- شمولیت
- اپریل 27، 2013
- پیغامات
- 26,588
- ری ایکشن اسکور
- 6,779
- پوائنٹ
- 1,207
دعوت کی کامیابی اور اثرات
اب ہم رسول اللہ ﷺ کی حیات مبارکہ کے آخری ایام کے تذکرہ تک پہنچ رہے ہیں۔ لیکن اس تذکرہ کے لیے رہوار قلم کو آگے بڑھانے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذرا ٹھہر کر آپ ﷺ کے اس جلیل الشان عمل پر ایک اجمالی نظر ڈالیں، جو آپ کی زندگی کا خلاصہ ہے۔ اور جس کی بناء پر آپ ﷺ کو تمام نبیوں اور پیغمبروں میں یہ امتیازی مقام حاصل ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے سر پر اوّلین و آخرین کی سیادت کا تاج رکھ دیا۔
آپ ﷺ سے کہا گیا کہ
يَا أَيُّهَا الْمُزَّمِّلُ ﴿١﴾ قُمِ اللَّيْلَ إِلَّا قَلِيلًا ﴿٢﴾ (۷۳: ۱،۲)
''اے چادر پوش! رات میں کھڑا ہو مگر تھوڑ ا''
اور
يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ ﴿١﴾ قُمْ فَأَنذِرْ ﴿٢﴾ (۷۴: ۱، ۲)
''اے کمبل پوش! اٹھ اور لوگوں کو سنگین انجام سے ڈرا دے۔''
پھر کیا تھا؟ آپ ﷺ اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور اپنے کاندھے پر اس روئے زمین کی سب سے بڑی امانت کا بارِ گراں اٹھائے مسلسل کھڑے رہے۔ یعنی ساری انسانیت کا بوجھ، سارے عقیدے کا بوجھ، اور مختلف میدان میں جنگ و جہاد اور تگ و تاز کا بوجھ۔
آپ نے اس انسانی ضمیر کے میدان میں جنگ و جہاد اور تگ و تاز کا بوجھ اٹھایا جو جاہلیت کے اوہام و تصورات کے اندر غرق تھا۔ جسے زمین اور اس کی گوناگوں کشش کے بار نے بوجھل کر رکھا تھا۔ جو شہوات کی بیڑیوں اور پھندوں میں جکڑا ہوا تھا۔ اور جب اس ضمیر کو اپنے بعض صحابہ کی صورت میں جاہلیت اور حیاتِ ارضی کے تہہ در تہہ بوجھ سے آزاد کر لیا تو ایک دوسرے میدان میں ایک دوسرا معرکہ، بلکہ معرکوں پر معرکے شروع کر دیے۔ یعنی دعوتِ الٰہی کے وہ دشمن جو دعوت اور اس پر ایمان لانے والوں کے خلاف ٹوٹے پڑ رہے تھے، اور اس پاکیزہ پودے کو پنپنے، مٹی کے اندر جڑ پکڑنے، فضا میں شاخیں لہرانے، اور پھلنے پھولنے سے پہلے اس کی نمود گاہ ہی میں مار ڈالنا چاہتے تھے۔ ان دشمنانِ دعوت کے ساتھ آپ نے پیہم معرکہ آرائیاں شروع کیں۔ اور ابھی آپ ﷺ جزیرۃ العرب کے معرکوں سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ رُوم نے اس نئی امّت کو دبوچنے کے لیے اس کی سرحدوں پر تیاریاں شروع کر دیں۔