• الحمدللہ محدث فورم کو نئےسافٹ ویئر زین فورو 2.1.7 پر کامیابی سے منتقل کر لیا گیا ہے۔ شکایات و مسائل درج کروانے کے لئے یہاں کلک کریں۔
  • آئیے! مجلس التحقیق الاسلامی کے زیر اہتمام جاری عظیم الشان دعوتی واصلاحی ویب سائٹس کے ساتھ ماہانہ تعاون کریں اور انٹر نیٹ کے میدان میں اسلام کے عالمگیر پیغام کو عام کرنے میں محدث ٹیم کے دست وبازو بنیں ۔تفصیلات جاننے کے لئے یہاں کلک کریں۔

دنیا کی دوڑ :

جوش

مشہور رکن
شمولیت
جون 17، 2014
پیغامات
621
ری ایکشن اسکور
315
پوائنٹ
127
اسی لئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قومیں تمھارے اوپر ایسے پل پڑیں گی جیسے لوگ دسترخوان پر پل پڑتے ھیں صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا اسوقت ہماری تعداد کم ہوگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن تمہارے اندردنیا کی محبت اور موت سے نفرت پیدا ھوجائیگی ۔آج یہی کیفیت ہے
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,069
12278714_617126731758925_9195698566670473585_n (1).jpg



مال و دولت جی لگانے کی چیز نہیں :

_____________________________
عن عقبة قال: صليت وراء النبي صلى الله عليه و سلم بالمدينة العصر فسلم ثم قام مسرعا فتخطى رقاب الناس إلى بعض حجر نسائه ففزع الناس من سرعته فخرج عليهم فرأى أنهم عجبوا من سرعته فقال :" ذكرت شيئا من تبر عندنا فكرهت أن يحبسني ففأمرت بقسمته"

( صحيح البخاري: 813باب من صلى بالناس فذكر حاجة )
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,069
بسم اللہ الرحمن الرحیم !

دنیا کی دولت اور ایمان کی دولت:

تحریر : محسن

فرعون کے جادوگر ، موسیٰ علیہ السلام سے مقابلے کے لیے میدان میں اترنے سے پہلےفرعون سے کہنے لگے :

فَلَمَّا جَاءَ السَّحَرَةُ قَالُوا لِفِرْعَوْنَ أَئِنَّ لَنَا لَأَجْرًا إِن كُنَّا نَحْنُ الْغَالِبِينَ ﴿الشعراء : 41﴾

''جادوگر آکر فرعون سے کہنے لگے کہ اگر ہم جیت گئے تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟''

اور جب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی واضح ہوگیا :

وَيُحِقُّ اللَّـهُ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ (یونس : 82)

''اور اللہ تعالیٰ حق کو اپنے فرمان سے ثابت کردیتا ہے ''

جادو گر حق کو جان اور پہچان گئے اور گلے سے لگا لیا تو فرعون لگا ڈرانے دھمکانے :

لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ (الشعراء : 49 )

'' قسم ہے میں ابھی تمہارے ہاتھ پاؤں الٹے طور پر کاٹ دوں گا اور تم سب کو سولی پر لٹکا دوں گا ''

لیکن ایمان دل میں گھر کر گیا تھا وہی جو کچھ دیر پہلے دنیاوی اجر اور مال و اکرام کے خواہش مند تھے بیک زبان کہنے لگے :

قَالُوا لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ ﴿ ﴾ إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَن كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ (الشعراء : 50۔51)

'' انہوں نے کہا کوئی حرج نہیں، ہم تو اپنے رب کی طرف لوٹنے والے ہیں ہی ( ) اس بنا پر کہ ہم سب سے پہلےایمان والے بنے ہیں ہمیں امید پڑتی ہے کہ ہمارا رب ہماری سب خطائیں معاف فرما دے گا ''

ایک جگہ اللہ مالک الملک کے اس کے الفاظ یوں نقل کیے :

فَلَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ فِي جُذُوعِ النَّخْلِ وَلَتَعْلَمُنَّ أَيُّنَا أَشَدُّ عَذَابًا وَأَبْقَىٰ ( طه : 71)

''(سن لو) میں تمہارے پاؤں الٹے سیدھے کٹوا کر تم سب کو کھجور کے تنوں میں سولی پر لٹکوا دوں گا، اور تمہیں پوری طرح معلوم ہوجائے گا کہ ہم میں سے کس کی مار زیاده سخت اور دیرپا ہے ''

ایمان والوں کا جواب تھا :

قَالُوا لَن نُّؤْثِرَكَ عَلَىٰ مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا ۖ فَاقْضِ مَا أَنتَ قَاضٍ ۖ إِنَّمَا تَقْضِي هَـٰذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا ﴿ ﴾ إِنَّا آمَنَّا بِرَبِّنَا لِيَغْفِرَ لَنَا خَطَايَانَا وَمَا أَكْرَهْتَنَا عَلَيْهِ مِنَ السِّحْرِ ۗ وَاللَّـهُ خَيْرٌ وَأَبْقَىٰ (طه : 72۔73)

''انہوں نے جواب دیا کہ ناممکن ہے کہ ہم تجھے ترجیح دیں ان دلیلوں پر جو ہمارے سامنے آچکیں اور اس اللہ پر جس نے ہمیں پیدا کیا ہے اب تو تو جو کچھ کرنے وﻻ ہے کر گزر، تو جو کچھ بھی حکم چلا سکتا ہے وه اسی دنیوی زندگی میں ہی ہے ( ) ہم (اس امید سے) اپنے پروردگار پرایمان لائے کہ وه ہماری خطائیں معاف فرما دے اور (خاص کر) جادوگری (کا گناه،) جس پر تم نے ہمیں مجبور کیا ہے، اللہ ہی بہتر اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے ۔''

اس واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ جب انسان دنیا دار ہوتا ہے تو نگاہوں اور دل کو مال و دولت سے بڑھ کر کچھ نہیں بھاتا اور جب ایمان دل میں جگہ بنا لیتا ہے تو پھر فکر اپنے گناہوں کی ہوتی ہے اور مالک کائنات سے ملاقات کے لیے تیاری شروع ہو جاتی ہے

اللہ مالک الملک سوچنے اور سمجھنے اور سمجھ کر ،عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے ، آمین

كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَتَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ ﴿ ص: 29﴾
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,069
11202085_966127820122154_7864911217025480947_n.jpg


بسم اللہ الرحمن الرحیم


السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !

سخت اور مشکل گھاٹی

سیدہ أم درداء رضی اللہ عنہا نے سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ کیا وجہ ہے کہ دوسرے لوگوں کی طرح آپ کے دل میں دنیا کے مال و متاع کو حاصل کرنے کی چاہت نہیں ہے ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے سنا ہے کہ تمہارے آگے ایک بہت سخت اور مشکل گھاٹی ہے ، بوجھ اُٹھانے والے اِس گھاٹی کو عبور نہیں کر سکیں گے ، تو میں اس گھاٹی کے لئے اپنے آپ کو ہلکا رکھنا پسند کرتا ہوں

-----------------------------------------------------------

(تخريج مشكاة المصابيح : 5132 ، ، صحيح الجامع : 2001 ، ،
الترغيب والترهيب : 4/134 ، ، صحيح الترغيب : 3177 ، ،
المتجر الرابح : 326 ، ، مجمع الزوائد : 3/100 ، ، الزواجر : 2/239)
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,069
‘‘. ﻭﮦ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﮐﮭﺎﻧﺴﺘﮯ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’

ﺗﻢ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮨﻮ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﺑﮭﺮ ﮐﯽ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪﻭﮞ ﮔﺎ

‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﻧﻌﻤﺘﯿﮟ ﺧﺮﯾﺪ ﮐﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﺮﻭ ﮔﮯ

‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺵ ﮨﻮﮞ ﮔﺎ ‘ ﻣﺠﮭﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ‘‘

ﺍﺱ ﻧﮯ ﺗﮍﭖ ﮐﺮ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ’’ ﮔﻮﯾﺎ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﻟﺖ میں سکون ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ

‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺟﮭﻨﺠﻮﮌﺍ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﭼﮭﺎ ’’ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﮐﯽ ﺗﻼﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ؟ ‘‘

ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﮨﺮﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺍﮨﻤﯿﺖ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﮕﺮ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﻨﻔﯿﻮﺯ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﯽ ﮐﻨﻔﯿﻮﮊﻥ ﻣﯿﮟ ﮨﺎﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺮ ﮨﻼ ﺩﯾﺎ ‘

ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﻭﺭ ﻟﻤﺒﺎ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻗﮩﻘﮩﮯ ﮐﺎ ﺍﺧﺘﺘﺎﻡ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﺎﻧﺴﯽ ﭘﺮ ﮨﻮﺍ ‘ ﻭﮦ ﺩﻡ ﺳﻨﺒﮭﺎﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﺑﻮﻻ ’’ ﮐﺎﮐﺎ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺳﻮﻧﮯ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﮧ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﺩﻭﮞ

ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﯽ ﺑﺠﺎﺋﮯ ﭘﺮﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺵ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﺎ ﮔﺮ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﮧ ﺳﮑﮭﺎﺩﻭﮞ ‘‘

ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﺭﮨﺎ ‘ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ’’ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻭﺟﻮﺩ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﺭﮨﺘﯽ ﮨﯿﮟ۔ ﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺟﻮﺩﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﺎ ﮐﺮ ﻟﻮ ‘ ﺗﻢ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ﭘﺎﺋﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﭘﺎ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺗﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮮ ﺑﻦ ﺟﺎﺋﻮﮔﮯ ‘‘

ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺎﺑﮯ ﮐﯽ ﺑﺎﺕ ﺳﻤﺠﮫ ﻧﮧ ﺁﺋﯽ ‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﺗﺸﮑﯿﮏ ﭘﮍﮪ ﻟﯽ ‘ ﻭﮦ ﺑﻮﻻ ’’ ﺗﻢ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﭘﮍﮬﻮ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﺘﮭﮍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﻧﮕﮯ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ‘‘

ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﺭﯼ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﻮﻻ ’’ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﺑﮭﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻤﺮ ﺳﮯ ﻟﻤﺒﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﻀﺒﻮﻁ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺧﺒﻂ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺗﮭﺎ ‘ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﻭﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﺟﻤﻊ ﮐﺮﺗﺎ ﺭﮨﺎ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﺩﻭﻟﺖ ﺍﻭﺭ ﻋﻤﺎﺭﺕ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺳﮑﻮﻥ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﻧﮧ ﺩﯼ ‘

ﺧﻮﺵ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ‘ ﺍﺱ ﺩﻭﻟﺖ ﻣﻨﺪ ﮐﯽ ﮔﺮﯼ ﭘﮍﯼ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﺑﺮﺳﺘﯽ ﺑﺎﺭﺵ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺍﻣﺎﻥ ﺑﯿﭩﮫ ﮐﺮ ‘‘ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺑﮯ ﺻﺒﺮﯼ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ’’ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ‘‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻗﮩﻘﮩﮧ ﻟﮕﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ ’’ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻢ ﻧﮩﯿﮟ

! ﺗﻢ ﺟﺐ ﺗﮏ ﺗﺎﻧﺒﮯ ﮐﻮﺳﻮﻧﺎ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﺒﻂ ﭘﺎﻟﺘﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺑﮭﭩﮑﺘﮯ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ۔ ﺗﻢ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺳﮑﻮﻥ ﺳﮯ ﺩﻭﺭ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ‘‘ ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺯﻣﯿﻦ ﺳﮯ ﭼﮭﻮﭨﯽ ﺳﯽ ﭨﮩﻨﯽ ﺗﻮﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﺵ ﭘﺮ ﺭﮔﮍ ﮐﺮ ﺑﻮﻻ ’’

ﻟﻮ ﻣﯿﮟ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﺑﺘﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ‘ ﺍﭘﻨﯽ ﺧﻮﺍﮨﺸﻮﮞ ﮐﻮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﺳﮯ ﺁﮔﮯ ﻧﮧ ﻧﮑﻠﻨﮯ ﺩﻭ ‘ ﺟﻮ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺷﮑﺮ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﻮ ﭼﮭﻦ ﮔﯿﺎ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺍﻓﺴﻮﺱ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﻮ ﻣﺎﻧﮓ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﺩﮮ ﺩﻭ ‘ ﺟﻮ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺋﻮ ‘ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺁﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺑﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﻭﺍﭘﺲ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ‘
ﺳﺎﻣﺎﻥ ﺟﻤﻊ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﮨﺠﻮﻡ ﺳﮯ ﭘﺮﮨﯿﺰ ﮐﺮﻭ ‘ ﺗﻨﮩﺎﺋﯽ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮭﯽ ﺑﻨﺎﺋﻮ ‘ ﻣﻔﺘﯽ ﮨﻮ ﺗﺐ ﺑﮭﯽ ﻓﺘﻮﯼٰ ﺟﺎﺭﯼ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘ ﺟﺴﮯ ﺧﺪﺍ ﮈﮬﯿﻞ ﺩﮮ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺱ ﮐﺎﮐﺒﮭﯽ ﺍﺣﺘﺴﺎﺏ ﻧﮧ ﮐﺮﻭ ‘

ﺑﻼ ﺿﺮﻭﺭﺕ ﺳﭻ ﻓﺴﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﮐﻮﺋﯽ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﺳﭻ ﺑﻮﻟﻮ ‘ ﻧﮧ ﭘﻮﭼﮭﮯ ﺗﻮ ﭼﭗ ﺭﮨﻮ ‘ ﻟﻮﮒ ﻟﺬﺕ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﻟﺬﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺑﺮﺍ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ ‘

ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺧﻮﺷﯽ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻥ ﮐﻢ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﯿﺮ ﭘﺮ ﻧﮑﻞ ﺟﺎﺋﻮ ‘ ﺗﻤﮩﯿﮟ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﮑﻮﻥ ﺑﮭﯽ ﻣﻠﮯ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺷﯽ ﺑﮭﯽ ‘

ﺩﯾﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺷﯽ ﮨﮯ ‘ ﻭﺻﻮﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﻏﻢ ‘ ﺩﻭﻟﺖ ﮐﻮ ﺭﻭﮐﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺧﻮﺩ ﺑﮭﯽ ﺭﮎ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ ‘ ﭼﻮﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﭼﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﻮ ﮔﮯ۔

ﺳﺎﺩﮬﻮﺋﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﮔﮯ ﺗﻮ ﺍﻧﺪﺭ ﮐﺎ ﺳﺎﺩﮬﻮ ﺟﺎﮒ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﺎ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺟﮓ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘ ﻭﮦ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﻮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﻧﻌﻤﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺍﮌ ﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ ‘

ﺗﻢ ﺟﺐ ﻋﺰﯾﺰﻭﮞ ‘ ﺭﺷﺘﮯ ﺩﺍﺭﻭﮞ ‘ ﺍﻭﻻﺩ ﺍﻭﺭ ﺩﻭﺳﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﭼﮍﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺟﺎﻥ ﻟﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﺎﺭﺍﺽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺩﺷﻤﻨﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺭﺣﻢ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﻮ ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮫ ﻟﻮ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﺎﻟﻖ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﺠﺮﺕ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﺒﮭﯽ ﮔﮭﺎﭨﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ‘‘

ﺑﺎﺑﮯ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﻟﻤﺒﯽ ﺳﺎﻧﺲ ﻟﯽ ‘ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﮐﮭﻮﻟﯽ ‘ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺮ ﭘﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ

’ ﺟﺎﺋﻮ ﺗﻢ ﭘﺮ ﺭﺣﻤﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﯾﮧ ﭼﮭﺘﺮﯼ ﺁﺧﺮﯼ ﺳﺎﻧﺲ ﺗﮏ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ ‘ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﭼﯿﺰ ﮐﺎ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﮐﺴﯽ ﮐﻮ ﺧﻮﺩ ﻧﮧ ﭼﮭﻮﮌﻧﺎ ‘ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﮐﻮ ﻓﯿﺼﻠﮯ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﺩﯾﻨﺎ ‘ ﯾﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺳﻨﺖ ﮨﮯ ‘

ﺍﻟﻠﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﮐﻮ ﺗﻨﮩﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌﺗﺎ ‘ ﻣﺨﻠﻮﻕ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﺭﮐﮭﻨﺎ ﺟﻮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﺍﺳﮯ ﺟﺎﻧﮯ ﺩﯾﻨﺎ ﻣﮕﺮﺟﻮ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ‘ ﺍﺱ ﭘﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﻧﮧ ﮐﺮﻧﺎ ‘

ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﻋﺎﺩﺕ ﮨﮯ ‘ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮨﻤﯿﺸﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻼ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﺗﻢ ﯾﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﻨﺎ ‘ ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﺮ ﻣﯿﻼ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﮯ ﮔﺎ ‘‘

ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﮐﺎﻣﺮﺍﻥ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮦ ﺩﺭﯼ ﻧﮧ ﮔﯿﺎ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺳﮯ ﺑﻨﺪﮦ ﺑﻨﻨﮯ ﮐﺎ ﻧﺴﺨﮧ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﺗﮭا


جاوید چوہدری
 
شمولیت
اگست 11، 2013
پیغامات
17,073
ری ایکشن اسکور
6,736
پوائنٹ
1,069
........اَلْهٰىكُمُ التَّكَاثُرُۙ............


اگلے روز ابوذرغفاری بہت یاد آئے .....اک مسافر کا سامان ؟...جی نہیں اس سے بھی کہیں کم لے کر ویرانے میں اٹھ آئے ... کہ اب مسافر کا شہر میں جی نہیں لگتا تھا ...اک روز خلیفہ عمر ،رض ، پر برس پڑے ...کہ تم لوگوں نے رسول کا زمانہ بھلا دیا ....جی ہاں وہ عمر کہ جس کی قمیص پر گاہے پندرہ پیوند بھی لگے دیکھے جاتے تھے....اور آج ہم سارا دن شدید محنت سے ، اپنی عبادت کی قیمت پر، بہت سا مال جمع کرتے ہیں ،...ہم کو کب مسافر کا سامان یاد اتا ہے ....درجنوں ملبوسات کہ الماریاں جن سے لبریز ،..ہر رنگ کے جوتے ، کہ ملبوس سے ملتے ہوں ...کھانے پر اسراف ؟.. نہیں اس سے کہیں بڑھ کر...کہ شوکت کا پیمانہ نصف درجن کھانوں سے سجھا دسترخوان ٹھرا ....جناب عمر کو معلوم ہوا کہ فلاں کے گھر دو سالن پکتے ہیں ،تحقیق و پرسش کو چل دیے کہ اس "عیاشی" کا کیا جواز ؟...اور ابوذر ،رض ، نے اس عمر کو صاف کہ دیا کہ تم لوگ رسول کا زمانہ بھلا بیٹھے ...اور صحرا کی جانب نکل گیے ...کہ شہر میں اب جی نہیں لگتا ....اگلے روز ابوذر بہت یاد آئے ..حَتّٰى زُرْتُمُ الْمَقَابِرَؕ........

ابو بکر قدوسی
 
شمولیت
اکتوبر 27، 2016
پیغامات
743
ری ایکشن اسکور
120
پوائنٹ
90
محترم
لیکن دنیا کمانے سے اور اس کی آسائشوں سے جائز فائدہ اٹھانا منع تو نہیں ہے ۔ عبد الرحمن بن عوف اور حضرت عثمان رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس بے حساب دولت تھی اور دونو ں عشرہ مبشرہ میں سے ہیں ۔
کیا اچھا کھانا ،کھانا اور عمدہ پوشاک پہننا غیر اسلامی ہے ۔؟
 
Top