ان تک کون پھنچائے کون ہے جوان مصیبت زدہ ،پریشان حال ،بھوک کے ماروں کو انگلی پکڑ کر زندگی کی شاہراہ پر لے آئے کون ہے جو ان کو نومیدی کی گھری ننید سے جگا کر اس صبح کی طرف توجہ دلائے جس صبح کو بے سازوسماں پرندے اپنے معصوم بچون کو چھوٹے سے گھونسلے میں چھوڑ کر اپنے پیٹ کی آگ بجانے نکل پڑتے ہیں ان کو یہ بھی معلوم ہے کہ ان کے لیئے کہیں ریلیف کمیپ نہیں کہیں سے امدادی ٹرک ان کی طرف رخ کرنے والے نہیں انھیں اپنے اور بچون کے لیئے خود ہی محنت کرنی ہوگی تو وہ آدمی جسکو اللہ نے دو ہاتھ دیئے دماغ اور عقل دی انکو بروئے کار لاکر وہ توشہ حیات حاصل کرنے سے عاجز کیون بیٹھا ہے ؟
کیا خالی ہاتھ کو جس کا سب کچھ پانی بھاکر لے گا جس کی صرف جان اسکی ساتھ ہے سیدنا عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ کی عظیم خود داری کے ذریعی حوصلہ نہیں دیا جاسکتا جب وہ ھجرت کرکے مدینہ پھنچے تو خالی ہاتھ تھے سعد بن ربیع رضی اللہ عنہ ( جن کو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عوف رضی اللہ عنہ کا بھائی بنا یا تھا )نے کہا کہ میں انصار میں سب سے زیادہ مال دار ہوں آپ میرا مال دو حصوں میں بانٹ کر آدھا لے لیں میری دو بیویاں ہیں ایک کو میں طلاق دیتا ہوں عدت گزرنے کے بعد آپ شادی کرلیں ابن عوف رضی اللہ عنہ نے جواب دیا اللہ آپ کے اہل اور مال میں پرکت دے مجھے بازار کا بتاؤ کہاں ہے بنو قینقاع کا بازار بتلادیا گیا چلے گئے جاکر ذریعہ معاش تلاش کیا کسی کے رحم وکرم پر اپنے آپ کو نہ چھوڑا محنت کی جستجو کی ایک مضبوط حوصلہ اپنے اندر پالےرکھا اور دنیا نے دیکھا کہ مدینہ کی امیر ترین شخصیت بن گئے
یہ سب کچھ کیسے ممکن ہوا صرف اس لیئے کہ وہ جانتے تھے کہ اس قسم کے حالات کا آنا ایک باھمت مرد کے لیئے امتحان کی گھڑی ہوا کرتا ہے اس کو اس باد مخالف سے گھبرانا نہیں ہوتا اور یہ سوچ کر
تندئے باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب
یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لیئے
اسکا مقابلہ کرنا ہوگا
اورحوصلہ پست کرکے امدادی ٹرک میں نظریں ڈال کراپنے آپ کو موت کی ننید سلانے کی گھتی سلجھانے والوں کو اس واقعے سے بنلد حوصلہ پکڑنا چاہیئے اور اپنی طرف آنے والے مخالف حالت کو امتحان کی گھڑی سمجھ کر گذار دینا چاہیئے
ویسے بھی انسان کو جینے کے لیئے ادھر اودھر ہاتھ پیر مارنے پڑتے ہیں پکا پکایا بنا بنایا گھر پر آکر کس کو نہیں ملتا لحاظہ کچھ حوصلے اور محنت کی ضرورت ہے
کیا حوصلہ تھا اس بارہ سالہ بچے کا( جس کی ملاقات معروف صحافی حامد میر سے کراچی کے کس خیمے میں ہوئی ) جو سیلاب کی موجوں میں والدین کھوچکا تھا وہ اپنے چھوتے بھائی کو ساپنوں و ڈاکوؤن سے بچاتا ہوا کراچی کے کسی خیمے میں لایا اس نے کہا اب وہ لاڑکانہ نہیں جائے گا بلکہ کراچی میں مزدوری کرے گا اور اپنے چھوٹے بھائی کو پڑھائے گا حامد میر نے اسکے جذبات سن کر کہا کہ بیٹا کراچی میں آئے دن حالات خراب ہوتے ہیں تم یہاں کیسے رھوگے اس باھمت بچے نے جواب دیا ( جو تمام سیلاب زدگاں ، مصیبت کی چکی میں پسیے جانے والے ، غربت کے زھریلے ناخن سے چھلنی جسم لیئے زندگی کے لمحات کو اپنے اوپر بوجھ محسوس کرکے آلہ قتل ہاتھ میں لیئے اپنے آپ کو اور گھر والوں کو موت کا گھونٹ پلانے کو تیار ہے کے لیئے ایک بھترین سبق ایک عظیم نصیحت اور زاد سفر کی حیثیت رکھتا ہے )کراچی کسی کی جاگیر نہیں یہ شھر غریبوں کی ماں ہے یہاں سب کو روزی ملتی ہے تو اللہ مجھے بھی کراچی میں روزی دیگا
ہمیں مصیبت زدگاں اور زندگی سے ناامیدی کا شکار خودکشی پر تلے ہوئے لوگوں کو یہ بتانا ہوگا کہ اس طرح کے حالات آتے ہیں ان کو برداشت کرنا ہی جواںمردی کا کام ہے محنت کریں جستجو کریں حالات کو اپنے موافق بنانے کی سعی کریں ایک دن آئے گا کہ جو آنکھیں آج آپ کو دیکھ کر ترس کھا رہی ہیں کل وہ آپ پر رشک کریں گی اسکا حل یہ نہیں کہ ریلیف کیمپ میں اینٹوں پھتروں کو تکیہ بناکر ٹیک لگائے موت کا منتظر بن بیٹا جائے یا مختلف طریقوں سے موت کو اپنے اوپر مسلط کیا جائے
بلکہ محنت کی جائے اس بچے کی طرح بلند حوصلہ رکھ کرخود روزی کی تلاش میں نکلا جائے حالات بدلتے جائیں گے آسانیاں ہوتی جائیں گی ایک دن آئے گا کہ انسان اپنے پاؤں پر کھڑا ہوجائے گا
ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ زندگی سے مایوس لوگوں کو حصولہ دیں انہیں احساس کمتری سے نکالنے کی کوشش کریں تانکہ معاشرے میں خودکشی کی شرح میں مزید اضافے کے بجائے کمی لائی جاسکے
دعوت اہلحدیث حیدرآباد 2011/مارچ