• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

الرحیق المختوم دعوت کی کامیابی اور اثرات

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
دعوت کی کامیابی اور اثرات

اب ہم رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ کے آخری ایام کے تذکرہ تک پہنچ رہے ہیں۔ لیکن اس تذکرہ کے لیے رہوار قلم کو آگے بڑھانے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذرا ٹھہر کر آپ ﷺ کے اس جلیل الشان عمل پر ایک اجمالی نظر ڈالیں، جو آپ کی زندگی کا خلاصہ ہے۔ اور جس کی بناء پر آپ ﷺ کو تمام نبیوں اور پیغمبروں میں یہ امتیازی مقام حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر اوّلین و آخرین کی سیادت کا تاج رکھ دیا۔
آپ ﷺ سے کہا گیا کہ
يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ﴿١﴾ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٢﴾ (۷۳: ۱،۲)
''اے چادر پوش! رات میں کھڑا ہو مگر تھوڑ ا''
اور
يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ‌ ﴿١﴾ قُمْ فَأَنذِرْ‌ ﴿٢﴾ (۷۴: ۱، ۲)
''اے کمبل پوش! اٹھ اور لوگوں کو سنگین انجام سے ڈرا دے۔''
پھر کیا تھا؟ آپ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور اپنے کاندھے پر اس روئے زمین کی سب سے بڑی امانت کا بارِ گراں اٹھائے مسلسل کھڑے رہے۔ یعنی ساری انسانیت کا بوجھ، سارے عقیدے کا بوجھ، اور مختلف میدان میں جنگ و جہاد اور تگ و تاز کا بوجھ۔
آپ نے اس انسانی ضمیر کے میدان میں جنگ و جہاد اور تگ و تاز کا بوجھ اٹھایا جو جاہلیت کے اوہام و تصورات کے اندر غرق تھا۔ جسے زمین اور اس کی گوناگوں کشش کے بار نے بوجھل کر رکھا تھا۔ جو شہوات کی بیڑیوں اور پھندوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اور جب اس ضمیر کو اپنے بعض صحابہ کی صورت میں جاہلیت اور حیاتِ ارضی کے تہہ در تہہ بوجھ سے آزاد کر لیا تو ایک دوسرے میدان میں ایک دوسرا معرکہ، بلکہ معرکوں پر معرکے شروع کر دیے۔ یعنی دعوتِ الٰہی کے وہ دشمن جو دعوت اور اس پر ایمان لانے والوں کے خلاف ٹوٹے پڑ رہے تھے، اور اس پاکیزہ پودے کو پنپنے، مٹی کے اندر جڑ پکڑنے، فضا میں شاخیں لہرانے، اور پھلنے پھولنے سے پہلے اس کی نمود گاہ ہی میں مار ڈالنا چاہتے تھے۔ ان دشمنانِ دعوت کے ساتھ آپ نے پیہم معرکہ آرائیاں شروع کیں۔ اور ابھی آپ ﷺ جزیرۃ العرب کے معرکوں سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ رُوم نے اس نئی امّت کو دبوچنے کے لیے اس کی سرحدوں پر تیاریاں شروع کر دیں۔
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پھر ان تمام کارروائیوں کے دوران ابھی پہلا معرکہ ... یعنی ضمیر کا معرکہ ... ختم نہیں ہوا تھا۔ کیونکہ یہ دائمی معرکہ ہے۔ اس میں شیطان سے مقابلہ ہے۔ اور وہ انسانی ضمیر کی گہرائیوں میں گھس کر اپنی سرگرمیاں جاری رکھتا ہے۔ اور ایک لحظہ کے لیے ڈھیلا نہیں پڑتا۔ محمد ﷺ دعوت الی اللہ کے کام میں جمے ہوئے تھے۔ اور متفرق میدان کے پیہم معرکوں میں مصروف تھے۔ دنیا آپ ﷺ کے قدموں پر ڈھیر تھی۔ مگر آپ ﷺ تنگی و ترشی سے گذر بسر کر رہے تھے۔ اہل ایمان آپ ﷺ کے گردا گرد امن و راحت کا سایہ پھیلا رہے تھے۔ مگر آپﷺ جہد و مشقت اپنائے ہوئے تھے۔ مسلسل اور کڑی محنت سے سابقہ تھا۔ مگر ان سب پر آپ ﷺ نے صبر جمیل اختیار کر رکھا تھا۔ رات میں قیام فرماتے تھے۔ اپنے رب کی عبادت کرتے تھے۔ اس کے قرآن کی ٹھہر ٹھہر کر قراءت کرتے تھے۔ اور ساری دنیا سے کٹ کر اس کی طرف متوجہ ہوجاتے تھے، جیساکہ آپ ﷺ کو حکم دیا گیا تھا۔ (سید قطب فی ظلال القرآن ۲۹/۱۶۸، ۱۶۹)
اس طرح آپ ﷺ نے مسلسل اور پیہم معرکہ آرائی میں بیس برس سے اوپر گذار دیے۔ اور اس دوران آپ ﷺ کو کوئی ایک معاملہ دوسرے معاملے سے غافل نہ کر سکا۔ یہاں تک کہ اسلامی دعوت اتنے بڑے پیمانے پر کامیاب ہوئی کہ عقلیں حیران رہ گئیں۔ سارا جزیرۃ العرب آپ ﷺ کے تابع فرمان ہو گیا۔ اس کے افق سے جاہلیت کا غبار چھٹ گیا۔ بیمار عقلیں تندرست ہو گئیں۔ یہاں تک کہ بتوں کو چھوڑ بلکہ توڑ دیا گیا۔ اور توحید کی آوازوں سے فضا گونجنے لگی۔ اور ایمانِ جدید سے حیات پائے ہوئے صحرا کا شبستانِ وجود اذانوں سے لرزنے لگا۔ اور اس کی پہنائیوں کو اللہ اکبر کی صدائیں چیر نے لگیں۔ قراء، قرآن مجید کی آیتیں تلاوت کرتے اور اللہ کے احکام قائم کرتے ہوئے شمال و جنوب میں پھیل گئے۔
بکھری ہوئی قومیں اور قبیلے ایک ہو گئے۔ انسان، بندوں کی بندگی سے نکل کر اللہ کی بندگی میں داخل ہو گیا۔ اب نہ کوئی قاہر ہے نہ مقہور، نہ مالک ہے نہ مملوک، نہ حاکم ہے نہ محکوم ، نہ ظالم ہے نہ مظلوم، بلکہ سارے لوگ اللہ کے بندے اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ایک دوسرے سے محبت رکھتے ہیں اور اللہ کے احکام بجالاتے ہیں۔ اللہ نے ان سے جاہلیت کا غرور و نخوت اور باپ دادا پر فخر کا خاتمہ کر دیا ہے۔ اب عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، گورے کو کالے پر، کالے کو گورے پر کوئی برتری نہیں۔ برتری کا معیار صرف تقویٰ ہے۔ ورنہ سارے لوگ آدم کی اولاد ہیں اور آدم مٹی سے تھے۔
غرض اس دعوت کی بدولت عربی وحدت، انسانی وحدت، اور اجتماعی عدل وجود میں آ گیا۔ نوعِ انسانی کو دنیاوی مسائل اور اخروی معاملات میں سعادت کی راہ مل گئی۔ بالفاظ دیگر زمانے کی رفتار بدل گئی، روئے زمین متغیر ہو گیا۔ تاریخ کا دھارا مڑ گیا، اور سوچنے کے انداز بدل گئے۔
اس دعوت سے پہلے دنیا پر جاہلیت کی کار فرمائی تھی۔ اس کا ضمیر متعفن تھا اور روح بدبو کر رہی تھی۔ قدریں اور
 

محمد نعیم یونس

خاص رکن
رکن انتظامیہ
شمولیت
اپریل 27، 2013
پیغامات
26,588
ری ایکشن اسکور
6,779
پوائنٹ
1,207
پیمانے مُختل تھے۔ ظلم اور غلامی کا دَور دورہ تھا۔ فَاجرانہ خوش حالی اور تباہ کن محرومی کی موج نے دنیا کو تہ و بالا کر رکھا تھا۔ اس پر کفر و گمراہی کے تاریک اور دبیز پردے پڑے ہوئے تھے۔ حالانکہ آسمانی مذاہب و اَدْیان موجود تھے۔ مگر ان میں تحریف نے جگہ پا لی تھی۔ اور ضُعف سرایت کر گیا تھا۔ اس کی گرفت ختم ہو چکی تھی اور وہ محض بے جان و بے روح قسم کے جامد رسم و رواج کا مجموعہ بن کر رہ گئے تھے۔
جب اس دعوت نے انسانی زندگی پر اپنا اثر دکھایا تو روحِ انسان کو وہم و خرافات، بندگی وغلامی، فساد و تعفن اور گندگی و انارکی سے نجات دلائی۔ اور معاشرہ انسانی کو ظلم و طغیانی، پراگندگی و بربادی، طبقاتی امتیازات، حکام کے استبداد اور کاہنوں کے رسوا کن تسلط سے چھٹکارا دلایا۔ اور دنیا کو عفّت و نظافت، ایجادات و تعمیر، آزادی و تجدّد، معرفت و یقین، وثوق و ایمان، عدالت و کرامت اور عمل کی بنیادوں پر زندگی کی بالیدگی، حیات کی ترقی، اور حقدار کی حق رسائی کے لیے تعمیر کیا۔ (ایضا سید قطب در مقدمہ ماذا خسر العالم بانحطاط المسلمین ص ۱۴)
ان تبدیلیوں کی بدولت جزیرۃ العرب نے ایک ایسی بابرکت اٹھان کا مشاہدہ کیا۔ جس کی نظیر انسانی وجود کے کسی دور میں نہیں دیکھی گئی۔ اور اس جزیرے کی تاریخ اپنی عمر کے ان یگانہ روزگار ایام میں اس طرح جگمگائی کہ اس سے پہلے کبھی نہیں جگمگائی تھی۔
****​
 
Top