• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

خیرات کے متعلق سوال

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
السلام علیکم
اکثر ہمسائے لوگ اور رشتہ دار جب خیرات کرتے ہیں تو کھانے پینے کی چیزیں دے جاتے ہیں یہ پتہ نہیں ہوتا کہ یہ غیراللہ کے نام کی ہے یا اللہ کے نام کی تو میں شک کی بنا پر نہیں کھاتا۔کیا ایسا کرنا جائز ہے؟اور اگر کسی کا مریض ٹھیک ہو جائے؟یا کوئی پریشانی اللہ کے حکم سے ٹل جائے؟تو خیرات کرتے ہیں کہ ہمارا فلاں مسئلہ حل ہو گیا اس لیے ہم نے اللہ کے نام پر خیرات کی ہے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے اور ایسا کھانا کھانا جائز ہے؟
 

ابوالحسن علوی

علمی نگران
رکن انتظامیہ
شمولیت
مارچ 08، 2011
پیغامات
2,521
ری ایکشن اسکور
11,557
پوائنٹ
641
اسلام میں شک کا اعتبار نہیں ہے بلکہ ظن غالب یا یقین کا اعتبار ہے لہذا شک کی بنا پر فیصلہ کرنا درست نہیں ہے۔
اللہ کے لیے نذر ماننا یا صدقہ و خیرات کرنا بالکل ایک جائز عمل ہے اور ایسے صدقہ کو استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔
 

محمد ارسلان

خاص رکن
شمولیت
مارچ 09، 2011
پیغامات
17,859
ری ایکشن اسکور
41,102
پوائنٹ
1,155
اور اگر کسی کا مریض ٹھیک ہو جائے؟یا کوئی پریشانی اللہ کے حکم سے ٹل جائے؟تو خیرات کرتے ہیں کہ ہمارا فلاں مسئلہ حل ہو گیا اس لیے ہم نے اللہ کے نام پر خیرات کی ہے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے اور ایسا کھانا کھانا جائز ہے؟
 
Top