• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دنیا میں مرتکب کبیرہ کا بیان

شمولیت
مارچ 04، 2025
پیغامات
7
ری ایکشن اسکور
1
پوائنٹ
5
کتاب و سنت کے دلائل سے پتہ چلتا ہے کہ مرتکب کبیرہ مطلق طور پر مومن نہیں ہوتا ہے بلکہ وہ مسلم ہوتا ہے ، یا پھر مومن تو ہوتا ہے لیکن ناقص الایمان ہوتا ہے ۔
حافظ ابن رجب نے فرمایا : اختلف العلماء في مرتكب الكبائر : هل يسمى مؤمنا ناقص الايمان ام لا يسمى مؤمنا وانما يقال هو مسلم وليس بمؤمن [جامع العلم والحکم(۱/۳۲۶)]
ترجمہ: مرتکب کبیرہ کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے کہ کیا وہ مومن ناقص الایمان ہوتا ہے یا بالکل مومن نہیں ہوتا بلکہ یہ کہا گیا ہے کہ وہ مسلم ہوتا ہے نا کہ مومن۔
قال شيخ الاسلام ابن تيمية: كل اهل السنة متفقون على انه (يعني صاحب الكبيره) قد صلب كمال الايمان الواجب فزال بعض ايمانه الواجب لكنه من اهل الوعيد.
ترجمہ: تمام اہل سنّت اس بات پر متفق ہیں کہ مرتکب کبیرہ واجب ایمان کی مکملیت سے محروم ہو جاتا ہے، اور اس کا کچھ ایمان ضائع ہو جاتا ہے، تاہم وہ اہل وعید (عذاب کے مستحق) میں شامل ہوتا ہے۔ [مجموع الفتاوی: (۷/۲۵۸ )]

گناہ کبیرہ کرنےکے باوجود ایمان کا باقی رہنا: قرآن و حدیث کی روشنی میں

قران سے
١۔ قولہ تعالیٰ : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى ۖ الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنثَىٰ بِالْأُنثَىٰ ۚ فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ۗ [البقرۃ: ۱۷۸]
ترجمہ: اے ایمان والو تم پر مقتولوں کا قصاص لینا فرض کیا گیا ہے، آزاد، آزاد کے بدلے , غلام , غلام کے بدلے عورت ,عورت کے بدلے ہاں جس کسی کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ معافی دے دی جائے اسے بھلائی کی اتباع کرنی چاہیے اور آسانی کے ساتھ دیت ادا کرنی چاہیے۔
جو بھی قاتل اللہ پر ایمان رکھتا ہو وہ ایمان سے خارج نہیں ہوتا ہے کیونکہ اسے ولئ قصاص کا بھائی کہا گیا ہے، اور اس میں کوئی شک نہیں کہ اس سے مراد دینی بھائی ہیں۔
[ شرح الطحاویۃ:(۲/۴۴۲)]
٢۔ قولہ سحانہ : وَإِن طَائِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ اقْتَتَلُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَهُمَا ۖ فَإِن بَغَتْ إِحْدَاهُمَا عَلَى الْأُخْرَىٰ فَقَاتِلُوا الَّتِي تَبْغِي حَتَّىٰ تَفِيءَ إِلَىٰ أَمْرِ اللَّهِ ۚ [الحجرات: ۹]
ترجمہ: اور اگر مسلمانوں کی دو جماعتیں آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں میل ملاپ کرا دیا کرو پھر اگر ان دونوں میں سے ایک جماعت دوسری جماعت پر زیادتی کرے تو تم (سب) اس گروہ سے جو زیادتی کرتا ہے لڑو۔ یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف لوٹ آئے۔
وہ آپس میں لڑنے کے باوجود بھی ایمان کی صفت سے متصف ہے حالانکہ وہ کبائرمیں سے ہے۔
٣۔ قولہ جل و علا : إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ ۚ ]ھود: ۱۱۴]
ترجمہ: یقیناً نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں۔
گناہ کے ارتکاب کے باوجود نیکی کا حکم دینا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا بلکہ وہ مسلم ہی ہوتا ہے

سنت سے
۱۔ قولہ ﷺفی السارق: لا تكونوا عونا للشيطان على اخيكم [مسند احمد: (۷/۲۳۲)] ترجمہ: "نبی ﷺ نے چور کے بارے میں فرمایا :تم اپنے بھائی کے خلاف شیطان کا مددگار نہ بنو۔"
اسلام نے چور کو بھی بھائی کہا ہے حالانکہ چوری کرنا گناہِ کبیرہ ہے ۔
۲۔ حدیث أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ،قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : لَا يَزْنِي الزَّانِي حِينَ يَزْنِي وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَشْرَبُ الْخَمْرَ حِينَ يَشْرَبُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَسْرِقُ حِينَ يَسْرِقُ وَهُوَ مُؤْمِنٌ وَلَا يَنْتَهِبُ نُهْبَةً يَرْفَعُ النَّاسُ إِلَيْهِ فِيهَا أَبْصَارَهُمْ حِينَ يَنْتَهِبُهَا وَهُوَ مُؤْمِنٌ [بخاری: ۲۴۷۵]
ترجمہ: ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، زانی مومن رہتے ہوئے زنا نہیں کرسکتا۔ شراب خوار مومن رہتے ہوئے شراب نہیں پی سکتا۔ چور مومن رہتے ہوئے چوری نہیں کرسکتا۔ اور کوئی شخص مومن رہتے ہوئے لوٹ اور غارت گری نہیں کرسکتا کہ لوگوں کی نظریں اس کی طرف اٹھی ہوئی ہوں اور وہ لوٹ رہا ہو،

اجماع سے
امام ابن ابی العز ؒنے فرمایا:
أهل السنۃ متفقون كلهم على ان مرتكب الكبيرۃ لا يكفر كفرا ينقل عن الملۃ بالكليۃ كما قالت الخوارج اذ لو كفر كفرا ينقل عن الملة لكان مرتدا يقتل على كل حال ولا يقبل عفوا ولي القصاص ولا تجري الحدود في الزنا والسرقة والشرب الخمر!
وهذا القول معلوم بطلانه وفساده بالضرورة من دين الاسلام، ومتفقون على انه لا يخرج من الايمان والاسلام، ولا يدخل في الكفر ولا يستحق الخلود مع الكافرين، كما قالت المعتزلة؛ فان قولهم باطل ايضا [شرح الطحاویۃ (۲/ ۴۴۲)]۔
وقال: نصوص الكتاب والسنة والاجماع تدل على ان الزاني والسارق والقاذف لا يقتل، بل يقام عليه الحد، فدل على انه ليس بمرتد ۔
[شرح الطحایۃ (۲/ ۴۴۴)]۔
مذکورہ عبارت کا مفہوم یہ ہے کہ اہل سنت والجماعت کا اتفاق ہے کہ جو شخص کبیرہ گناہ کرتا ہے (جیسے زنا، چوری، یا شراب پینا وغیرہ)، وہ کافر نہیں ہوتااور نہ ہی وہ اسلام سے خارج ہوتا ہے، جیسا کہ خوارج کا کہنا ہے کہ مرتکب کبیرہ کفر کے ذریعے ملتِ اسلامیہ سے مکمل طور پر خارج ہوجاتا ہے۔
حالانکہ اگر ایسا ہوتا تو وہ مرتد سمجھا جاتا اور اسے قتل کر دیا جاتا، نہ اس سے معافی قبول کی جاتی، نہ اس پر قصاص نافذ ہوتا، اور نہ ہی حدود جیسے زنا، چوری یا شراب پینے کے معاملات میں ان پر سزا دی جاتی۔
اہل سنت کا کہنا ہے کہ مرتکب کبیرہ نہ تو ایمان سے خارج ہوتا ہے اور نہ کافر بن جاتا ہے۔ اس کا ایمان برقرار رہتا ہے، اور وہ کافروں کے ساتھ دائمی عذاب میں نہیں رہے گا، جیسے معتزلہ کا عقیدہ ہے کہ مرتکب کبیرہ جنت میں نہیں جا سکے گا۔ اہل سنت اس رائے کو بھی غلط قرار دیتے ہیں۔
نصوص الكتاب والسنة والاجماع تدل على ان الزاني والسارق والقاذف لا يقتل، بل يقام عليه الحد، فدل على انه ليس بمرتد.
ترجمہ: کتاب و سنت اور اجماع سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ زنا، چوری اور قذف جیسے گناہوں کے مرتکب کو قتل نہیں کیا جاتا، بلکہ ان پر حدود نافذ کی جاتی ہیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ مرتد نہیں ہیں۔(شركة الطحاوية ٢-٤٤٤).
ان تمام دلائل سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ مرتکب کبیرہ اسلام سے خارج نہیں ہوتا بلکہ ناقص الایمان ہوتا ہے۔
 
Top