محمد ارسلان
خاص رکن
- شمولیت
- مارچ 09، 2011
- پیغامات
- 17,859
- ری ایکشن اسکور
- 41,102
- پوائنٹ
- 1,155
اس دعا کی جامعیت کی وجہ سے احادیث میں اس کی بہت ترغیب وارد ھوئی ھے-رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ (سورة البقرة201)
'' اے ہمارے رب ہم کو دنیا میں بھی نعمت و بھلائی (یعنی ھر مطلوب ومقصود مثلاً صحت و عافیت وسیع و کشادہ رہائش خوبصورت بیوی وسیع رزق علم نافع عمل صالح عمدہ سواری اور اچھی تعریف وغیرہ) عطا فرما اور آ خرت میں بھی نعمت و بھلائی دے (یعنی میدان حشر کے خوف سے نجات حساب میں آسانی دائیں ہاتھ میں عمال نامہ کا حصول اور بلاآخر جنت میں داخلہ) اور ہمیں دوزخ کی آگ سے محفوظ رکھ''
اس دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے سخت مریض کو شفا عطا فرما دی چنا نچہ حضرت انس رض بیان فرماتے ہیں کہ''نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم کثرت سے دعا کیا کرتے تھے '' اے ہمارے رب ہمیں دنیا و آخرت میں خیروبھلائی عطا فرما اور ہمیں عذاب جہنم سے محفوظ رکھ- (صیح بخاری ،صیح مسلم )
نقل''نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ایک مریض کی عیادت فرما ئی جو پرندے کے ننھے بچے کی طرح ہڈیوں کا ڈھانچہ ھوگیا تھا ''نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اس سے پوچھا ''کیا تم اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا یا سوال کیا کرتے تھے ؟ اس نے جواب دیا ہاں میں یہ دعا کیا کرتا تھا اے اللہ تو نے مجھے جوآخرت میں سزا دینی ھے وہ دنیا میں ھی دے دے- یہ سن کر ''نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمایا سبحان اللہ تمھیں اس کی طاقت و استطاعت کہاں تم نے یہ دعا کیوں نہ کر لی-
رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ
اے اللہ ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرمااور آخرت میں بھی بھلائی عطا فرما اور ہمیں آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ''-
اس نے یہ دعا کی تو اللہ نے اس کو شفا عطا فرما دی''-
جزاکم اللہ خیرارَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً
یہ آیت دراصل ایک دعا ھے جس کے مکمل الفاظ یہ ھیں-
اس دعا کی جامعیت کی وجہ سے احادیث میں اس کی بہت ترغیب وارد ھوئی ھے-
نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم اکثر یہی دعا پڑھا کرتے تھے-
چنا نچہ حضرت انس رض بیان فرماتے ہیں کہ
اس دعا کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے سخت مریض کو شفا عطا فرما دی چنا نچہ حضرت انس رض بیان فرماتے ہیں کہ
نقل