عدیل سلفی
مشہور رکن
- شمولیت
- اپریل 21، 2014
- پیغامات
- 1,723
- ری ایکشن اسکور
- 436
- پوائنٹ
- 197
السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
محترم شیوخ اس روایت کی تحقیق اور حوالہ درکار ہے
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے فرمائش کی کہ ہم کو خوف کی باتیں سناؤ کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے امیر المومنین آدمی سے جس قدر ممکن ہوسکے اتنا عمل کرے کیونکہ جب قیامت قائم ہوگی تو اگر آپ ستر ٧٠ نبیوں کے اعمال لے کر بھی اٹھیں گے تو بھی آپکے اعمال ناقص ثابت ہونگے زیادہ کیا کہوں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر دیر تک سر جھکائے بیٹھے رہے پھر سر اٹھا کر فرمایا اے کعب کچھ اور باتیں بتاؤ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے پھر کہنا شروع کیا اے امیر المومنین اگر دوزخ میں سے بیل کے نتھنے کے برابر سوراخ مشرق کی جانب کھل جائے اور ایک آدمی انتھائی مغرب میں ہو تو اتنے فاصلے کے باوجود اس کا دماغ پکنے لگے یہاں تک کہ اس کی گرمی سے بہہ نکلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک بار پھر کافی دیر تک سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے افاقہ میں آکر فرمایا اے کعب اور سناؤ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا اے امیر المومنین قیامت کے دن دوزخ میدان حشر میں لائی جائے گی اس روز اس کی ستر ہزار مہاریں ہوں گی اور ہر مہار کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہوئے ہوں گے اس طرح اسے کھینچ کر میدان حشر کی طرف لایا جائے گا جب وہ وہاں سے سو ١٠٠ برس کے فاصلے پر آپہنچے گی تو ایک سانس لے گی جس کی شدت سے ہر ایک مقرب فرشتہ اور ہر ایک نبی مرسل گھٹنوں کے بل گر پڑے گا اور پکار اٹھے گا یارب نفسی نفسی یعنی اے میرے پروردگار مجھے بچا مجھے بچا آج اپنے سوا میں کسی کے لئے تجھ سے درخواست نہیں کرتا۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب دوزخ مخلوق سے سو ١٠٠ برس کے فاصلے پر ہوگی تو ایک سانس لے گی جس سے مخلوقات کے دل گرمی کی شدت سے اڑ جائیں گے قرآن مجید میں اس کیفیت کو افئددتهم هواء کہا گیا ہے پھر دوزخ دوسرا سانس لے گی جس سے تمام مقرب فرشتے اور نبی مرسل گھٹنے کے بل گر پڑیں گے اور نفسی نفسی پکاریں گے پھر جب دوزخ تیسرا سانس لے گی تو دل منہ کو الٹ آئیں گے اور عقلیں زائل ہوجائیں گی اور ہر شخص گھبرا کر اپنے اعمال کو دیکھے گا حتی کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کہیں گے کہ اے اللہ بذریعہ اپنی خلت کے جو تو نے مجھے عطا کی تھی آج میں اپنے سوا کسی کے بارے میں درخواست نہیں کرتا اور حضرت موسی علیہ السلام کہیں گے اے رب اپنے کلام کے وسیلے سے آج اپنے سوا کچھ سوال نہیں کرتا حضرت عیسی علیہ السلام کہیں گے اے اللہ تو نے میرا جو اکرام فرمایا تھا اس کی برکت سے آج اپنی جان کے سوا کسی کے لئے کچھ نہیں مانگتا یہاں تک کہ حضرت مریم علیہا السلام جن سے میں پیدا ہوا ان کی نسبت بھی سوال نہیں کرتا
محترم شیوخ اس روایت کی تحقیق اور حوالہ درکار ہے
ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت کعب رضی اللہ عنہ سے فرمائش کی کہ ہم کو خوف کی باتیں سناؤ کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا اے امیر المومنین آدمی سے جس قدر ممکن ہوسکے اتنا عمل کرے کیونکہ جب قیامت قائم ہوگی تو اگر آپ ستر ٧٠ نبیوں کے اعمال لے کر بھی اٹھیں گے تو بھی آپکے اعمال ناقص ثابت ہونگے زیادہ کیا کہوں؟ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ سن کر دیر تک سر جھکائے بیٹھے رہے پھر سر اٹھا کر فرمایا اے کعب کچھ اور باتیں بتاؤ حضرت کعب رضی اللہ عنہ نے پھر کہنا شروع کیا اے امیر المومنین اگر دوزخ میں سے بیل کے نتھنے کے برابر سوراخ مشرق کی جانب کھل جائے اور ایک آدمی انتھائی مغرب میں ہو تو اتنے فاصلے کے باوجود اس کا دماغ پکنے لگے یہاں تک کہ اس کی گرمی سے بہہ نکلے حضرت عمر رضی اللہ عنہ ایک بار پھر کافی دیر تک سر جھکائے خاموش بیٹھے رہے افاقہ میں آکر فرمایا اے کعب اور سناؤ کعب رضی اللہ عنہ نے کہا اے امیر المومنین قیامت کے دن دوزخ میدان حشر میں لائی جائے گی اس روز اس کی ستر ہزار مہاریں ہوں گی اور ہر مہار کو ستر ہزار فرشتے پکڑے ہوئے ہوں گے اس طرح اسے کھینچ کر میدان حشر کی طرف لایا جائے گا جب وہ وہاں سے سو ١٠٠ برس کے فاصلے پر آپہنچے گی تو ایک سانس لے گی جس کی شدت سے ہر ایک مقرب فرشتہ اور ہر ایک نبی مرسل گھٹنوں کے بل گر پڑے گا اور پکار اٹھے گا یارب نفسی نفسی یعنی اے میرے پروردگار مجھے بچا مجھے بچا آج اپنے سوا میں کسی کے لئے تجھ سے درخواست نہیں کرتا۔
ایک دوسری روایت میں ہے کہ جب دوزخ مخلوق سے سو ١٠٠ برس کے فاصلے پر ہوگی تو ایک سانس لے گی جس سے مخلوقات کے دل گرمی کی شدت سے اڑ جائیں گے قرآن مجید میں اس کیفیت کو افئددتهم هواء کہا گیا ہے پھر دوزخ دوسرا سانس لے گی جس سے تمام مقرب فرشتے اور نبی مرسل گھٹنے کے بل گر پڑیں گے اور نفسی نفسی پکاریں گے پھر جب دوزخ تیسرا سانس لے گی تو دل منہ کو الٹ آئیں گے اور عقلیں زائل ہوجائیں گی اور ہر شخص گھبرا کر اپنے اعمال کو دیکھے گا حتی کہ حضرت ابراہیم خلیل اللہ کہیں گے کہ اے اللہ بذریعہ اپنی خلت کے جو تو نے مجھے عطا کی تھی آج میں اپنے سوا کسی کے بارے میں درخواست نہیں کرتا اور حضرت موسی علیہ السلام کہیں گے اے رب اپنے کلام کے وسیلے سے آج اپنے سوا کچھ سوال نہیں کرتا حضرت عیسی علیہ السلام کہیں گے اے اللہ تو نے میرا جو اکرام فرمایا تھا اس کی برکت سے آج اپنی جان کے سوا کسی کے لئے کچھ نہیں مانگتا یہاں تک کہ حضرت مریم علیہا السلام جن سے میں پیدا ہوا ان کی نسبت بھی سوال نہیں کرتا